ایک ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اُن کو دوسروں سے شکایت تھی کہ وہ اُن کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ اِس معاملے میں غلطی آپ کی ہے، دوسروں کی غلطی نہیں۔ آپ اپنے کو اپنے پوٹیشیل (potential) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ کو آپ کے ایکچول (actual) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے، یعنی اپنے امکان کو واقعہ کی صورت دے دیجئے۔ اِس کے بعد آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔
یہی اکثر با صلاحیت لوگوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ وہ غیر ضروری طورپر دوسرے لوگوں کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیں کہ دوسروں کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں، مگر اِس طرح کے تمام معاملات میںاصل غلطی شکایت کرنے والے کی ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں اپنے امکان کو واقعہ بنانے سے ایک دن پہلے بھی لوگ کسی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اِس دنیا میں کوئی شخص اپنی امکانی صلاحیت کے اعتبار سے تسلیم نہیں کیا جاتا، دنیا اس کو صرف اُس وقت تسلیم کرتی ہے جب کہ اس نے اپنی امکانی صلاحیت کو مسلسل جدو جہد کے ذریعے ایک کھلا واقعہ بنا دیا ہو۔ لوگ عام طورپر ظاہر بیںہوتے ہیں۔وہ امکان کو دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف واقعہ کو دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی شکایت نہ کرے، بلکہ وہ قانونِ فطرت (law of nature) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کرے کہ اپنی ساری طاقت اپنے امکان کو واقعہ بنانے میں لگا دے۔ جس دن ایسا ہوگا، اُس دن لوگ کسی اعلان یا مطالبہ کے بغیر آپ کا اعتراف کرلیں گے۔
آدمی کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدل نہیں سکتا۔ اُس کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بدل کر، دوسروں کو بدل جانے پر مجبور کردے۔ یہی فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کسی کے لیے کوئی استثنا (exception) نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.