Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2005
Al-Risala May 2005

بامقصد زندگی

Urdu · 2 min read

انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ انسان جو سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کا ایک واضح مقصد متعین کرے ۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے سامنے کوئی واضح مقصد نہ ہو۔ وہ حالات یا خواہشات کے تحت کبھی ایک کام کرے، اور کبھی دوسرا کام کرنے میں لگ جائے۔ پہلی قسم کے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ ہمیشہ ناکام۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق کوئی سادہ فرق نہیں۔ ان سے دو الگ الگ قسم کی زندگیاں بنتی ہیں۔ جو آدمی اس طرح زندگی گذارے کہ اُس کے سامنے ایک واضح نشانہ ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہی نشانہ اُس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے گا۔ وہ اُسی کے لیے سوچے گا ۔ اُس کے تمام جذبات اُسی کے ساتھ جڑ جائیں گے۔ وہ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اسی ایک کام میںصرف کرے گا۔ وہ اپنی ساری پونجی اسی راہ میں لگا دے گا۔ اسی مقصد کے تحت وہ کسی سے کٹے گا اور کسی کے ساتھ جڑ جائے گا۔ اسی کے مطابق، وہ کسی کو اپنا دوست بنائے گا اور کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ وہ اسی کے ساتھ اپنی شام کرے گا اور اسی کے ساتھ اس کی صبح طلوع ہوگی۔

اس قسم کی زندگی کا انجام پیشگی طورپر معلوم ہے، اور وہ انجام یہ ہے کہ ایسا شخص یقینی طورپر کامیاب ہوکر رہتا ہے۔ اپنی نادانی کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ناکام کرنے والی نہیں۔

اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جس کے سامنے زندگی کا کوئی واضح مقصد نہ ہو۔ ایسا انسان سمت کے شعور (sense of direction) سے محروم رہے گا۔ اس کی سوچ اور اس کا عمل دونوں مختلف راہوں میں بکھرے رہیں گے۔ وہ اپنی پونجی کو بے فائدہ طورپر اِدھر اُدھر ضائع کرتا رہے گا۔ وہ اپنی طاقت کو مختلف میدانوں میں بکھیر کر خود ہی اپنے آپ کو کمزور بنا لے گا۔ ایسے آدمی کا انجام یقینی طورپر تباہی ہے۔ وہ ناکامی کی زندگی گذارے گا اور آخر کار ناکام حالت میں مرجائے گا۔بامقصد زندگی کا نام کامیاب زندگی ہے، اور بے مقصد زندگی کا نام ناکام زندگی ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.