ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (الترمذی، رقم الحدیث: 2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جولذتوں کو ڈھادینے والی ہے-
اِس حدیث میں ’ہادم‘ (ڈھا دینے والا) کا لفظ سلبی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایجابی معنی میں ہے، یعنی موت کی یاد صرف موت کی یاد نہیں، بلکہ اس کا ایک بہت بڑا مثبت پہلو ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ موت اِس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں مٹ جانے والی ہیں، اِس لیے تم دنیا کی لذتوں کے بجائے، آخرت کی لذتوں کو اپنی سوچ کا مرکز بناؤ، کیوں کہ آخرت کی لذتیں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں (فاٰثروا ما یبقىٰ على ما یفنىٰ)-
انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے- انسان ہر دور میں اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے- قدیم زمانے میں لذت کے سامان بہت محدود تھے- موجودہ زمانے میں لذت کے سامانوں کی کثرت ہوگئی ہے- اِس اعتبار سے، موجودہ زمانے کو کنزیومر ازم (consumerism) کا زمانہ کہا جاسکتا ہے- موجودہ زمانے میں کنزیومرازم کا دور آیا تو انسان مزید اضافہ کے ساتھ اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش\ میں لگ گیا-
مگر تاریخ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں انسان کا کیس کامل محرومی کا کیس ہے، انسان نہ قدیم روایتی زمانے میں تسکین کا سامان حاصل کرسکا، اور نہ جدید کنزیومرازم کے زمانے میں- گویا اِس دنیا میں طالب موجود ہے، مگر یہاں اس کا مطلوب موجود نہیں- جس آدمی کا شعور زندہ ہو، اس کے لیے موت اس بات کی یاد دہانی بن جائے گی کہ جس مطلوب کو میں قبل از موت دور میں نہ پاسکا، وہ مطلوب خالق کے پلان کے مطابق، موت کے بعد کے دور میں رکھ دیاگیا ہے- ایسے آدمی کے لیے موت کا تصور اس کی زندگی کے کورس کو متعین کرنے والا بن جائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔