بوڑھے آدمی کا ایک اہم رول ہے۔ ہر بوڑھا آدمی زندگی کے راستے پر ایک نشانِ راہ (signpost) بن کر کھڑا ہوا ہے۔ وہ زندگی کے راستے پر چلنے والے ہر انسان کو بزبانِ حال یہ بتارہا ہے کہ اے انسان، تیری سب سے بڑی پونچی (asset)ٹائم ہے۔ یہ ٹائم ہر لمحہ گزر رہا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ تو ہوگا، لیکن تیرے پاس ٹائم نہیں ہوگا۔ تیرا وجود ہوگا، لیکن وہ وجود توانائی (energy) سے خالی ہوگا۔ صبح اور شام آتے جاتے رہیں گے، لیکن ان کو اویل (avail) کرنا تمہارے لیے ممکن نہ ہوگا۔ لوگوں کے اندر تمہاری یاد ہوگی، یہ یاد تم کو ڈھونڈے گی، لیکن وہ تم کو نہیں پائے گی۔ تیرے منصوبے پورا ہونے سے پہلے ختم ہوجائیں گے۔ یہ وقت تمہارے اوپر آنے والا ہے۔ وہ ہرحال میں تمہارے اوپر آکر رہے گا۔ مگر نہ تم وقت کو پاؤگے، اور نہ وقت تمہارا انتظار کرنے کے لیے موجود ہو گا۔اردو کے قدیم شاعر میر حسن (1717-1786 )نے بہت پہلے کہا تھا :
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
یہ تجربہ جس طرح دوسروں کے اوپر گزرا، اسی طرح وہ تمہارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وقت کو استعمال کرلو، اس سے پہلے کہ وقت تمہارے استعمال کے لیے موجود نہ رہے۔ وقت کے پیچھے دوڑو، کیوں کہ وقت تمہارے پیچھے دوڑنے والا نہیں ہے۔ تمہارے پیچھے زندگی ہے، لیکن تمہارے آگے موت ہے۔
وقت کی اہمیت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِیَدِ أَحَدِکُمْ فَسِیلَةٌ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا یَقُومَ حَتَّى یَغْرِسَہَا فَلْیَفْعَلْ (مسند احمد، حدیث نمبر 12981)۔ یعنی انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:اگر قیامت آجائے، اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ایک پودا ہو، اور اگر اس کو موقع ہو کہ وہ اس کو زمین میں لگادے تو وہ ضرور ایساکرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔