تخلیقیت (creativity) ذہنی ارتقا کا ایک درجہ ہے- تخلیقیت کسی انسان کی اعلیٰ ترین صفت ہے- تخلیقیت کا مطلب ہے گہرے غوروفکر کے ذریعہ کوئی نئی بات دریافت کرنا:
To discover a new idea after deep thinking
تخلیقیت کے دو درجے ہیں- ایک خاص، اور دوسرا عام- تخلیقیت کا پہلا درجہ ہے خود سے کوئی نئی بات دریافت کرنا-تخلیقیت کا دوسرا درجہ ہے کوئی چیز سن کر یا پڑھ کر اس میں نیا پہلو دریافت کرنا- ان دونوں درجوں کو درج ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:
(1) Creativity of the first order
(2) Creativity of the second order
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (2:87) اس آیت پر غور کرکے آپ نے یہ دریافت کیا کہ روح القدس کا معاملہ محدود معنوں میں فضیلت ِ انسان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ رحمت خداوندی کا معاملہ ہے- اور رحمت خداوندی ہمیشہ عام ہوتی ہے- جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کے لئے وقف کرے اور اس راہ میں کامل عجز کا ثبوت دے تو وہ اس خصوصی تائید الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے، جس کو قرآن میں روح القدس کہا گیا ہے- یہ تخلیقیت کا اعلی درجہ ہے-تخلیقیت کا ثانوی درجہ یہ ہے کہ آپ نے ایسی ایک تحریر کو پڑھا اور اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا اور پھر آپ نے اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے اس تحریر کوزیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھا- مثلاً آپ نے عجز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عجز (helplessness) کا عمل (function) یہ ہے کہ وہ آدمی کی داخلی روح(inner soul) کو آخری حد تک بیدار کردیتاہے- اس وقت آدمی کی زبان سے ایسے خصوصی کلمات نکلتے ہیں جو خدا کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں- یہ عبدیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی بندۂ خاص کو روح القدس کا مستحق بناتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔