قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اہلِ ایمان کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنائیں-اس کے فوراً بعد یہ الفاظ آئے ہیں: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ ط اِنَّہُ ہَوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(41:36) یعنی اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو تم اللہ کی پناہ مانگو- بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے-
اِس سیاق (context)میں، وسوسہ شیطان کا مطلب صاف طورپر یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ جب حسن سلوک کرنے کا معاملہ پیش آئے اور تمھارا دل کسی شک میں پڑے یا کوئی تم کو فرضی اندیشہ بتا کر اس راہ سے ہٹانا چاہے، اس وقت تم اِس قسم کے خیال کو شیطان کا وسوسہ سمجھو اور شیطان کو اپنے سے دور بھگا کر اس معاملے میں اسلام کے اصول پر قائم رہو- اِس سیاقِ کلام میں، وسوسۂ شیطان کا مطلب ہے — دشمن کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے طریقے پر شبہہ ڈالنا-
مثال کے طورپر اگر ایسا ہو کہ کسی کو یہ طریقہ بتایا جائے کہ تم جس کو اپنا دشمن سمجھتے ہو، اس کی دشمنی سے بچنے کا قرآنی طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرو- اس کے بعد اگر وہ شخص یہ کہے کہ ایسا کرنے سے دشمن اور زیادہ جری ہوجائے گا، وہ ہمارے خلاف اور بھی زیادہ دشمنی کرے گا تو ایسا کرنا یقینی طورپر شیطان کا وسوسہ ہے- ایسا بول عقل کا بول نہیں ہے، بلکہ شیطان کا بول ہے- جو لوگ ایسا کہیں وہ اس کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے ہیں-
برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا محض ایک اخلاقی بات نہیں- وہ فطرت کے قانون کے مطابق ایک کارگر تدبیر ہے- یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب اس کے ساتھ جوابی طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طورپر حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے، وہ ندامت میں مبتلا ہوکر اپنی اصلاح آپ کرلیتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔