Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2017
Al-Risala May 2017

ایمان بالغیب

Urdu · 2 min read

قرآن میں ہدایت یافتہ لوگوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھنے والے(البقرۃ: 3) ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق ، ہدایت یافتہ لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھنے والے بن جائیں۔یہاں ایمان سے مراد لفظی اقرار نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو غیب کے اوپر پورا یقین حاصل ہوجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ یقین کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ وہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی اس معاملے میں مطالعہ اور تدبر کا طریقہ اختیار کرے۔ اس موضوع پر اس کا سنجیدہ غور وفکر اتنا بڑھا ہوا ہو کہ وہ اس کے نزدیک یقینی علم کا درجہ حاصل کرلے۔گویا کہ ایمان بالغیب ایک عمل (process) کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔ آدمی پہلے غیبی حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ پھر یہ دریافت ترقی کرکے اس کے لیے یقین کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کو وہ اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، جس کو ایمان بالغیب کہا گیا ہے۔

ایمان کسی قسم کے تلفظِ کلمہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ گہرے تدبر کے ذریعہ حاصل ہونے والی معرفت کا نام ہے۔ جب کوئی آدمی اس معرفت کے درجے تک پہنچتا ہے تو غیب اس کے لیے شہود بن جاتا ہے۔ وہ تخلیق میں خالق کو دریافت کرلیتا ہے۔ جب کسی آدمی کو یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ جان لیتا ہے کہ تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ اور اس مقصد تخلیق کے مطابق اس کو دنیا میں کس طرح کی زندگی گزارنا ہے۔ اس کی ذمہ داریا ں کیا ہیں، اور اس کے حقوق کیا ۔ وہ زندگی کی معنویت کو بھی جان لیتا ہے، اور موت کی معنویت کو بھی۔ اس کو دنیا اور آخرت دونوں کی حقیقت کا گہرا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ اس معرفت (realization) کے نتیجے میں جو انسان بنتا ہے، اسی انسان کا نام مومن ہے۔ مومن ایک تخلیقی انسان (creative person) ہوتا ہے، اس سے کم کسی چیز کو مومن یا ایمان سمجھنا ، مومن اور ایمان دونوں کا کم تر اندازہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content