Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala June 2013
Al-Risala June 2013

انقلابی اسپرٹ

Urdu · 3 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد پورے عرب میں سنگین صورتِ حال پیدا ہوگئی- اِس کا اندازہ حضرت عائشہ کی حسب ذیل روایت سے ہوتا ہے: ولما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارتدت العرب، واشرأبّت الیہودیة والنصرانیة ونجم النفاق، وصار المسلمون کالغنم المطیرة فی اللیلة الشاتیة لفقد نبیہم، حتى جمعہم اللہ على أبی بکر (البدایة والنہایة 5/279 )یعنی جب رسول اللہ کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا- یہودیت اور نصرانیت نے سراٹھایا اور نفاق ظاہر ہوگیا- اور پیغمبر کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان جاڑے کی رات میں بھیگی ہوئی بکری کے مانند ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو ابوبکر پر جمع کردیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس نازک موقع پر حضرت ابوبکر نےجو کام انجام دیا تھا، اس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے- یہاں ہم اِس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں- جب مذکورہ صورتِ حال پیش آئی، اُس وقت اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے: أینقص الدین وأنا حیّ (ہدایة الرواة لابن حجرالعسقلانی، رقم الحدیث: 3031) یعنی کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا اور میں زندہ ہوں-خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق کے اِس قول سے زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے— کوئی بڑا کام ہمیشہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ ایک شخص کے اندر یہ عزم پیدا ہوجائے کہ یہ میری ذمے داری ہے اور میں اِس کام کو کروں گا- بڑا کام ہمیشہ ایک باعزم انسان کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ کسی بھیڑ (crowd)کے ذریعے- اِس قسم کی طوفانی اسپرٹ ایک فرد کے اندر پیدا ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر- یہ ایک کوہ شکن اسپرٹ ہے- اِس کو ایک لفظ میں — ’’آئی ول ڈو اسپرٹ‘‘ (I will do spirit)کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر یہ سوچتے کہ اِس وقت ملک میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اصحابِ رسول موجود ہیں، یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے، جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا، جنھوں نے رسول اللہ کی صحبت پائی- یہ سوچ کر حضرت ابو بکرکہتے کہ: أینقص الدین وأصحاب الرسول أحیاء (کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا، حالاں کہ اصحابِ رسول زندہ ہیں)- اِس کے بجائے حضرت ابو بکر نے کہا کہ: أینقص الدین وأنا حی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابوبکر اگر پہلا جملہ کہتے تو نفسیاتی طورپر وہ ذمے داری کو پورے مجموعے پر ڈال دیتے- ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کا ذہن یہ کہتا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار ذمے داریوں میں سے صرف ایک ذمے داری ان کی اپنی ہے- اِس کے برعکس، جب انھوں نے دوسرا جملہ کہا تو ان کا ذہن اِس عزم سے بھر گیا کہ ساری کی ساری ذمے داری تنہا ان کی اپنی ہے، کسی کا انتظار کئے بغیر انھیں خود اپنے آپ کو اِس کام میں پوری طرح جھونک دینا ہے-

اِس اسپرٹ کو ایک لفظ میں انقلابی اسپرٹ کہا جاسکتا ہے- تمام بڑے کام اِسی انقلابی اسپرٹ کے ذریعے انجام پاتے ہیں- جہاں افراد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ موجود نہ ہو، وہاں باتیں تو بہت ہوں گی، لیکن ایسی صورت میں کوئی بڑاکام انجام پانے والا ہر گز نہیں-

کسی فرد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے، جب اس کو یقین ہوجائے کہ یہ کوئی خارجی سوال نہیں، یہ اس کی اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے، یہیں اس کے لیے یا تو کامیابی کا فیصلہ ہونے والا ہے یا ناکامی کا فیصلہ- جب کوئی فرد اِس طرح ایک مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے تو اُس وقت اس کے اندر ایک انقلابی اسپرٹ پیداہوجاتی ہے، اور یہی انقلابی اسپرٹ کسی بڑے کام کی اصل ضامن ہے، خواہ وہ کوئی مذہبی کام ہو یا سیکولرکام-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content