قدیم مکہ میں جب کہ وہاں کے سردار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کررہے تھے، اُس وقت قرآن کی سورہ الانعام میں یہ آیت اتری: قد نعلم إنہ لیحزنک الذی یقولون، فإنہم لا یکذبونک ولکنّ الظالمین بٰایات اللہ یجحدون (6: 33) یعنی ہم کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، اُس سے تم کو رنج ہوتا ہے۔ یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلا تے، بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی نشانیوں کا انکار کررہے ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی مشن سادہ طور پر صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں ہے، وہ براہِ راست طور پر اللہ کے منصوبے کا معاملہ ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے بندوں کے لیے ہدایت کا انتظام کرے، اِس لیے اُس نے پیغمبر کے ذریعے اُس دعوتی مشن کو برپا کیا ہے۔ ایسی حالت میں، پیغمبر کے دعوتی مشن کو ناکام بنانے کی کوشش کرنا، اللہ کے منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرنا ہے، اور یہ خدا کی اِس دنیا میں کسی کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔
یہ کوئی زمانی معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی دعوت خالص حق کی بنیاد پر اٹھے تو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، اُس کا معاملہ بھی یہی ہوگا۔ بظاہر یہ دعوت کسی فرد کے ذریعہ اٹھے گی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبارسے، وہ بلاشبہہ اللہ کا ایک منصوبہ ہوگا۔ دوبارہ ایسا ہوگا کہ جو لوگ اِس دعوتی مشن کی مخالفت کریں، وہ بلاشبہہ ناکام رہیں گے، ان کی مخالفانہ تدبیریں یقینی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔
بعد کے دور میں اٹھنے والی دعوتِ حق کی پہچان وہی ہوگی جو دورِ اول میں اِس قسم کی دعوتِ حق کی پہچان تھی، وہ یہ کہ اس کی مخالفت کرنے والے اپنی مخالفت کے حق میں کوئی دلیل نہ پاسکیں گے۔ اُن کی ساری مخالفت بے بنیاد الزام تراشی پر قائم ہوگی، نہ کہ کسی حقیقی دلیل پر۔ دونوں کے درمیان بلا دلیل تکذیب کی یہی مشابہت اِس بات کا ثبوت ہوگی کہ یہ مخالفت، اللہ کے منصوبے کی مخالفت ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک مجرمانہ فعل ہے، نہ کہ کوئی اسلامی فعل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔