دینِ اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر ہے— قرآن، سنت، اجتہاد- ان تینوں مآخذ کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— نظریہ، تطبیق، تطبیقِ نو:
Ideology, application, reapplication
قرآن میں دین کے فکری یا نظریاتی پہلو کو بیان کیاگیا ہے- سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس اسلامی فکر کو کس طرح اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا- اجتہاد اُس سنجیدہ کوشش کا نام ہے جب کہ ایک صاحبِ ایمان اِس دین کو نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ دریافت کرے، اور اُس کا حقیقی پیرو بن جائے-
اجتہاد، اسلام کی ایک مستقل ضرورت ہے- اسلام کی تعلیمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں، لیکن انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کے بدلنے سے حکم نہیں بدلتا بلکہ حکم کی تطبیق کے طریقے بدل جاتے ہیں- یہ زندگی کی ایک ایسی ضرورت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، اِس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی صحابہ نے اجتہاد کیا، اور بعد کے زمانے میں بھی یہ اجتہاد جاری رہے گا-
موجودہ زمانے میں ایک قابل اجتہاد بات یہ ہے کہ قدیم اور جدید کے فرق کو سمجھا جائے اور اس فرق کے اعتبار سے دینی حکم کی تطبیق تلاش کی جائے- مثلاً قرآن کی اشاعت ایک ابدی حکم ہے، اور قرآن ہی دعوت اسلام کا سب سے بڑا ذریعہ ہے- پرنٹنگ پریس سے پہلے قرآن کی اشاعت کا کام اِس طرح کیا جاتا تھا کہ صحابہ قرآن کے مقری (پڑھ کر سنانے والا) بنے ہوئے تھے- اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں اہلِ ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ قرآن کے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں، یعنی مطبوعہ نسخوں کو پھیلانے والے- اِس مثال سے اجتہاد کی دوسری صورتوں کو سمجھا جاسکتا ہے-اجتہاد یا تطبیق نو کا کوئی لگا بندھا اصول نہیں- اجتہاد کے لئے بیک وقت دو صلاحیتیں درکار ہیں، اصل دین اور حالاتِ زمانہ، دونوں سے گہری واقفیت-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔