Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2017
Al-Risala May 2017

کائناتی نشانیاں

Urdu · 2 min read

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔ اس آیت میں زمین و آسمان سے مراد وہ عالم ہے جس کو کائنات کہا جاتا ہے۔ آیات سے مراد نشانیاں (signs) ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ کائنات میں جو چیزیں ہیں، ان سب کی تخلیق اس طرح کی گئی ہے کہ ہر چیز انسان کے لیے عملاً ایک سبق بن گئی ہے۔ تمام چیزیں روحانی حقیقتوں (spiritual realities) کی مادی تمثیلات (material illustrations) ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سے نصیحت لے، اور اپنے آپ کو خدا کے راستے پر قائم رکھے۔

مثلاً وسیع خلا میں ستاروں کی گردش اس بات کی تمثیل ہے کہ اجتماعی زندگی میں لوگوں کو اپنی سرگرمیاں اس طرح جاری کرنا چاہیے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ گلاب کا درخت بتاتا ہے کہ اگر تم کانٹوں کے پڑوس میں ہو، تب بھی تم پھول بن کر رہنا سیکھو۔ ہرا بھرا درخت بتاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو جمود (stagnation) سے بچاؤ، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو ترقی دیتے رہو۔

شہد کی مکھی اس معاملے میں ایک انوکھی مثال ہے۔ شہد کی مکھی پہاڑوں اور جنگلوں میں اڑتی ہے۔ وہاں مختلف قسم کی چیزیں ہیں، لیکن شہد کی مکھی صرف پھول پر جاکر بیٹھ جاتی ہے، اور پھر خاموشی کے ساتھ پھول سے اس کانکٹر (nectar) نکالتی ہے، اور اڑ جاتی ہے۔

اس طرح کی ایک مثال دودھ دینے والے جانور ہیں۔ دودھ دینے والے جانوروں کو انسان گھاس اور درخت کی پتیاں کھلاتا ہے۔ لیکن دودھ دینے والے جانور انسان کو اس کے بدلے میں جو چیز لوٹاتے ہیں، وہ دودھ ہے۔ اس طرح دودھ دینے والے جانور یہ سبق دے رہے ہیںکہ دوسرا شخص تم کو خواہ ’’گھاس ‘‘ دے، مگر تم اس کو اس کے جواب میں دودھ کا تحفہ لوٹاؤ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content