قرآن کی سورہ ق میں اہل جنت کا ذکر ہے- اس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: لَہُمْ مَا یَشَاءُونَ فِیہَا وَلَدَیْنَا مَزِیدٌ (50:35) یعنی وہاں ان کے لیے وہ سب ہوگا جو وہ چاہیں۔ اور ہمارے پاس مزید ہے۔
قرآن کی اس آیت میں مزید (more) کا لفظ آیا ہے۔اس مزید کی کوئی حد نہیں- جس طرح اللہ رب العالمین کے کمالات کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح اس کے عنایات کی بھی کوئی حد نہیں ہو سکتی۔ مثلاً اگر کچھ لوگ اپنے عمل سے بر تر استحقاق پیدا کریں تو ان کو انعام بھی یقینا بر تر سطح پر دیا جائے گا۔
قرآن میں اہل جنت کے چار گروہوں کا ذکر ہے۔اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69) یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ قرآن کی اس آیت میں اہل جنت کے چار گروہوں کاذکر ہے، لیکن مذکورہ آیت کے مطابق اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی چار گروہوں کے علاوہ ایک پانچویں گروہ کا اضافہ۔ یہ پانچواں گروہ تخلیقی اہل ایمان کا گروہ ہو سکتا ہے:
Paradise of creative believers
یہ وہ خصوصی اہل ایمان ہیں وہ جو خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑے ہوں، جو ذاتی منصوبہ (self-programming) کے تحت دعوت الی اللہ کا کام کریں، جو تخلیقی مواقع (self-created opportunities) کے مطابق خدا کے مشن کو انجام دیں، جو مقتصد کے مقام پر نہ ٹھہریں، بلکہ السابقون کا درجہ حاصل کریں۔ یہ اس قابل ہوں گے کہ وہ آخرت میں جنتِ مزید کے مستحق قرار پائیں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔