کسی تحریک(movement) کی کامیابی کے لیے صرف آئڈیالوجی کافی نہیں- اس کے لیے ایسی چیز بھی ضروری ہے جو عملی مظاہرے کی حیثیت رکھتی ہو- اِس کی ایک صورت نقل وحرکت ہے- اِس نقل وحرکت کو قرآن میں سیاحت (9:112)کہاگیا ہے- قدیم یونان میں ایک گروپ تھا جس کو مشّائین (travellers)کہاجاتا تھا- یہ لوگ مسلسل طور پر پیدل سفر کرتے تھے اور اِس طرح لوگوں کے درمیان اپنے افکار پھیلاتے تھے- حضرت مسیح کے بعد سینٹ پال نے اِس طریقے کو اختیار کرتے ہوئے مسیحیت کو مختلف ملکوں میں پھیلایا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو غزوات اور سرایا پیش آئے، وہ بھی ایک اعتبار سے اِسی زمرے میں آتے ہیں- مسلم صوفیا کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ اپنے مریدوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور جگہ جگہ اپنا حلقہ (order) بناتے تھے- موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے اور اسی بنا پر اس کو ’’مسجد وار تحریک‘‘ کہاجاتا ہے-
الرسالہ مشن کی توسیع کے لیے بھی نقل وحرکت کے طریقے کو بڑے پیمانے پر اختیار کرنا ضروری ہے- اب اللہ کے فضل سے ہر شہراور ہر بستی میں قارئین الرسالہ کے حلقے بن چکے ہیں- ضرورت ہے کہ الرسالہ مشن کے لوگ سفرکرکے ہرجگہ پہنچیں، وہ ہر مقام پر قارئین الرسالہ سے ملیں، اُن کو متحرک کریں، ان کو منظم کریں، ہرجگہ ہفتے وار اجتماعات کا نظم کریں، ہرجگہ لائبریری قائم کریں، وغیرہ- جدید کمیونکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ اب نقل وحرکت کے کام کو مزید اضافے کے ساتھ کیا جائے، یعنی نہ صرف جسمانی نقل وحرکت، بلکہ الیکٹرانک نقل وحرکت بھی-
موجودہ زمانے میں کمیونکیشن کی ترقی نے نقل وحرکت کے کام کو بہت آسان بنا دیاہے- الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اِس امکان کو بھر پور طورپر استعمال کریں- نقل وحرکت کے بغیر اگر الرسالہ مشن حسابی رفتار (arithmetic progression) سے آگے بڑھ رہا ہے تو نقل وحرکت کے بعد وہ ہندسی رفتار (geometric progression) سے آگے بڑھنے لگے گا-
دعوتی نقل وحرکت کا یہ کام ممبئی کے حلقہ الرسالہ نے عملاً شروع کردیا ہے- وہ منظم انداز میں اِس کام کو انجام دے رہے ہیں- وہ مہاراشٹریہ کے مختلف مقامات پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جاتے ہیں- اِس دعوتی کام کے لیے وہ جدید ٹکنالوجی کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں- اُن کو اِس کام میں ہرجگہ لوگوں کا تعاون حاصل ہو رہا ہے- اِس طرح اِس علاقے میں یہ دعوتی مشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے- اِس معاملے میں جو لوگ ممبئی والوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل ٹیلی فون پر اُن سے ربط قائم کرسکتےہیں— محبوب بھائی09619163993:
دعوتی نقل وحرکت کا یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں سیاحت کہاگیا ہے- اس سلسلے میں قرآن میں ’السائحون والسائحات‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں- اِس سے معلوم ہوتاہے کہ سیاحت کا یہ کام اہلِ ایمان مردوں اور اہلِ ایمان عورتوں دونوں کو یکساں طورپر انجام دینا ہے- دونوں سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دعوتی مشن کے کام میں دوسرے طریقوں کے علاوہ نقل وحرکت کے طریقوں کو استعمال کریں- وہ دعوت کے عمل کو ایک متحرک عمل بنادیں-
سیاحت کا مطلب ہے — سفر کرنا (to travel) - سفر ایک عام انسانی ضرورت ہے- سفر چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی- سفر قریب کی منزل کے لیے بھی ہوتا ہے اور دور کی منزل کے لیے بھی- سفر کی نوعیت کا تعلق خود سفر سے نہیں ہے، بلکہ مسافر سے ہے- مسافر کا جو مقصد حیات ہو، اُسی سے اس کے سفر کا مقصد بھی متعین ہوتاہے- مثلاً تاجر کا سفر تجارت کے لیے ہوتا ہے- سیاح کا سفر تفریح کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ-مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، ایک صاحبِ مشن انسان ہوتا ہے - مومن کی زندگی کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اُس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، اس سچائی کو وہ تمام دنیا والوں تک پہنچائے- یہی وہ صفت ہے جو مومن کی سیاحت کو ایک دعوتی سیاحت بنادیتی ہے- وہ جہاں جاتا ہے، اس کا مشن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے- سفر کے ہر مرحلے میں اس کا دعوتی مشن جاری رہتا ہے- اِس معاملے میں عورت اور مرد کا کوئی فرق نہیں- مومن ا ور مومنہ دونوں ہمیشہ دعوتی توسیع کے اِس کام میں سرگرم رہتے ہیں-(14 اپریل 2014)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔