قرآن کی سورہ الاحزاب میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں انسانی زندگی کے لیے بہترین نمونہ (good example) ہے- جو شخص پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے اور آپ کے نمونوں کو اپنی زندگی میں اپنائے، وہ یقیناً اللہ کی رحمت کا مستحق بن جائے گا- اس کو دنیا کی سعادت بھی حاصل ہوگی اور آخرت کی سعادت بھی-
تاہم نمونے کا موجود ہونا اور کسی انسان کی زندگی میں اس کا واقعہ بننا دو الگ الگ چیزیں ہیں- پیغمبر اسلام کا نمونہ عملاً کسی شخص کی زندگی میں صرف اُس وقت شامل ہوگا، جب کہ و ہ شخص سنجیدہ ہو اور حقیقی معنوں میں پیغمبر کا پیرو بننا چاہے-
پیغمبر اسلام کا نمونہ کسی شخص کی زندگی میں عملی طورپر صرف اُس وقت شامل ہوتاہے، جب قرآن کے مطابق، اس کے اندر یہ لازمی شرط پائی جائے — وہ یہ سوچتا ہو کہ ایک دن اس کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، جو آخرت کی جواب دہی (accountability) کے لیے فکر مند ہو، جس کے اندر خدا رخی تفکیر (God-oriented thinking) پوری طرح موجود ہو- یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان کو اِس قابل بناتی ہیں کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ پیغمبر اسلام کی زندگی پر غور کرے- صرف ایسا ہی شخص اپنے لیے پیغمبر اسلام کی زندگی میں نمونہ دریافت کرے گا اور اس کو درست طورپر اپنانے میں کامیاب ہوگا— پیغمبر اسلام کی زندگی میں بلاشبہہ بہترین نمونہ ہے، لیکن یہ نمونہ صرف اُس انسان کے لیے ہے جو اس کا طالب ہو- جو شخص طالب نہ ہو، اس کے لیے کوئی نمونہ نمونہ نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔