والٹر ڈی لا میئر (Walter De La Mare) ایک برٹش مصنف ہے۔ وہ 1873 میں پیدا ہوا، اور 1956 میں اس کی وفات ہوئی۔ ڈی لا میئر کی ایک نظم ہے۔ اس کا عنوان مس ٹی (Miss T) ہے۔ اِس نظم کی ایک لائن یہ ہے — یہ بہت زیادہ عجیب بات ہے کہ مس ٹی جو کچھ کھاتی ہے، وہ مس ٹی بن جاتاہے:
It's a very odd thing— as odd can be —
That whatever Miss T eats, turns into Miss T.
’’مس ٹی‘‘ ایک فرضی نام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مس ٹی کے باہر دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے ہیں— پھل، سبزی، چاول، دال، وغیرہ۔ یہ چیزیں جب تک باہر ہیں، وہ مختلف غذائی آئٹم ہیں۔ لیکن جب مس ٹی اِن چیزوں کو کھاتی ہے تو وہ اُس کے اندر داخل ہو کر اُس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔
یہ تبدیلی (conversion) کا ایک واقعہ ہے، جب کہ ایک مادی چیز تبدیل ہو کر ایک شخص کے جسم کا جز بن جاتی ہے۔ تبدیلی کے اِس واقعے کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ پہلو شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک با شعور آدمی جب یہ سوچتاہے کہ یہ مادی چیزیں کیسے بنیں، کیوں ایسا ہے کہ دو بہ ظاہر الگ الگ چیزوں میں کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ کس طرح یہ ممکن ہوا کہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے لائف سپورٹ سسٹم (life-support system) کا ذریعہ بن گئیں۔
جب ایک شخص اِس طرح سوچتا ہے تو ہ تخلیق کی معنویت (meaningfulness)کو دریافت کرتاہے۔ وہ تخلیق میں خالق کو دیکھ لیتاہے— یہی وہ تجربہ ہے جو انسان کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ مادی چیزیں انسان کے باہر صرف مادی چیزیں ہیں، لیکن انسان کے ذہن میں آکر وہ شعوری ارتقا میں ڈھل جاتی ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.