الرسالہ مشن 1976میں ماہ نامہ الرسالہ کے اجرا سے شروع ہوا- الرسالہ مشن ایک پرامن دعوتی مشن ہے- اِس کی سرگرمیاں انٹرنیشنل سطح پر جاری ہیں- مگر الرسالہ مشن میں برانچ (branch) کا طریقہ نہیں- الرسالہ مشن میں انڈپنڈنٹ چیپٹر (independent chapter) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے- یہی طریقہ پیغمبرانہ سنت کے مطابق ہے-
برانچ کے پیٹرن (pattern)میں ایسا ہوتا ہے کہ مشن دھیرے دھیرے ایک رٹین (routine)کی صورت اختیار کرلیتاہے- لوگ ایک ہی مقرر طریقہ (prescribed method) کو بار بار دہراتے رہتے ہیں- اِس طرح بظاہر لوگ متحرک نظر آتے ہیں، لیکن یہ ایک بے روح حرکت ہوتی ہے- اِس حرکت میں کوئی زندگی نہیں ہوتی- اِس حرکت میں کوئی تخلیقیت (creativity) نہیں ہوتی- اِس طریقے میں آدمی کے پاس بظاہر دوسروں کو دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، لیکن خود اپنے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے-اِس کے برعکس، انڈپنڈنٹ چیپٹر کا پیٹرن لوگوں کو مسلسل طورپر زندہ رکھتا ہے- آدمی کے ذہن میں تخلیقی عمل (creative process) جاری رہتا ہے- اِس طریقے میں ہر آدمی پروگرام ساز (program-maker) بن جاتاہے- برانچ کا طریقہ اگر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا کرنے والا ہے تو انڈپنڈنٹ چیپٹر کا طریقہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے-
برانچ کے طریقے میں کام کو اَعداد وشمار کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے- اِس کے برعکس، انڈپنڈنٹ چیپٹر کی صورت میں کام کو حقیقی نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے- کسی مشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کرے، اور انڈپنڈنٹ چیپٹر کے طریقے میں یہ فائدہ پوری طرح حاصل ہوتا ہے- زندہ شخصیت صرف تخلیقی عمل کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، زندہ شخصیت کبھی رٹین کے ذریعے پیدا نہیں ہوتی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.