برٹش سائنس داں نیوٹن کو جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔نیوٹن 1643 میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش سے تین مہینے پہلے اس کے باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بعد کو اس کی ماںدوسری شادی کرکے اپنے نئے شوہر کے پاس چلی گئی۔ اس طرح نیوٹن بچپن ہی میں والدین کی محبت سےعملا محروم ہوگیا۔نیوٹن کے ایک سوانح نگار نے اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:
Basically treated as an orphan, Isaac did not have a happy childhood.
اپنے حالات کی بنا پر نیوٹن کے لیے اس کی خارجی دنیا اس کی دلچسپی کا مرکز نہ بن سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ذہن کی دنیا میں رہنے لگا۔وہ بہت زیادہ سوچنے والا انسان بن گیا۔وہ ہر وقت کائنات کی حقیقت کے بارے میں غور کرنے لگا۔
بچپن کے زمانے میں نیوٹن کی اس حالت کو دیکھ کرلوگ یہ کہنے لگے کہ نیوٹن ایک کھویا ہوا (woolgatherer) انسان ہے۔بعد کو معلوم ہوا کہ نیوٹن کھویا ہوا انسان نہ تھا، بلکہ اس کے حالات نے اس کو ایک ہمہ وقت سوچنے والا انسان بنادیا تھا۔ اس طرح وہ اس قابل ہوگیاکہ وہ اپنے ذہنی امکان (intellectual potential)کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکے۔ وہ اپنے دائمی تدبر کی بنا پر کائنات کی ان حقیقتوں کو دریافت کر لے جو اس سے پہلے انسان کے لیے لا معلوم حقیقتیں بنی ہوئی تھیں۔
یہ نیوٹن کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ نیوٹن کے واقعے کی صورت میں فطرت کی کہانی ہے۔ یہ واقعہ بتارہا ہے کہ انسان کے ساتھ جو تجربہ گزرتا ہے، خواہ بظاہر وہ ایک منفی تجربہ ہو لیکن اس کے اندر ہمیشہ ایک مثبت پہلو موجود ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کے ساتھ ہمیشہ ایک پلس پوائنٹ موجود ہو۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے اس پلس پوائنٹ کو دریافت کرے، اور اس کو استعمال کرکے وہ ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا امید کی دنیا ہے، نہ کہ ناامیدی کی دنیا۔اس حقیقت کو جاننا بلاشبہ کسی انسان کے لیےسب سے بڑی دانش مندی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔