انسان ایک ایسے مخلوق ہے جس کو زندگی گزارنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے- مثلاً پانی اورروشنی اور آکسیجن، وغیرہ- اِس طرح کے بے شمار آئٹم ہیں جو انسان کی بقاءِ حیات کے لیے لازمی طورپر ضروری ہےہیں- یہ تمام سامانِ حیات ہماری دنیامیں وافر طورپر موجود ہے-
اسبابِ حیات کے اِس مجموعہ کو لائف سپورٹ سسٹم (life-support system)کہا جاتا ہے- اِسی طرح ایک بندہ مومن کو ایمان کی زندگی گزارنے کے لیے کچھ ضروری اسباب کی ضرورت ہوتی ہے- عیش کےاسباب نہیں، بلکہ سچی دینی زندگی گزارنے کے لیے ضروری اسباب- اِن اسباب کو ایک لفظ میں، ایمان سپورٹ سسٹم کہاجاسکتا ہے-
ایک مسنون دعا اِن الفاظ میں آئی ہے: اللہم إنی أسئلک العفوَ والعافیة (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 5074 ) یعنی اے اللہ، میں تجھ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتا ہوں- اِس دعا میں عافیت سے مراد یہی ایمان سپورٹ سسٹم (Iman-support system)ہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اِن الفاظ میں آئی ہے: مَن أصبحَ مِنکُم آمِنًا فی سِربہ، معافى فی جسَدِہ ، عندَہُ قُوتُ یَومِہ، فکأنّما حِیزَتْ لہ الدُّنْیا بحذافیرہا(سنن الترمذی، رقم الحدیث:2346) یعنی جو شخص اِس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں مامون ہو، اس کا جسم صحت مند ہو، اس کے پاس اُس دن کی خوراک موجود ہو تو گویا کہ اس کو ساری دنیا د ے دی گئی-
اِس حدیث کے مطابق، مومن کی یہی تین ضرورتیں ہیں- جس مومن کو یہ تین چیزیں حاصل ہوں، اُس کو گویا ایمان سپورٹ سسٹم حاصل ہوگیا— بیت کی توسیع کے ساتھ گھر اور دفتر، اِسی طرح خادم کی توسیع کے ساتھ کمیونکیشن کے ذرائع، اور روٹی اور پانی کی توسیع کے ساتھ صحت بخش غذا- یہ چیزیں جس کو حاصل ہوجائیں، اس کو گویا شکر کا سب سے بڑا خزانہ حاصل ہوگیا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔