قرآن میں قدیم اہلِ کتاب (یہود) کے حوالے سے فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے - آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (62:5) یعنی جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا، پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو-
یہ تمثیل صرف سابق اہلِ کتاب (یہود) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ماضی کے تجربے کی صورت میں حال کے اہلِ کتاب (امتِ مسلمہ) کے بارے میں بھی ہے- قرآن میں یہ مثال اِس لیے دی گئی ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کے لوگ اُس سے سبق لیں اور اپنے آپ کو اس کے برے انجام سے بچائیں-
قرآن کی اِس آیت میں دراصل امت کے دو دور بتائے گئے ہیں — زوال سے پہلے کی حالت، اور زوال کے بعد کی حالت- اَلَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاةَ سے مراد زوال سےپہلے کی حالت ہے، یعنی وہ ابتدائی حالت جب کہ امت کے اندر دین زندہ ہوتا ہے، وہ مطلوب انداز میں دین پر قائم ہوتی ہے- یہ وہ ابتدائی دور ہے جس کو حدیث میں قرونِ ثلاثہ کہاگیا ہے-
حدیث کے مطابق، امت کی یہ حالت ابتدائی تین نسلوں تک ہوتی ہے- اِس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق، امت پر زوال آجاتاہے- اِس بعد کے دور کو کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاکے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
اس زوال یافتہ دور میں امت بظاہر کتاب کی حامل بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن اب کتاب کی اصل روح اس کے اندر باقی نہیں ہوتی- اب اس کا معاملہ ایسے حیوان جیساہوجاتا ہے جس کی پیٹھ پر بظاہر کتابیں لدی ہوئی ہوں، لیکن یہ کتابیں اس کے شعور کا حصہ نہ ہوں— پہلے دور میں امت انسان کی سطح پر حاملِ کتاب ہوتی ہے اور دوسرے دور میں حیوان کی سطح پر حاملِ کتاب-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔