Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2012
Al-Risala June 2012

ایک واقعہ

Urdu · 2 min read

سلطان غیاث الدین تغلق (وفات:1325 ء) کے دربار میں ایک خاص مسئلے پر شیخ الوقت خواجہ نظام الدین اولیاء (وفات: 1325 ء) اور شیخ الاسلام قاضی جلال الدین کے مابین مناظرہ ہوا۔ اُس وقت اپنے موقف کے حق میں خواجہ نظام الدین نے ایک حدیث رسول کو پیش کرنا چاہا، تو قاضی جلال الدین نے کہا کہ — تم ابو حنیفہ کے مقلد ہو، تمھیں حدیث رسول سے کیا مطلب۔ اگر ابو حنیفہ کا کوئی قول پیش کرسکتے ہو تو پیش کرو: ’’تو مقلدِ ابو حنیفہ ہستی، تُرا با حدیثِ رسول چہ کار۔ قول ابو حنیفہ بیار‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کو سن کر خواجہ نظام الدین اولیاء نے یہ کہتے ہوئے مناظرہ ختم کردیا اور دربار سے اٹھ گئے کہ — سبحان اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے ہوتے ہوئے مجھ سے ابو حنیفہ کے قول کا مطالبہ کیاجارہا ہے: ’’سبحان اللہ، کہ باوجود قول مصطفوی، از من قولِ ابو حنیفہ می خواہند‘‘۔ (سیر العارفین بحوالہ سہ ماہی مجلہ حکمتِ قرآن، لاہور، جنوری- مارچ 2011 ، صفحہ 9)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ ایک واقعہ نہیں، یہ ایک مثال کی صورت میں دورِ زوال کی امتِ مسلمہ کی تصویر ہے۔ زوال کے دور میں، دوسری امتوں کی طرح امتِ مسلمہ میں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ امت کے شیوخ اور اکابر، دین کا ماخذ بن گئے۔ جس طرح یہود کے دورِ زوال میں یہ ہوا کہ اُن کے احبار اور رہبان (علما اور مشائخ) اُن کے لیے دین کا ماخذ بن گئے۔ تاہم امتِ مسلمہ کے پاس اِس معاملے میں ایک واضح معیار (criterion) موجود ہے، جس کے ذریعے صحیح اور غلط میں فرق کیا جاسکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق، امت میں تین دور قُرون مشہود لہا بالخیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ تین دور یہ ہیں — دورِ رسالت، دور صحابہ، دورِ تابعین۔ اِس معیار کی روشنی میں دیکھئے تو وہ تمام افراد جن کو بعد کے زمانے میں ’’اکابر‘‘ کا درجہ دے دیاگیا، وہ سب قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد کے افراد ہیں۔ ہم کو حق ہے کہ ان بعد کے لوگوں کی باتوں کو قرآن اور سنت کی روشنی میں جانچیں۔ اگروہ قرآن اور سنت کے مطابق ہوں تو اُن کو لیں، ورنہ ان کو رد کردیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content