امریکا کے ایک سفر میں مجھ کو ایک سنٹردیکھنے کا موقع ملا- یہ ایک روحانی مشن کا سنٹر تھا- اِس مشن کے بانی (founder) کا انتقال ہوچکا تھا- بانی جیسی کوئی زندہ شخصیت وہاں موجودہ نہ تھی- اِس کے باوجود سنٹرمیں مشن کی تمام سرگرمیاں بدستور جاری تھیں- میں نے غور کیا تو بانی کی غیرموجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوںکے بدستور جاری رہنے کا سبب دو چیزیں تھیں — ٹیم اور ٹکنالوجی-
بانی کا انتقال ہوا تو اس نے اپنے بعد دو چیزیں چھوڑی تھیں: ڈیڈی کیٹڈ ٹیم (dedicated team) اور تحریر اور تقریر کی شکل میں اپنا پیغام- بانی نے اپنی سنجیدہ کوششوں کے ذریعے بہت سے افراد کو متاثر کیا،یہاں تک کہ اس کےمشن کی پشت پر ایک مضبوط ٹیم بن گئی-
اِس کے علاوہ بانی نے بہت سی کتابیں لکھیں اور بڑی تعداد میں اس کی تقریروں سے آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ تیار ہوگئے- سنٹر میں میں نے دیکھا کہ اس کی ٹیم نہایت سنجیدہ انداز میں اِن چیزوں کو استعمال کررہی ہے- اس نے وہاں لائبریری اور ریڈنگ روم بنایا- کتابوں کے ڈسٹری بیوشن کے لیے نظام قائم کیا- وہاں میں نے دیکھا کہ رات دن کے بڑے حصے میں مسلسل آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ چلتے تھے۔ اِس کے علاوہ نہایت منظم پیمانے پر اس کی ترسیل کی جارہی تھی، اُس کو جگہ جگہ ڈاک کے ذریعے بھیجا جارہا تھا- اِسی طرح کمپیوٹر ٹکنالوجی کا استعمال بھی وہاں بھر پور طورپر کیا جارہا تھا-
انسان کے وجود کے دو پہلو ہیں— اس کی آواز اور اس کی جسمانی شخصیت- پچھلے زمانے میں انسان کی وفات کے بعد یہ دونوں چیزیں باقی نہیں رہتی تھیں- اب ٹکنالوجی نے یہ ممکن کردیا ہے کہ انسان کی آواز اور اس کی شخصیت دونوں بظاہر اِس طرح باقی رہیں جیسے کہ وہ انسان اب بھی پوری طرح موجود ہے- موجود زمانے میں کسی مشن کے تسلسل کو قائم رکھنے کا یہ ایک نیا امکان ہے جو جدید ٹکنالوجی کے ذریعے پیدا ہوا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.