Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala May 2011
Al-Risala May 2011

سوال وجواب

Urdu · 7 min read

میں سی پی ایس کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوں۔ میں غیر مسلموں کو قرآن کا ترجمہ (ہندی، انگریزی) مطالعے کے لیے دیتا ہوں۔ اِس پر بعض لوگوںنے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، غیر مسلم کے لیے قرآن کا چھونا ہی جائز نہیں۔ میں اِس سلسلے میں علماء کا مسلک جاننا چاہتا ہوں ( خرم قریشی، نئی دہلی)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (وفات: 62 ہجری) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف (قرآن) کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے، اور وہ ان کے لیے مصحف لکھ دیتا تھا (إنہ کان إذا أراد أن یتخذ مصحفاً أمر نصرانیاً فنسخہ (المحلی لابن حزم، جلد ۱، صفحہ 84 )

other sourceWords of another person or source

اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے لیے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک مصحف 70 درہم میں لکھا تھا (أن عبد الرحمن بن أبی لیلی کتب لہ نصرانی من اہل الحیرۃ مصحفاً بسبعین درہماً، مصنف عبد الرزاق، باب بیع المصحف، جلد 8، صفحہ 144)۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم ابن حزم الاندلسی (وفات: 656 ہجری) کسی قید اور شرط کے بغیر علی الاطلاق مسِّ قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جولوگ مسِّ قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میںقرآن کی آیت بھی درج تھی۔ رسول اللہ کایہ مکتوب صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی میں مکمل طورپر نقل ہوا ہے۔ ہندستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیر مسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’کفایت المفتی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے، اور اُسے غیر مسلموں کو تبلیغ کے لیے دینا جائز ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک اردو پرچے میں ایک مضمون اِس عنوان کے تحت نگاہ سے گزرا — دعوائے مہدویت اور مولانا وحیدالدین خاں۔ اِسی طرح ایک صاحب نے آپ کے بارے میں کہا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ براہِ کرم، اِن دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں (سید اقبال احمد عمری، تمل ناڈو)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

(1) مذکورہ مضمون میرے بارے میں ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ میںنے ہر گز اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ میںنے جو کچھ کیا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ مہدی کے ظہور کے بارے میںجو حدیثیں آئی ہیں، اپنے فہم کے مطابق، ان کی توجیہہ کی ہے۔ یہ لوگ غالباً اپنے غیر علمی ذہن کی بنا پر توجیہہ (explanation) اور دعویٰ (claim) کا فرق نہیں سمجھتے، حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ظہورِ مہدی کے معاملے کی علمی توجیہہ کرنے کا حق بلا شبہہ اہلِ علم کو حاصل ہے، لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اِس سلسلے میں کوئی دعویٰ کرسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی غیر سنجیدہ انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ — میں مہدی ہوں، سنجیدہ انسان کبھی ایسے الفاظ بول نہیں سکتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مہدی کا رول ایک خدائی رول ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے ہی مہدی کا رول ادا کرے گا۔ ایسی حالت میں مہدی کا دعویٰ کرنا، خدا کے ڈومین (domain) میں داخل ہونا ہے۔

ایک پیغمبر کو حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ — أنا النبی لا کذب (میں نبی ہوں، اِس میں کوئی جھوٹ نہیں) کیوں کہ اس کو خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے براہِ راست یہ بتایا جاتا ہے کہ تم پیغمبر ہو، لیکن مہدی کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق سے، اگر مہدی کا رول ادا کرے، تب بھی اس کے پاس خدا کا فرشتہ یہ بتانے کے لیے نہیں آئے گا کہ تم مہدی ہو۔ ایسی حالت میں کسی انسان کو سرے سے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعوی کرے۔ ایسا دعوی کرنے والا اپنے خود ساختہ دعوے کی بنا پر خدا کے یہاں اپنے معاملے کو مشتبہ کرلے گا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ میں جنتی ہوں۔ ایسا دعویٰ کرنے والا صرف اپنی جنت کو خدا کی نظر میں مشتبہ قرار دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کا جنتی یا مہدی ہونا براہِ راست خدا کے فیصلے کا معاملہ ہے، وہ ہرگز انسان کے فیصلے کا معاملہ نہیں۔ مہدی کے معاملے میں کسی شخص کو صرف توجیہہ وتشریح کا حق حاصل ہے، اِس معاملے میں اُس کو ہر گز دعوے کا حق حاصل نہیں۔ مہدی کا دعویٰ کرنا صرف اپنے آپ کو غیر مہدی ثابت کرنا ہے، وہ ہرگز کسی کے مہدی ہونے کا ثبوت نہیں۔

(2) جو لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں، وہ بلاشبہہ غیر سنجیدہ لوگ ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو میری تحریروں میں وہ مجھ کو پہچان چکے ہوتے۔ اِس قسم کی باتیں بتاتی ہیں کہ انھوںنے میری تحریروں سے مجھ کو نہیں پہچانا۔

میرا اپنا ذاتی احساس اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں اپنے عجز اور بے مائیگی کو سوچتے ہوئے تنہائی میں، اکثر بے اختیار رونے لگتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ میرے بارے میں اگر آخرت میں یہ کہہ دیا جائے کہ تم نے جو کام کیا، وہ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ تم نے کچھ نئی دینی باتیں دریافت کیں، جو کہ متن (text) میں لفظی طورپر موجود نہ تھیں۔ اِسی طرح اگر قیامت میں خدا یہ کہہ دے کہ تمھاری اِن باتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، کیوں کہ میری عظمت وکبریائی اس کے بغیر ہی قائم ہے۔ اِسی طرح فرشتے اگر کہہ دیں کہ ہم تو ابد سے خدا کی تسبیح و تحمید میں لگے ہوئے ہیں، جب کہ تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اِسی طرح پیغمبر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم نے پوری تاریخ میں خدائی سچائی کا اعلان کیا، جب کہ تمھاری کتابیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ اِسی طرح اصحاب رسول اگر یہ کہہ دیں کہ ہم کو اللہ کی توفیق سے، اصحاب رسول کا درجہ ملا، جب کہ ہم نے کبھی تمھارا لٹریچر پڑھا نہیں تھا۔ اِسی طرح اگر ملائکۂ جنت یہ کہہ دیں کہ ہماری فہرست میں جن اہل جنت کا ذکر ہے، اُن میں تمھارے جیسے کسی شخص کا نام درج نہیں، قیامت میںاگر ایسا ہو تو میرا کیا حال ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا صاحب، میں نے اپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشریٰ عامر، پاکستان)

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک منفی ملک کے طور پر وجود میںآیا۔ جس چیز کو پاکستان کے لوگ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کہتے ہیں، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل اینٹی ہندو سوچ (anti-Hindu thinking) کا ایک خوب صورت نام ہے،اور اینٹی ہندو سوچ کا مطلب ہے—اینٹی مدعو سوچ، جو بلاشبہہ اسلام میں حرام ہے۔ پاکستان اولاً اینٹی ہندو فکر کے تحت بنا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ فکر اینٹی آل فکر (anti-all thinking) بن گیا۔ پاکستان کے تمام مسائل دراصل اِسی منفی سوچ (negative thinking) کا نتیجہ ہیں۔

میرے اندازے کے مطابق، اب یہ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پاکستان میں منفی سوچ کا خاتمہ تقریباً ناممکن ہے۔ مجھے امید نہیں کہ اب پاکستان منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب پاکستان میں مثبت بنیادوں پر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ افراد اپنے آپ کو اِس منفی طوفان سے بچائیں۔ سب سے پہلے آپ خود یہ کیجئے کہ آپ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔ اِس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist) بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اِس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ فکرِ اقبال اور فکر مودودی کے خول سے مکمل طورپر باہر آجائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content