← Al-Risala June 2013Al-Risala June 2013
سچائی کی سیٹ
Urdu · 4 min read
قرآن کی سورہ القمر میں اہلِ جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں وہ اللہ کے قریب سچائی کی سیٹ پر جگہ پائیں گے: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (54:54-55)یعنی اہلِ تقوی باغوں اور نہروں کے درمیان ہوں گے- وہ سچائی کی سیٹ پر ہوں گے، قدرت والے بادشاہ کے پاس:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The God-conscious will find themselves in gardens and rivers. In the seat of truth with an all-powerful sovereign.
Qur'anQuotes the Qur'an
اہلِ جنت کی سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ آخرت کی دنیا میں وہ اللہ کی قربت میں جگہ پائیں- اللہ کی قربت بلا شبہہ انسانی سعادت کا سب سے اعلی مقام ہے- سچے اہل ایمان کو اِس دنیا میں قربت کا یہ درجہ بہ اعتبار احساس ملتا ہے، اور آخرت میں سچے اہلِ ایمان کو یہ درجہ بہ اعتبارِ حقیقت حاصل ہوگا-
سچ بولنا انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے اور جھوٹ بولنا انسان کی سب سے بڑی برائی- سچ بولنا یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کہے، وہ حقیقتِ واقعہ کے عین مطابقت ہو، اور جھوٹ بولنا یہ ہےکہ آدمی ایسی بات کہے جو حقیقتِ واقعہ سے مطابقت نہ رکھتی ہو-
ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دانستہ طور پر کھلا کھلا جھوٹ بولتے ہیں، لیکن جھوٹ کی ایک اور قسم ہے جس میں تقریباً سارے لوگ مبتلا رہتے ہیں، اور وہ ہے جذباتی تاثر کے تحت خلافِ واقعہ بات کہنا- اِس دوسرے جھوٹ کی سب سے زیادہ عام قسم وہ ہے جو قومی معاملات میں پیش آتی ہے، یعنی اپنی قوم اور دوسری قوم کے درمیان پائی جانے والی شکایت کے بارے میں خلافِ واقعہ بیان دینا- اِس طرح کے قومی معاملے میں تقریباً ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ متاثر ذہن کے تحت بولتا ہے- وہ دوسری قوم کی غلطی کو بتاتا ہے، لیکن وہ خود اپنی قوم کی غلطی کا ذکر نہیں کرتا- وہ قومی نزاعات کی تصویر اِس طرح پیش کرتا ہے، جس میں دوسری قوم سراسر ظالم اور اپنی قوم سراسر مظلوم دکھائی دے- قومی نزاعات کی اِس طرح رپورٹنگ یقینی طور پر ایک جھوٹ ہے، وہ یقینی طور پر قانون فطرت کے خلاف ہے- قومی معاملات میں جھوٹ کی روش اختیار کرنے والے لوگ بظاہر قوم کی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا کرتے ہیں، مگر اپنے انجام کے اعتبار سے، بلا شبہہ یہ قوم کے ساتھ دشمنی ہے، نہ کہ قوم کے ساتھ ہمدردی-
قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتےہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى(5:8) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقوی سے زیادہ قریب ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Believers, do not let your enmity for others turn you away from justice. Deal justly; that is nearer to being God-fearing.
Qur'anQuotes the Qur'an
کوئی آدمی جھوٹ پر کھڑا ہوا ہے یا وہ سچائی پر کھڑا ہوا ہے، اِس کا صحیح اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی سے اس کو شکایت یا نزاع پیداہوجائے- شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی فوراً غیر منصفانہ بولی بولنے لگتاہے- اِسی غیر منصفانہ کلام کو قرآن میں تطفیف (83:1) کہا گیا ہے، یعنی دوسری سائڈ کی غلطی کو بتانا اور اپنی سائڈ کی غلطی کو حذف کردینا-یہ طرز کلام ایک غیر متقیانہ طرز کلام ہے، اور جو لوگ غیر متقیانہ روش میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کے پڑوس میں جگہ نہیں پاسکتے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری قوم کو ظالم بتانا اور اپنی قوم کو مظلوم بتانا دنیا میں قومی مقبولیت کے لیے بہت مفید ہے- قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلد اپنی قوم میں قیادت کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں، مگر آخرت کے اعتبار سے، یہ صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں- قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلدقوم کے اسٹیج پر ممتاز مقام حاصل کرلیتے ہیں، لیکن آخرت کے ربانی اسٹیج پر یقیناً ُاُن کوکوئی جگہ ملنے والی نہیں-
قومی شکایت کا موقع آدمی کے لیے سب سے زیادہ امتحان کا موقع ہوتا ہے- ایسا ہر لمحہ آدمی کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے- قومی معاملے میں لکھتے اور بولتے وقت جو لوگ غیرمنصفانہ رپورٹنگ کریں، وہ گویا کہ دنیا میں جھوٹ کی سیٹ پر کھڑے ہوئے ہیں- ایسے لوگوں کو آخرت کی دنیا میں ہر گز سچائی کی سیٹ پر جگہ ملنے والی نہیں-