Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2020
Al-Risala June 2020

انسانی خیر خواہی

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (7:68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لیے ہوتی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Well-wishing for all mankind

خدا کی طرف سے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان سب کا مشن ایک تھا۔ اس پیغمبرانہ مشن کے دو بنیادی نکتے تھے،ایک اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور بلاتفریق ہر انسان کا خیرخواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔

اللہ کو اپنا کنسرن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ دریافت (discovery) کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول و عمل اس کے عین مطابق ہو جائے۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران،3:79)کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human-friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کا دینے والا ممبر (giver member) بن جاتا ہے۔ اپنی اصول پسندی کی بنا پر سماج کا ہر فرد قابل پیشین گوئی کردار (predictable character)کا حامل بن جاتا ہے۔ ہر انسان کے اندریہ مزاج پرورش پاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے ، جو سلوک وہ دوسروں سے اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content