قربانی (sacrifice) کا لفظ بولا جائے تو عام طورپر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ — لڑ کر جان دے دینا- عام طور پر اِس کو شہادت سمجھا جاتا ہے، اور یہ کہ یہی شہادت سب سے بڑا عمل ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ جسمانی قربانی سے زیادہ بڑی قربانی نفسیات کی قربانی ہے- سب سے بڑی قربانی سرکٹانا نہیں ہے، بلکہ سرجھکانا ہے- تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے صرف اُن لوگوں نے انجام دئے ہیں جو اصول کی خاطر سر جھکانے کے لیے تیار ہوگئے-
ایک بار میں امریکا کے ایک شہر میں گیا- وہاں امریکی مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم قائم تھی- اس کے ایک سینئر ممبر نے جوش کے ساتھ کہا کہ — اب میں نے لیڈر شپ (leadership) کا رول لے لیا ہے- بات یہ تھی کہ اُن کو تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا تھا، مگر ٹرم پورا ہونے سے پہلے انھوں نے صدارت کے عہدے سے استعفا دے دیا- اِس کا سبب یہ تھا کہ دوسرے حضرات ان کا تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے-
مذکورہ مسلمان اپنے اوصاف کے اعتبار سے، نہایت لائق انسان تھے- وہ تنظیم کو ترقی دینے کے لیے بہت کچھ کرسکتےتھے، مگر کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ لائق ہو، وہ تنہا کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا- بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں- بقیہ لوگوں کے لیے ساتھ دینا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے راضی ہوں-
اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ ایک شخص لیڈر شپ کا رول صرف اُس وقت کامیابی کے ساتھ انجام دیتا ہے، جب کہ دوسرے لوگ شعوری طور پر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ اُن کو سپورٹیو رول (supportive role)ادا کرنا ہے، نہ کہ لیڈر شپ (leadership) کا رول- سپورٹیو رول پر راضی ہونا بلا شبہہ ایک عظیم قربانی ہے- کوئی بڑا کام صرف اُس وقت انجام پاتا ہے، جب کہ ایک شخص کو لیڈر بنا کر بقیہ تمام لوگ سپورٹیو رول ادا کرنے پر راضی ہوجائیں- یہی سب سے بڑی قربانی ہے، اور اِس قربانی کے بغیر کسی بڑے کام کا انجام پانا ممکن نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.