کسی مشن کے ہمیشہ دو تقاضے ہوتے ہیں۔ ایک، اس کا استحکام (consolidation)، اور دوسرا، اس کی توسیع (expansion)۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اسلامی مشن کا جو طریقہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ استحکام پر براہِ راست فوکس دیا جائے۔ مشن جب اپنی جگہ پر مستحکم ہوجائے تو اس کے بعد لازمی طور پر اس کی توسیع کا عمل (process) شروع ہوجاتا ہے۔
مشن کےاستحکام کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرکزی مقام پر افراد پر عمل کرکےایک ٹیم بنائی جائے۔ پھر اس ٹیم کے ذریعے مشن دوسرے علاقوں میں پھیلے۔مشن اگر ایک مرکزی مقام پر مستحکم ہوجائے تو اس کے بعد مشن کی توسیع اپنے آپ ہوتی ہے۔اس کے برعکس اگر توسیع پر زیادہ دھیان دیا جائےتو دونوں ہی کام مؤثر طور پر انجام نہ پائیں گے۔
استحکام کا کام ہمیشہ کسی مقام کو مرکزی حیثیت دے کر انجام پاتا ہے۔جب کہ توسیع کے معاملے میں یہ ہوتا ہے کہ زیادہ بڑے رقبے میں پھیلاؤ کو اہمیت دی جانے لگتی ہے۔استحکام کے نتیجے میں افراد بنتے ہیں، اور توسیع کے طریقے میں عمومی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ مشن میں دونوں چیزوں کی اہمیت ہے۔لیکن مشن میں استحکام کو پہلی ترجیح حاصل ہے۔
مشن کا معاملہ درخت جیسا معاملہ ہے۔ درخت یہ کرتا ہے کہ پہلے وہ اپنے مقام پر اپنی جڑیں پھیلاتا ہے، جب اس کی جڑیں مقامی طور پر جم جاتی ہیں تو درخت مستحکم انداز میں بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ تو اس میںشاخیں اور پتیاں نکلتی ہیں، یہاں تک کہ وہ ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔مشن پہلے اپنے قریبی دائرے میں اپنی جڑیں مستحکم کرتا ہے۔ اس طرح مشن اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے قریبی مقام پر خود اپنی طاقت سے کھڑا ہو جائے۔ جب مشن کو اس طرح مرکزی استحکام حاصل ہو جائے تو اس کے بعد فطری قانون کے مطابق چاروں طرف اس کا پھیلاؤ شروع ہوجاتا، یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ (14:24)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔