Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2005
Al-Risala May 2005

مستقبل کا انتظار

Urdu · 2 min read

کوئی شخص اگر مجھ سے پوچھے کہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے زیادہ یقینی فارمولا ایک لفظ میں کیا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ سنگل پوائنٹ فارمولا صبر ہے۔ صبر کو اس معاملہ میں مشکل کُشا کی حیثیت حاصل ہے۔ تدبیر کار سمجھ میں آئے یا نہ سمجھ میں آئے، دونوں حالتوں میں صبر کرلیناہی آخر کار کامیاب ہونے کے لیے کافی ہے۔

صبر کیا ہے۔ صبر نہ تو بے ہمتی ہے اور نہ بے عملی۔ صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک گہری عملی تدبیر ہے۔ صبر اُسی طرح ایک تدبیری عمل ہے جس طرح دوسرا کوئی عمل تدبیری عمل ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی نتیجہ کو حال میں پانا چاہتا ہے۔ اور صبر والا آدمی نتیجہ کے معاملہ کو مستقبل کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ ایک اُردو شاعر نے کہا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

یہ بظاہر ایک شاعرانہ بات ہے۔ مگر وہ شاعرانہ اُسلوب میںایک فطری حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام تعمیر کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ یہاں ہر تخریب کے بعد اپنے آپ ایسے اسباب فراہم ہونے لگتے ہیں جو اس کی نئی تعمیر کر سکیں۔ ایسی حالت میں صبر کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کی تعمیری طاقتوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا سکیں۔

ہمارے جسم میں اگر کوئی زخم آجائے یا جسمانی نظام میں کوئی خرابی واقع ہوجائے تو جسم کا داخلی نظام اپنے آپ اس کی مرمّت اور درستگی میں لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جسم دوبارہ اپنی اصل حالت پر آجاتا ہے۔ یہی معاملہ جسم سے باہر کی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے تو فطرت کا نظام اپنے آپ اس کی اصلاح کے لیے متحرک ہوجاتا ہے۔ اگر انسان صبر کرے اور انتظار کی روش اختیار کرے تو جلد ہی وہ دیکھے گا کہ اس کی براہِ راست کوشش کے بغیر سارا مسئلہ اُسی طرح حل ہوگیا ہے جیسا کہ وہ خود چاہتا تھا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content