رمضان کے مہینہ میں جو اعمال کیے جاتے ہیں ان میں ایک اہم عمل اعتکاف ہے۔ اعتکاف کے سلسلے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ - صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِی الْمُعْتَکِفِ:’’ہُوَ یَعْکِفُ الذُّنُوبَ‘‘ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1781)۔ یعنی ابن عباس نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے انسان کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے ۔
اصطلاحی طور پر اعتکاف وہی ہے جو رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں کیا جاتا ہے۔ یہ جسمانی اعتکاف ہے، اوریہ اعتکاف چند دنوں کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن اعتکاف کی ایک اور قسم ہے۔ اس کو فکری اعتکاف (intellectual seclusion) کہا جاسکتا ہے۔ فکری اعتکاف پوری زندگی کا عمل ہے۔ یہ اعتکاف ہر وقت اور ہر جگہ جاری رہتا ہے۔ اس اعتکاف میں آدمی اپنا زیادہ وقت تفکر اور تدبر میں گزارتا ہے۔ وہ دین کی باتوں میں غور کرتا ہے، اور اپنے آس پاس کی دنیا سے دینی سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ روحانی اعتکاف میں مشغول رہتا ہے۔
روزہ ایسا عمل ہے جس کا فائدہ ہر روزہ دار کو ملتا ہے۔ اعتکاف ، روزہ داروں کو تربیتِ مزید کا موقع دینا ہے۔ اعتکاف سے یہ مطلوب ہے کہ انسان دنیا کے ڈسٹریکشن سے دور ہو کر اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ ذکر و شکر میں مشغول کرے۔اس درمیان روزہ دار اپنےآپ کوپوری طرح صرف خدا کی عبادت کرنے اور معرفت حاصل کرنے کے لیے مخصوص کردیتا ہے، وہ قرآن میں تدبر کرتا ہے اور ان روحانی فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا ہے جن کے لیے روزہ فرض کیا گیا ہے۔
اعتکاف دنیا سے دور بھاگنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک تربیتی عمل ہے جس کے ذریعہ آدمی دنیا میں رہ کر دنیا کے ڈسٹریکشن سے بچ سکے۔ یہ دنیا سے الگ ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ دس دنوں کا ایک ایسا تربیتی مرحلہ ہے جس کے بعد آدمی اعلی معرفت کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے،وہ زیادہ سے زیادہ اپنا انٹلکچول ڈولپمنٹ کرے تاکہ تزکیۂ نفس کا جذبہ اس کےاندر پہلے سے زیادہ پیدا ہو جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔