قرآن کی سورہ البقرة میں فطرت کا ایک قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ(2:249) یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ، اللہ کے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-
اذن کے لفظی معنی اجازت کے ہوتے ہیں- یہ لفظ یہاں کسی پُراسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کے معنی میں ہے- فطرت کا یہ قانون کیا ہے- فطرت کا یہ قانون وہی ہے جس کو صبر کے لفظ میں بیان کیاگیا ہے- یہاں صبر کا مطلب یہ ہےکہ اگر اقلیتی گروہ منفی ردّ عمل میں مبتلا نہ ہو تو وہ اِس قابل ہوتاہے کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے سے بڑے گروہ پر سبقت لے جائے-اصل یہ ہے کہ جب کوئی گروہ اقلیت (minority)میں ہوتا ہے تو اُس کو اکثریتی گروہ (majority)کی طرف سے مسلسل چیلنج کا سامنا پیش آتاہے- یہ صورت حال، اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بنادیتی ہے- اِس طرح اُس کاشعور جاگتا ہے- وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ عمل کے نئے نئے میدان تلاش کرے- وہ اپنے ذرائع کو زیادہ بہتر طورپر استعمال کرے- وہ اپنے آپ کو اور زیادہ تیار کرسکے- وہ اپنے عمل کی زیادہ دور رس منصوبہ بندی (planning) کرے۔ اِس طرح اُس کا اقلیت میںہونا اُس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا سبب بن جاتا ہے- وہ اکثریت سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے- اور آخر کار اکثریت سے زیادہ ترقی حاصل کرلیتا ہے- یہ اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ نہیں، یہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر زمانے میں جاری رہتاہے- دوقوموں کے درمیان بھی، اور ایک قوم کے اندر داخلی طورپر بھی، حتی کہ دو افراد کے درمیان بھی- اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی صورت حال میں منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو- وہ ہمیشہ صرف ایک کام کرے- فطرت کے قانون کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا، یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے- دوسرا ہر طریقہ صرف تباہی میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ کامیابی تک پہنچانے والا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔