Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2005
Al-Risala May 2005

کام کی تلاش

Urdu · 2 min read

۱۴ دسمبر ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے۔ ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ اُنہوں نے اپنا نام محمد عیسیٰ بتایا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں۱۹۹۸ سے بے کار ہوں اور کام کی تلاش میں دلی آیا ہوں۔ اُنہوں نے اپنے کچھ حالات بتائے جس سے اندازہ ہوا کہ انہیں صحیح مشورہ دینے والا کوئی شخص نہیں ملا۔ اُن کے ماں باپ نے بھی غالباً لاڈ پیار کے سوا کوئی ایسی بات نہیں بتائی جوان کی زندگی کی تعمیر کے لیے مفید ہو۔

میں نے کہا کہ میں آپ کو کوئی کام نہیں دے سکتا۔ البتہ میںآپ کو زندگی کی ایک حقیقت بتا سکتا ہوں جو دنیا میں کام پانے کے لیے ضروری ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ—دنیا کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ بے کار ہیں۔ دنیا کو واحد دلچسپی یہ ہے کہ آپ کے اندر کوئی ایسی صلاحیت ہے جو دنیا کے لیے کارآمد ہو۔ آپ کو اگر کام پانا ہے تو اپنے آپ کو کار آمد بنائیے۔ اس کے بعد کام خود آپ کو ڈھونڈھے گا، نہ کہ آپ کام کو ڈھونڈھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے بنانے والے نے اس کو انٹرسٹ کی بنیاد پر بنایا ہے۔ ہر آدمی کا اپنا ایک انٹرسٹ ہے، اور اپنے اس انٹرسٹ کے لیے وہ دوڑ رہا ہے۔ ایسی دنیا میں کامیابی کی صورت صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آپ یہ ثابت کرسکیں کہ آپ دنیا کے انٹرسٹ کو پورا کرسکتے ہیں۔ دنیا کے کام آئیے، اور دنیا آپ کو کام دینے پر مجبور ہوجائے گی۔

کام کی تلاش کا ذہن آدمی کے اندر مایوسی پیدا کرتا ہے۔ اور اپنے آپ کو کار آمد بنانے کا ذہن آدمی کے اندر یقین اورحوصلہ پیدا کرتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں سے امید نہ رکھے۔ وہ اپنے کام کو خود اپنے اندر تلاش کرے۔ وہ اپنی صلاحیت کو دریافت کرے اور اپنی اس صلاحیت کو ترقی دے کر اپنے آپ کو سماج کے لیے کارآمد بنائے۔ وہ اتنی تیاری کرے کہ وہ دوسروں کی ضرورت بن جائے۔ دنیا میں کامیابی کا راز یہی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.