ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:قَالَ عَبْدُ اللَّہِ:کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَحْکِی نَبِیًّا مِنَ الأَنْبِیَاءِ، ضَرَبَہُ قَوْمُہُ فَأَدْمَوْہُ، وَہُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہِ وَیَقُولُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3477)۔ یعنی عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ گویا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، نبیوں میں سے ایک نبی کا واقعہ آپ بیان کر رہے ہیں، اس نبی کو ان کی قوم نے مارا، ان لوگوں نے نبی کا خون بہا دیا، اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں: اے اللہ، میری قوم کو معاف کردے، بیشک وہ نہیں جانتی ۔
اس واقعے میں نبی کی حیثیت داعی کی تھی، اور مارنے والوں کی حیثیت مدعو قوم کی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دین کو اگر اپنے مدعو سے برے سلوک کا تجربہ ہو ، تو ان پر لازم ہے کہ وہ اس برے سلوک کو مدعو کی بے خبری پر محمول کرے۔ مدعو قوم کے خلاف شکایت کرنا، ان کے خلاف اخباروں میں بیان چھاپنا، مدعو کےخلاف لوگوں کو ایسے احتجاج پر ابھارنا، جس سے لوگوں میں نفرت اور تشدد پیدا ہوتا ہو، یہ سراسر شریعت کے خلاف ہے۔ اگر داعی کو مدعو گروہ کی طرف سے تکلیف پہنچے، تو داعی کے لیے صرف ایک آپشن (option) ہے۔ وہ یہ کہ داعی مدعو کے لیے اللہ سے ہدایت کی دعا کرے۔ وہ دل سے مدعو کا خیر خواہ بنے۔
اس سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ:قِیلَ:یَا رَسُولَ اللہِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِکِینَ قَالَ:إِنِّی لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2599) ۔ یعنی ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ کہا گیا : اے خدا کے رسول، مشرکین پر بددعا کردیجیے، آپ نے کہا: میں لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا ہوں، میں بلاشبہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں— اللہ رب العالمین پر ایمان لانے والوں کے لیے صرف وہی روش جائز ہے، جو رحمت کے مطابق ہو، کسی بھی صورتِ حال میں اس کے خلاف روش جائز نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔