انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں وہ جنت میں داخلہ پائے۔جنت اس کے لیے ہےجس کو اللہ کی مغفرت حاصل ہو۔ مغفرت کے بغیر کوئی انسان جنت میں داخلہ نہیں پا سکتا۔قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت کی اصل توبہ ہے۔ اور حقیقی توبہ وہ ہے جو توبۂ نصوح (66:8)ہو۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے خالق نے اس کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس دنیا میں انسان کو آباد کیا گیا ہے، وہ ایک آزمائش (test) کی دنیا ہے۔اس بنا پربار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے ۔ اس کو مذہب کی اصطلاح میں گناہ (sin) کہا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان خطا کے ارتکاب سے بچ نہیں سکتا، اس لیے کو ئی انسان آئیڈیل معنوں میںصالح العمل بھی نہیں بن سکتا۔
ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے جنت کے حصول کی شرط کیا ہے۔ وہ شرط صرف ایک ہے، اور وہ اللہ کی مغفرت (forgiveness)ہے۔جنت کسی بھی انسان کو اپنے عمل کی قیمت کے طور پر نہیں ملے گی، بلکہ اللہ کے انعام کے طور پر ملے گی۔جنت عطیۂ خداوندی کا معاملہ ہے، جنت استحقاقِ انسانی کا معاملہ نہیں۔
ایک حدیثِ رسول میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: قال رسول اللہ : لن یدخل أحدا عملہ الجنة، قالوا: ولا أنت یا رسول اللہ؟ قال: لا، ولا أنا، إلا أن یتغمدنی اللہ بفضل ورحمة (صحیح البخاری: 5673)رسول اللہ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو ہر گز اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، کیا آپ بھی، فرمایا: ہاں، میں بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھ کو اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانک لے۔انسان کا ہر عمل ایک محدود عمل ہے، اور جنت ایک لامحدود نعمت، اور کوئی بھی محدود چیز لا محدود کی قیمت نہیں بن سکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔