Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala March 2013
Al-Risala March 2013

سوال وجواب

Urdu · 5 min read

حال ہی میں دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی - لوگوں میں کافی غم وغصہ ہےاور ہر آدمی مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کی حکومت سے ڈمانڈ کررہا ہے- براہِ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا اسلام میں کسی بھی بڑے سے بڑے گناہ کے لیے پھانسی کی سزا ہے یا نہیں- (حافظ احمد علی، اڑیسہ)

انڈیا ایک سیکولر ملک ہے- یہاں کسی جرم کی سزا یہاں کے ملکی قانون (law of land) کے مطابق ہوتی ہے- انڈیا کے سیاق میں، اسلامی قانون کے نفاذ کی بحث کرنا ایک غیر متعلق بات ہے- اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے-جہاں تک اصولی اعتبار سے، پھانسی کی سزا کا تعلق ہے، اسلام کے قوانین میں پھانسی کی سزا کا ذکر نہیں- لیکن پھانسی کی سزا کو غیر اسلامی نہیں کہا جاسکتا- اسلام میں قانون کی دو صورتیں ہیں — ایک، شرعی حد اور دوسرے، حاکم کی طرف سے دی ہوئی تعزیری سزا (executive order) -اسلامی اصول کے مطابق، حاکم کو یہ حق ہے کہ وہ مخصوص حالات کی بنا پر کسی فرد کے لیے کسی مخصوص سزا کا نفاذ کرے- البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ شرعی حد کی حیثیت ایک عمومی قانون کی ہے، لیکن تعزیر ایک استثنائی سزا ہے، اس کی حیثیت قانون کی نہیں- اِس دوسرے قسم کے قانونی اختیار کو اصطلاح میں حاکم کا اختیارِ تمییزی (discretionary power)کہاجاتاہے-

آپ کی تصنیف ’’کتابِ معرفت‘‘ زیر مطالعہ ہے- بہت اہم موضوعات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئیہے- آپ کے خلاف منفی باتیں پھیلانے والوں کے لئے یہ کتاب ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے- آپ کے خلاف بہت کچھ پڑھنے کو ملا، البتہ مجھ سمیت بیدار مغز افراد کی ایک بڑی تعداد نے اِس کا کوئی نوٹس نہیں لیا- خدائے برحق آپ کے بدخواہوں کو ضرور ناکام کرے گا- ’’صبح کشمیر‘‘ خاص کر ریاست جموں وکشمیر کے باشندوں کے لئے بہت چشم کُشا ہے- مجھے ابھی تک یاد ہے کہ 1991 میں جب کہ وادی بھر میں تحریک زوروں پر تھی، آپ نے صاف صاف بتایا تھا کہ ’’فیصلے بندوق سے نہیں ہوتے‘‘- جناب کا فرماناصحیح نکلا کہ باہمی بات چیت سے ہی مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے-(حسن ساہو، کشمیر)

other sourceWords of another person or source

کشمیر کے معاملے میں، میری جو کتاب ’’صبح کشمیر‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک طے شدہ اشو (settled issue) ہے- میں نے کشمیر کے موضوع کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ہے- میرا ماننا یہ ہے کہ جن لوگوں نے کشمیر کے سوال کو لے کر کشمیر میں احتجاجی مہم چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے- اِس کے بعد جن لوگوں نے کشمیر کے سوال پر کشمیر میں عسکری تحریک (militancy) چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے- اب جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو ہم گفت وشنید یا ریفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے، وہ بھی غلطی پر ہیں- اِس قسم کی تمام باتیں ’’مشتے بعد از جنگ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں- یقینی طورپر اُن کا کوئی بھی فائدہ نہیں- اِس قسم کی کوئی بھی تحریک خواہ بظاہر وہ پُرامن ہو، وہ صرف کشمیریوں کے مسائل میں اضافہ کرنے والی ہے، وہ ہرگز کشمیریوں کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں-

میں نے 1993 میں ہندستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا تھا- اِس مضمون میں کشمیری تحریک اور پنجاب (انڈیا) کی خالصہ تحریک دونوں کے بارے میں، میں نے ایک ہی بات کہی تھی- وہ یہ کہ دونوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے — حقیقت کا اعتراف (acceptance of reality)- قومی معاملات میں فیصلے بار بار بدلتے نہیں- یہ تاریخ کا اٹل قانون ہے- اِس تاریخی اصول سے ٹکرانا صرف اپنی تباہی میں دوبارہ اضافہ کرنا ہے- مثلاً پاکستان کی قیادت اگر یہ چاہے کہ بنگلہ دیش دوبارہ مشرقی پاکستان بن جائے، تو یقینی طورپر یہ ناممکن ہوگا- اِسی طرح پاکستانی قیادت اگر یہ چاہے کہ جموں وکشمیر انڈیا سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائے تو یہ بھی بلا شبہہ ایک ناممکن بات ہے-اِس طرح کے معاملات میں مشہور فارمولا منطبق ہوتا ہے کہ — سیاست ممکنات کا کھیل ہے:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

Politics is the art of the possible.

یہ ایک حقیقت ہے کہ جموں وکشمیر کا سیاسی فیصلہ 1947 میں ہوچکا ہے- اِسی طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش کا سیاسی فیصلہ 1971میں ہوچکا - اِسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب کا سیاسی فیصلہ 1947 میں ہوچکا- اِن سیاسی فیصلوں کو جو لوگ بدلنا چاہیں، وہ قانونِ سیاست کی اے بی سی ڈی بھی نہیں جانتے-

یہ ایک ایسا اصول ہے جو علمِ سیاست سے بھی ثابت ہوتاہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی- جیسا کہ معلوم ہے، کعبہ کو حضرت ابراہیم نے تقریباً چار ہزار سال پہلے تعمیر کیا تھا- بعد کو مشرکین نے اس کی نئی تعمیر کی اور اس کی اصل بنیاد کو بدل دیا- چناں چہ موجودہ کعبہ مشرکین کی بنیاد پر کھڑاہوا ہے، نہ کہ حضرت ابراہیم کی قائم کردہ بنیاد پر- صحیح البخاری میں یہ روایت موجود ہے کہ پیغمبر اسلام نے کعبہ کی بنیاد میں اِس تغیر کو جانتے ہوئے اس کی تصحیح نہیں کی، اُس کو علی حالہ قائم رہنے دیا اور وہ اب تک اُسی طرح قائم ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا- اِس کا سبب یہ تھا کہ 610 عیسوی میں جب پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی، اُس وقت کعبہ کی قدیم بنیاد ایک تاریخی واقعہ بن چکی تھی اور اب اِس تاریخی واقعے کو بدلنا عملاً ناممکن ہوگیا تھا- اِس لیے آپ نےکعبہ کو قدیم بنیاد پر علی حالہ قائم رہنے دیا- اِس طرح، پیغمبر اسلام نے یہ نظیر قائم کی کہ جو چیز تاریخ کی حیثیت اختیار کرلے، اُس کو ناکام طورپر بدلنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ اس کو ایز اٹ از (as it is) تسلیم کرلو، کیوں کہ تاریخ کے فیصلے کو بدلنا صرف تباہی میں اضافہ کرنا ہے، نہ کہ صورتِ حال میںاصلاح کرنا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content