قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — فلاح اُن اہلِ ایمان کے لیے ہے جو خشوع کے ساتھ اپنی نماز ادا کرتے ہیں (23: 1) ۔ خشوع کا لفظی مطلب فروتنی ہے، یعنی وہ حالت جو مُحاسب ومُجازی خدا کی یاد سے پیدا ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت یہ ہے: الذین یظنّون أنہم ملٰقوا ربہم (2: 46) ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ لقائِ رب کے شدید تصور سے انسان کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام خشوع ہے۔نماز میں خشوع یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اتنازیادہ بیدار ہو کہ جب وہ نماز کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرے تو اِن کلمات کا مفہوم اُس کے ذہن کو متحرک کرتا رہے۔ اس کے اعضا نماز کے ظاہری افعال کو ادا کررہے ہوں اور ا س کا ذہن خدا کے سامنے حاضری کو سوچ کر اندیشہ ناک بنا ہوا ہو، حتی کہ یہ کیفیت اتنی زیادہ شدید ہو کہ اس کے بدن پر خوف سے کپکپی طاری ہوجائے۔ اِس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے شدید محنت درکار ہوتی ہے، اِس لیے نماز کے ساتھ صبر کو شامل کیاگیا ہے (2: 45) ۔
ایک فارسی شاعر نے کہا — رات کو جب میں نماز کی نیت کرکے کھڑا ہوا تو دل میں بار بار یہ خیال آرہا تھا کہ میرا بچہ صبح کو کیا کھائے گا:
شب چو عقدِ نماز بر بندم چہ خورد بامداد فرزندم
یہ شعر تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ خشوع کی نماز ادا کرنے کے لیے کیا چیز درکار ہے، وہ یہ کہ آدمی کا ذہن کسی اور سوچ میں مبتلا نہ ہو، اپنی سوچ کے اعتبار سے، وہ پوری طرح لقائِ رب پر فوکس کئے ہوئے ہو۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ذہنی فوکس کو ہٹانے والی سب سے طاقت ور چیز منفی سوچ ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔آدمی کو چاہئے کہ وہ صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے کامل طور پر اپنے آپ کو منفی احساس سے بچائے۔ خشوع کی نماز پڑھنا صرف اُس کے لیے ممکن ہے جو نماز سے پہلے اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرچکا ہو۔ اور ایسا صرف اُس وقت ہوسکتا ہے، جب کہ آدمی اپنے اندر یہ صابرانہ نفسیات پیدا کر لے کہ وہ منفی تجربات کے باوجود اپنے آپ کو مثبت روش پر قائم رکھے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔