اخلاقیات (ethics) کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہبی شریعت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ سیکولر دستور کا معاملہ ہے۔ اخلاق کی صحت کے لیے کوئی مذہبی شرط نہیں ہوسکتی۔ اخلاق کی صحت کے لیے صرف ایک ہی قابلِ قبول شرط ہے، اور وہ یہ کہ اخلاقی اصول کو انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔ اخلاق کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی طور پر قابلِ قبول (mutually acceptable) معاملہ ہو، اور پورے سماج کے ہر فرد کو یکساں طور پر درست نظر آئے۔ اخلاق وہی ہوسکتا ہے، جو سماجی تعمیر کے اصول پر مبنی ہو۔ اخلاق سماجی انصاف کا موضوع ہے، اور سماجی انصاف اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سیکولر موضوع ہے۔ اخلاق کا معیار (criterion) صرف ایک چیز ہے، اور وہ فطری انصاف (natural justice) ہے۔ مذہب کو اخلاقیات کا معیار بنایا جائے تو کبھی اخلاقی سماج نہیں بنے گا۔ اس کے برعکس، نیچرل جسٹس کی بنیاد پر اخلاق کا نظام بنایا جائے تو وہ بہ آسانی قائم ہوجائے گا۔ کیوں کہ نیچرل جسٹس سب کے لیے قابل قبول بنیاد ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔قرآن میں میزان (الحدید،57:25) کا لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ میزان سے مراد شرعی میزان نہیں ہے، بلکہ فطری میزان ہے۔یعنی فطری شعور کی سطح پر ہر انسان کے اندر پایا جانے والا نظام۔
اخلاق کیا ہے۔ اخلاق در اصل صحیح سماجی سلوک (right social conduct) کا نام ہے۔ ایک فرد جب سماج کے اندر زندگی گزارتا ہے، تو اس وقت اس کی کچھ اجتماعی ذمہ داریاں بن جاتی ہیں۔ ان اجتماعی ذمہ داریوں کو اس طرح نبھانا کہ فرد اور سماج دونوں کے تقاضوں کی ادائیگی کے درمیان کوئی ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ اس اعتبار سے اخلاق ان اصولوں نام ہے، جس سے سماج کی تنظیم ہو ۔ اخلاق فطرت انسانی کا سبجکٹ ہے، وہ قانون کا سبجکٹ نہیں۔
اس تعریف کے مطابق، درست اخلاق وہ ہے، جس میں فرد اور سماج دونوں کے تقاضے اس طرح پورے ہورہے ہوں کہ ایک دوسرے کے لیے پرابلم نہ بنے۔ فرد اپنی زندگی کی پلاننگ اس طرح کرے کہ اس کے اپنے انفرادی تقاضے بھی پورے ہورہے ہوں، اور اسی کے ساتھ سوسائٹی کے اجتماعی تقاضوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ فرد کو بھی یہ موقع ہو کہ وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کسی رکاوٹ کے بغیر کر سکے، اور اسی طرح سوسائٹی کو بھی یہ موقع ہو کہ اس کی اجتماعی ترقی درست طور پر جاری رہے۔
غور کیا جائے تو اس لحاظ سے اخلاق کی تعریف یہ قرار پاتی ہے کہ فرد کے اندر سوشل ذمےداریوں کا پورا احساس موجود ہو۔ وہ قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ ہر فرد یہ جانے کہ سماج کا دوسرا فرد کس صورتِ حال میں کیسا عمل کرے گا تاکہ دوسرا شخص اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بنائے، جو دوسروں سے ٹکراؤ کے بغیر کامیابی کے ساتھ جاری رہے۔
اس اعتبار سے اخلاق گویا انفرادی ترقی اور سماجی ترقی کے درمیان مطابقت (coordination) کے ساتھ زندگی گزارنے کا دوسرا نام ہے۔ مثال کے طور پر رات کا وقت ہے، اور ایک شخص کے گھر سے کوئی اچھی خبر آتی ہے۔ اب اگر اس وقت خبر پانے والا خوشی منائے تو اس کے پڑوسی کی نیند خراب ہوگی۔ اس لیے خبر پانےوالے کو خوشی منانے کا ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو بلا آواز طریقہ ہو، نہ کہ با آواز طریقہ۔
قابلِ عمل اخلاق وہی ہوسکتا ہے، جو سب کے لیے باہمی طور پرقابل قبول (mutually accepted)معاملہ ہو۔ مثال کے طور پر حکومت سازی کا معاملہ ہو ، اور اس کے لیے الیکشن کرایا جائے تو الیکشن کو فری اینڈ فیر (free and fair) بنیاد پر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ فری اینڈ فیربنیاد ایک ایسا اصول ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہے۔ اسی طرح کوئی نزاعی معاملہ ہو تو اس کو قانون ملکی (law of the land) کے مطابق سیٹل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ملکی قانون سماج کے تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنیاد دیتا ہے، جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا، وغیرہ۔عبادت کے معاملے میں اسلام کا الگ اصول ہوسکتا ہے، لیکن سماجی اخلاقیات کے معاملےمیں اسلام کا اصول بڑی حد تک وہی ہوگا، جو سماج کے دائرے میں سب کے لیے قابل قبول ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔