بڑھاپا کسی آدمی کے لیے فائنل الارم ہوتا ہے۔ بڑھاپے کا مطلب یہ ہے کہ کاؤنٹ ڈاؤن اپنی آخری گنتی پر پہنچ چکا۔ آدمی جب بڑھاپے کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے سارے اعضا کمزور ہوجاتے ہیں۔یہ گویا پیشگی اعلان ہے کہ اب تمھارا آخری وقت آگیا۔ اب اپنی تیاری کو تیز کردو۔ اس حقیقت کو فارسی شاعر سعدی شیرازی (1210-1291ء) نے ان الفاظ میں ادا کیاہے :
کوس رحلت بکوفت دست اجل ای دو چشمم وداع سر بکنید
موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں۔ وہ اس بات کا اعلان ہے کہ کون شخص دنیا میں کامیاب رہا، اور کون شخص ناکام۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں مشغول رہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں کامیابی حاصل ہو جائے۔ اس کے برعکس، جس انسان نے خود کو اگلے دورِ حیات میں کامیابی کے ساتھ داخل نہیں کیا تھا۔ اس کے لیے موت اس بات کا اعلان ہے کہ اس کو ابدی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ ،یَعْنِی الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4258)۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جولذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس حدیث میں موت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کی زندگی ختم ہوگئی، اور اگلا دورِ حیات اس کے لیے شروع ہوگیا۔
اگر آدمی اس انداز پر سوچے تو وہ کبھی عارضی دنیا کو اپنا فوکس نہیں بنائے گا، بلکہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے گا کہ بعد کو آنے والی ابدی زندگی کی بھر پور تیاری کرتا رہے۔جس شخص نے موجودہ دنیا میں اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کی، وہ کامیاب رہا، اور جو شخص جنت کو اپنا نشانۂ حیات بنانے میں ناکام رہا۔ وہی وہ شخص ہے، جو آخر ت میں ابدی طور پر اس حسرت میں رہے گا کہ مَیں حاصل شدہ وقت کو حقیقی مقصد حیات کے لیے استعمال نہ کرسکا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔