Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2005
Al-Risala May 2005

صلاحیت کا استعمال

Urdu · 2 min read

جب بھی میری ملاقات کسی ذہین آدمی سے ہوتی ہے تو اس کے حالات معلوم ہونے کے بعد اکثر مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ آپ اپنی امکانی صلاحیت کا کمتر استعمال کر رہے ہیں:

You are underusing your potential.

میرا تجربہ ہے کہ اکثر ذہین لوگ اپنی صلاحیت کا وہ استعمال نہیں کر پاتے جو فطرت سے اُنہیں دی گئی ہے۔ مثال کے طورپر ایک شخص جو یونیورسٹی کا اُستاد بننے کے قابل ہے وہ تفریح (entertainment) کی انڈسٹری میں چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ یونیورسٹی کی سروس میںاُتنی کمائی نہیں کرسکتا جتنی کمائی وہ تفریح کی انڈسٹری میںکرسکتا ہے۔

میرے نزدیک یہ انسانی صلاحیت کا ایک کمتر استعمال ہے۔ قلم کو اگر آپ زمین کھودنے کے لیے استعمال کریں تو وہ بھی قلم کا ایک استعمال ہوسکتا ہے۔مگریہ ایک حقیقت ہے کہ قلم کا اعلیٰ استعمال صرف یہ ہے کہ اس کو رائٹنگ کے کام کے لیے استعمال کیا جائے۔

انسان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ ایک مائنڈرکھتا ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے جس کی صلاحیت کسی اور مخلوق میں نہیں۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کا اعلیٰ استعمال کیا ہے۔ کوئی آدمی اگر اپنے باڈی کو خوبصورت کپڑے پہنا لے تو اُس کو انسانی ترقی نہیں کہا جائے گا۔ کیوں کہ خوبصورت کپڑا تو کسی حیوان کے بدن پر بھی پہنایا جاسکتا ہے۔

انسان کی ترقی یہ ہے کہ اس کے اندر اعلیٰ ذہنی سرگرمیاں (intellectual activities) جاری ہوں۔ وہ تخلیقی فکر کا حامل بن سکے۔ وہ ذہن کی سطح پر اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کرے۔ اسی ذہنی سرگرمی سے انسان کی تمام ترقیاں بندھی ہوئی ہیں۔ زندہ انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو ذہنی ترقی کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچائے، وہ علم کی دنیا میں اپنے لیے اعلیٰ مقام حاصل کرسکے۔صلاحیت ایک خدائی عطیہ ہے، صلاحیت کا کم تر استعمال عطیہ کی ناقدری کے ہم معنٰی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.