آج کل ہر لکھنے والا اور بولنے والا مسلمان الفاظ کا جنگل بکھیر رہاہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان بے تکان لکھ رہا ہے، اور بول رہا ہے۔ لیکن اگر آپ ان کے کلام کو سنیں یا پڑھیں، تو تقریباً بلااستثنا آپ یہ پائیں گے کہ الفاظ کے اس جنگل میں آپ کے لیے کوئی ٹیک اوے نہ ہوگا۔ حتی کہ ان کا کلام صحافت کے سادہ تقاضوں سے بھی خالی ہوگا۔
اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جو سوچتے ہیں، اور پھر بولتے ہیں۔ جن کی ہر بات احساسِ ذمے داری کا نتیجہ (outcome) ہوتی ہے۔ جن کا کلام ان کی پوری شخصیت کا ترجمان ہوتا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جن کے حافظے میں الفاظ کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ وہ جب بولتے ہیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ ان کا ذہن ایک ماہر ذہن ہے،جو سوچے بغیر بولے چلاجارہا ہے۔
اس سلسلےمیں ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں بعد کے زمانے کی پیشین گوئی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے:وَیُقَالُ لِلرَّجُلِ:مَا أَعْقَلَہُ وَمَا أَظْرَفَہُ وَمَا أَجْلَدَہُ، وَمَا فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِیمَانٍ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6497، صحیح مسلم، حدیث نمبر 143)۔ یعنی ایک شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے ، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے ۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہو گا ۔ اس حدیث رسول میں ایمان نہ ہونے کا مطلب ہے، انسان کے دل کا خدا کے خوف سے خالی ہونا، جس کی وجہ سے انسان غیرسنجیدہ انداز میں بولتا یا لکھتا ہے۔
غالباً اس حدیث میں موجودہ زمانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اسٹیج ایکٹوزم کا زمانہ ہے۔ جو آدمی اسٹیج پر عوام پسند بولی بول سکے، وہ اچانک مقبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ اس کا ہر جگہ استقبال کیا جاتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کو شوق کے ساتھ سنتے ہیں، اور تالیاں بجاتے ہیں۔ اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap popularity) حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ میڈیا میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا جائے۔ میڈیا میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ مزاج بن جاتاہے، جس کوایک ہندومفکر نے باہری یاترا کا نام دیا تھا، یعنی سیلف تھنکنگ (self-thinking) کے بجائے اکسٹرنل تھنکنگ ۔
انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں ۔مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت۔ کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اِسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے، جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر اکثر انسان اپنی اس صلاحیت کو درست طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے منصوبۂ تخلیق سےبے خبر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنی باتیں سناتا رہتا ہے، لیکن خود اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوںکو دریافت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنی ذات کے ارتقا کی فکر کریں۔
انسان کو جس دنیا میں جینا پڑتا ہے، وہ گویا ایک عالمی جنگل ہے، اس جنگل میں ہر جگہ حکمت و معرفت کا نِکٹر (nectar) چھپا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیت دی ہے، جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دی۔وہ بذریعہ عقل تدبر و تفکر کی صلاحیت ہے۔ تدبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔ وہ غور و فکر کرکے حکمت و معرفت کے چھپے ہوئے نکٹر کو دریافت کرے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت ہوتی ہے،وہ شہد کی مکھی کی مانندانسانی تہذیب کے اس جنگل میں معرفت کا نِکٹر دریافت کرتے ہیں۔اس کے ذریعے اپنے آپ کو وہ انسان بناتے ہیں، جس کو صاحبِ معرفت انسان (realized soul) کہا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔