Maulana Wahiduddin Khan
80 min left
0:00

← Al-Risala June 2006
Al-Risala June 2006

Main Content

Urdu · 80 min read

الرسالہ، جون 2006

مہاراشٹر کا سفر

واردھا ایک تاریخی شہر ہے جو مہاراشٹر میں ناگپور کے پاس واقع ہے۔ یہاں گو پوری کے علاقے میں ہائر اسٹڈیز کا ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز۔ یہاں جنوری ۲۰۰۶ کے آخری ہفتے میں ایک سیمینار ہوا۔اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ ہر نمائندے کو پورے ایک دن کا وقت دیا گیا تاکہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات سے سامعین کو آگاہ کرے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کی صورت یہ تھی کہ پہلے مقرر اپنے مذہب کی تعلیمات کا تعارف پیش کرتا اور اس کے بعد سامعین کی طرف سے سوالات کیے جاتے۔ اس سیمینار میں مجھ کو مدعو کیاگیا تھا تاکہ میں لوگوںکو اسلام سے متعارف کراؤں، خصوصاً اسلام کے روحانیت کے پہلو کے بارے میں۔ اس پروگرام کے تحت، مہاراشٹرکا ایک سفر پیش آیا۔ ۲۴ جنوری ۲۰۰۶کی شام کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ اور ۲۶جنوری کی رات کو سفر سے واپسی ہوئی۔

جنوری کے نصف ثانی اور فروری کے نصف اول میں قریبی تاریخوں کے لئے کئی دعوت نامے مجھ کو ملے تھے— پونا، بمبئی، پور بندر، بنگلور، واردھا۔ اتنی جلد جلد کئی سفر کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ اس لیے میں نے صرف واردھا کا انتخاب کیا۔ اس سلسلے میں یہ سفر پیش آیا ۔

پونا میں ایک عالمی امن کانفرنس (World Peace Conference 2006) ہوئی۔ یہ کانفرنس ۳۰ جنوری سے ۳ فروری تک جاری رہی۔ اس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۷۰۰ نمائندے شریک ہوئے۔

عالمی امن کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس کا اہتمام حسب ذیل دو بڑی تنظیموں نے کیاتھا

World Peace Centre, Maeer's MIT, Pune

India International Multivarsity, Pune

یہ کانفرنس یونسکو(UNESCO) کی ۶۰ویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی۔ اس کانفرنس میںشرکت کے لئے مجھ کو اس کا دعوت نامہ مورخہ ۲۷ دسمبر ۲۰۰۵موصول ہوا جس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے

Vision of UNESCO for the 21st century— Education for Peace and Sustainable Development.

اس دعوت نامے کے بعد ان کی طرف سے کئی ٹیلی فون آئے مگر میںاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں کرسکاتھا۔ انھوں نے خود سے ائر سہارا (Air Sahara) کے دو رٹرن ٹکٹ بھی بھیج دئے۔ ایک میرے لئے اور ایک میرے ساتھی کے لئے۔ مگر میں بعض وجوہ سے اس میں شرکت کا پروگرام نہ بنا سکا۔ آخر کار ۲۴جنوری کو ان کا ٹکٹ بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیا گیا۔

۲۴ جنوری کو جب میں سفر پر روانہ ہوا تو حج کے موقع پر ۱۲ جنوری ۲۰۰۶ کو پیش آنے والے واقعے کا چرچا ابھی تک جاری تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے ۱۲ جنوری کو رَمی ٔ جمرات (شیطان کو کنکر مارنے) کے موقع پر وہاں بھگدڑ ہوئی اور اس میں دب کہ ۳۶۲ آدمی مر گئے۔ شیطان کو علامتی طور پر مارنے کے جوش میں لوگوں نے انسان کو حقیقی طورپر مار ڈالا۔

اس قسم کا حادثہ تقریباً ہر سال پیش آتا ہے۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ رمی ٔ جمرات کے موقع پر شیطان کو مارنا صرف علامتی سنگ باری (symbolic stoning) کے طورپر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔ لیکن فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خود زندہ شیطان کو مار رہے ہیں۔ اسی بے خبری کا نتیجہ جوش و خروش ہے۔ اگر لوگ شعوری طورپر یہ سمجھیں کہ رمی ٔـ جمرات کا یہ معاملہ ایک علامتی معاملہ ہے نہ کہ حقیقی معاملہ، اگر لوگ اس فرق کو جانیں تو اس عمل کے وقت ان کے اندر وہ غیر معمولی جوش وخروش نہ پیدا ہو جس کے نتیجے میں مذکورہ قسم کا واقعہ پیش آتا ہے۔

میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں بعد کے زمانے کے بارے میں آیا ہے کہ  لم یبق من الاسلام الا اسمہ۔ یعنی امت مسلمہ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ اس کے اندر اسلام کا صرف نام باقی رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہوچکی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہر جگہ اسلام کا نام استعمال ہورہا ہے۔ ہر جگہ اسلام کے نام پر دھوم ہورہی ہے لیکن حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کہیں بھی اسپرٹ والا اسلام موجود نہیں۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ بڑھا ہے کہ اب لوگ بے روح فارم ہی کو اسلام سمجھنے لگے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۲۴ جنوری کی سہ پہر کو گھر سے ائر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ اس وقت دہلی میں ابھی کافی سردی تھی۔ محکمۂ موسمیات کی اطلاع کے مطابق، دہلی میں اس سال جو سردی پڑی وہ پچھلے ستر سال میں سب سے زیادہ تھی۔ چنانچہ دہلی میں رات کا درجۂ حرارت زیرو پوائنٹ تک پہنچ گیا۔ سردی کا موسم انسان کے لئے بے حد سخت ہے چنانچہ سینکڑوں لوگ اس موسم میں ٹھٹھر کر مرگئے۔

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ خدا نے قومِ عاد کے انکار پر اس کو سخت عذاب میں ہلاک کردیا۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں إنّا أرسلنا علیہم ریحاً صرصراً فی یوم نحس مستمرّ (القمر ۱۹۔۱۸) دوسری جگہ ایّامِ نحسات (حم السجدہ ۱۶) کے الفاظ آئے ہیں۔اس آیت کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ منحوس دنوں میں انھیں عذاب دیاگیا۔ مگر صحیح یہ ہے کہ انھیں سخت سردی کے موسم میں عذاب دیاگیا۔ ان کے علاقے میںسردی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اس میں گھر کر وہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ یومِ نحس کا یہ مفہوم لسان العرب میںدیکھا جاسکتا ہے۔ (جلد ۶، صفحہ ۲۲۷)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روانگی کے دن میری ملاقات مولانا محمد ذکوان ندوی سے ہوئی ۔ انھوںنے اپنے ایک ساتھی کا خط دکھایا۔ یہ خط راقم الحروف کے بارے میں تھا۔ اس خط کا پورا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے

’بندے کو آپ کے توسط سے حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ یہ موقع بندے کے لئے ایک انقلابی موقع ثابت ہوا کیوں کہ میری سوچ یہ ہے کہ اگر خدا سے ملنا ہے توعلماء کی صحبت اختیار کی جائے۔ لہذا میں عالیجناب سے ملاقات کرکے بہت خوش ہوا اور میری خوشیوں میں مزید اضافہ جب ہوا کہ جب میںنے حضرت والا کی عطا کردہ گراں قدر کتاب ’’راز حیات‘‘ کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے جیسا کہ اپنے نام ہی سے ظاہر ہے میرے قلب کو منور و مجلّی کردیا۔ کیوں کہ میں ابھی تک جس دائرے میں رہ کر زندگی گذار رہا تھااس میں مجھ کو صرف اور صرف ناامیدیاں ہی ناامیدیاں نظر آرہی تھیں، بلندیوں کی طرف توجہ ہی نہ ہوپاتی تھی جس سے آئندہ زندگی تاریک نظر آنے لگی تھی لیکن ’’رازِحیات‘‘ کو پڑھ کر میں کچھ اس طرح متاثر ہورہا ہوں کہ اب مستقبل مجھے آفتاب اور ماہتاب کی طرح روشن نظر آتا ہے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ میری نسبت حضرتِ والا سے مستقل طورپر جُڑ جائے اس کے لیے حضرت والا کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ (۱۵جنوری ۲۰۰۶، حافظ شمس الحق، ایم۔اے، گونڈہ)

دار العلوم دیوبند (وقف) کے تحت،۲۴،۲۵،۲۶ مئی ۲۰۰۶کو قاری محمد طیب صاحب کے اوپر ایک عالمی سیمینار ہونے والا ہے۔ اس کی ایک پیشگی رپورٹ نئی دہلی کے روزنامہ راشٹریہ سہارا ۲۳جنوری ۲۰۰۶میں نظر سے گذری۔ دارالعلوم کے نائب مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے دیوبند میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ —دارالعلوم تحریک امن وسلامتی، انسان دوستی اور عدم تشدّد کے فلسفے کی پیام بَر ہے۔ (صفحہ ۴)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے ۔ دار العلوم دیوبند کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ادارہ انگریزوں کے خلاف مسلّح جہاد کی تحریک کے ضمن میں قائم ہوا۔ بوقتِ قیام، اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے لیے مجاہد تیار کیے جائیں۔ دیوبندی علماء نے اس زمانے میں فتویٰ دیا تھا کہ ہندستان دار الحرب ہوچکا ہے، اور انگریزوں کے خلاف مسلّح جہاد مسلمانوں کا فریضہ ہے۔

اس جلو میں دارالعلوم دیوبند قائم ہوا۔ چنانچہ اس کے بڑے بڑے علماء مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا محمود الحسن دیوبندی، مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ باقاعدہ طورپر انگریز مخالف جہاد میں شریک رہے۔ یہ حقیقت سوانحِ قاسمی(مولانا مناظر احسن گیلانی) اور علمائِ ہند کا شاندار ماضی (مولانا محمد میاں) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غیر متشددانہ پالیسی بلا شبہہ بہت اچھی چیز ہے۔ مگر مذکورہ بیان تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ اس قسم کا بیان ایک غلط ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ یعنی ماضی کی غلطی کا اعتراف نہ کرتے ہوئے حال کی پسندیدہ بولی بولنا۔ مولانا موصوف کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ صاف طورپر یہ اعلان کریں کہ ماضی کے علماء کا یہ اقدام غلط تھا کہ انھوں نے ہندستان کو دار الحرب قرار دیا، اور انگریزوں کے خلاف مسلّح جہاد کا فتویٰ دیا۔ اِس اعلان کے بعد وہ کہتے کہ اب ہم اِس غلطی کی تصحیح کرتے ہیں، اور ازسرِ نو صحیح پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

غلطی کا اعتراف کیے بغیر اپنے موقف کو بدلنا، ایک سنگین جرم ہے۔ اِسی سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ لوگ صحیح انداز میں سوچنے کے قابل نہیں بنتے۔ صحتِ فکر کی لازمی شرط ہے — پچھلی غلطی کا اعتراف۔غلطی کا اعتراف کیے بغیر خاموشی سے اپنا موقف بدل لینا، یہ موجودہ زمانے میں عام ہوچکا ہے۔ مذہبی لوگ اور سیکولر لوگ دونوں ہی اِس روش میں مبتلا ہیں۔ ایسا کرکے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی پوزیشن کو محفوظ کررہے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے انعام سے محروم کررہے ہیں، اور وہ ہے حقیقت واقعہ کا اعتراف، اور ذہنی ارتقاء۔

دہلی ائر پورٹ پر ٹائم میگزین کا شمارہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۶ دیکھنے کو ملا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان یہ تھا

The Case for Doing One Thing at a Time.

یہ ایک امریکی خاتون ہیں جن کا نام ہے سوزے آرمن(Suze Orman) یہ خاتون امریکا کی نمبر ایک فائننشل ایڈوائزر سمجھی جاتی ہیں۔ ان کو یہ غیر معمولی مقام کیسے ملا۔ اس کا راز مضمون میںیہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک کام کرتی ہیں۔ وہ شدت سے اپنے اس اصول پر کاربند ہیں

Financial advisor, Suze Orman refuses to be interrupted while on task.

وہ تنہا ہیں، انھوں نے شادی نہیں کی۔ حتی کہ ان کا کوئی سرونٹ یا مددگار بھی نہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر (distraction) کو برداشت نہیں کرتیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے بارے میں کہا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

When I am writing, I don’t answer phones. I don't care what else is going on. (p. 37)

دہلی ائر پورٹ پر ایک صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کا نام نیرج جین تھا۔ وہ ایک کمپیوٹر کمپنی میں چیف ایگزیکیٹیو آفیسرتھے۔ انھوں نے میرے ساتھی سے میرے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اسپریچول گرو ہیں۔ انھوں نے دلچسپی ظاہر کی تو انھیں انگریزی کے چند پمفلٹ دئے گئے جو CPS کے تحت چھاپے گئے ہیں۔ ان کتابچوں کے نام یہ ہیں

The Reality of Man

Man and God

Destination of Man

موجودہ زمانے میں دعوہ ورک کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سفر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب لوگوں کے درمیان بہت زیادہ انٹریکشن ہونے لگا۔ یہ انٹریکشن دعوہ ورک کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔ اگر لوگ اپنے بیگ میں دعوتی موضوعات پر کتابچے رکھ لیں اور ملاقات کے وقت لوگوں کو دیتے رہیں تو موثر دعوتی کام ہوسکتا ہے۔

ایر پورٹ کے اندر پہنچا تو وِنڈو پر بیٹھی ہوئی خاتون نے بتایا کہ جہاز ٹھیک وقت پر دہلی سے روانہ ہوگا۔ مگر عملاً ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے ساتھ جہاز کی روانگی ہوئی۔ سنگا پور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے بتایا کہ سنگا پور میں ٹائم کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ وہاں جہاز ٹھیک وقت پرروانہ ہوتا ہے اور ٹھیک وقت پر اترتا ہے۔ انڈیا میںلوگ ٹائم کانشش نہیں۔ مزیز یہ کہ انڈیا کے ائر پورٹ پر ابھی تک ماڈرن سہولتیں موجود نہیں، حتی کہ دہلی ایر پورٹ میں بھی نہیں۔ ایر پورٹ کو جب تک عالمی معیار کے مطابق نہ بنایا جائے اِس قسم کے مسائل جاری رہیں گے۔

جہاز کے اندر داخل ہوا تو وہاں مطالعے کے لیے اخبارات موجود تھے۔۲۴ جنوری ۲۰۰۶ کے ٹائمس آف انڈیا میں کچھ سبق آموز خبریں تھیں ایک خبر یہ تھی کہ فلم اسٹار امیتابھ بچن بہت بڑی رقم ایک مندر کو نذرانے میں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں خبر کے الفاظ یہ تھے

Bachchan refuses to comment on the news report that he is donating jewellery worth Rs. 10 crore to the Trupati Temple. I don't like my religious activities to be made public.

اِس خبر پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میںآیا کہ ہر انسان کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے بڑا ہے۔ اپنے لیے ایک بڑے کو پانے کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ یہ جذبہ حقیقتاً خدائے برتر کے لیے ہے۔ لیکن خدا کو نہ پانے کی صورت میں وہ اپنے اِن احساسات کو کسی غیر خدا کے لیے وقف کردیتا ہے۔

ہر ایر پورٹ پر سیکورٹی چیک کا ایک مسئلہ ہوتا ہے، وہ دہلی ایر پورٹ پر بھی پیش آیا۔ ایک اخبار میں یہ خبر تھی کہ سیکورٹی چیک ہر مسافر کے لیے ضر وری ہے۔ ایر پورٹ کے کئی مرحلے میں ہر مسافر کی پوری چکنگ کی جاتی ہے۔ مگر ملکی قانون کے مطابق، کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شہری پرواز کی وزارت کے تحت، سیکور ٹی کٹیگری کمیٹی (Security Category Committee) ہے۔ اس نے کچھ شخصیتوں کو سیکورٹی چیک سے مستثنیٰ قرار دیا ہے—پریسیڈنٹ، پرائم منسٹر، سابق پرائم منسٹر اور سابق پریسیڈنٹ، چیف جسٹس آف انڈیا، اور دلائی لاما۔یہ طریقہ صرف انڈیا میں ہے۔ باہر کے ترقی یافتہ ملکوں میںاس قسم کے امتیازی طریقے موجود نہیں

unverifiedAttribution could not be verified automatically

Throughout the world the airport security checks are being tightened. So much so that even former US vice presedent Al Gore had to take off his shoes for a security check, post 9/11.

جیٹ ایر ویز کا فلائٹ میگزین جیٹ ونگس (Jetwings) کا شمارہ جنوری ۲۰۰۶جہاز کے اندر برائے مطالعہ موجود تھا۔ ۲۸۸ صفحے کا یہ میگزین آرٹ پیپر پر چھپا ہوا تھا۔ ہر صفحے پر خوب صورت رنگین تصویریں تھیں۔ لیکن پورے میگزین میں کوئی ایسی بامعنٰی بات نہیں ملی جو سفر نامے میں قابلِ ذکر ہو۔ اکثر فلائٹ میگزین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر صرف دو چیزیں شائع کی جاتی ہیں— اشتہار یا تفریحی مضامین۔

تاہم یہ کوئی استثنائی بات نہیں۔ اکثر لوگ جو جرائد کو خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ان سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس میں کوئی بامعنی بات پڑھی ہو تو بتائیے ۔ لیکن میرے تجربے کے مطابق، ننانوے فیصد لوگ کوئی نصیحت کی بات یا کوئی معنی خیز بات بتا نہیں پاتے۔ تقریباً ہر زبان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک صاحب جو ایک اردو ماہ نامہ کے خریدار ہیں اور دس سال سے اس کا مطالعہ کررہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اِس پوری مدت میں کوئی سبق کی بات پڑھی ہو تو وہ بتائیے۔ وہ ایک بات بھی نہ بتا سکے۔

گہرائی کے ساتھ دیکھے تو یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ صرف رسائل اور جرائد کی اپنی حالت کا بیان نہیںہے بلکہ وہ اُن لکھنے والے دانش وروں کی فکری حالت کا بیان ہے جو ان کو مرتب کرتے ہیں اور انھیں شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ ان حضرات کی اکثریت کا معاملہ ٹھیک وہی ہے جو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

او خویشتن گُم است کرا رہبری کُند

سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ماہ نامہ کے ایڈیٹر تھے۔ ان سے گفتگو شروع ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کوئی مثبت بات نہیں ہے۔ ان کے پاس یا تو اپنے مفروضہ اکابر کی تعریفیں تھیں یا مفروضہ دشمنوں کی شکایتیں۔ اِس قسم کی سوچ میرے نزدیک منفی سوچ ہے، اور منفی سوچ کا آدمی، کوئی با معنٰی نصیحت کی بات نہیں سوچ پاتا۔ با معنیٰ نصیحت ہمیشہ مثبت ذہن سے نکلتی ہے۔ منفی ذہن اور مثبت پیغام دونوں ایک انسان کے اندر جمع نہیں ہوسکتیں۔

ایڈیٹر صاحب سے گفتگوکے دوران محسوس ہوا کہ وہ مثبت کلام اور منفی کلام کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً وہ ادبی انداز کی تعریفی تحریروں کو مثبت تحریر سمجھتے تھے، اور تجزیاتی تنقید کو منفی تحریر کا درجہ دیتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ اصل چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ کسی مضمون کو پڑھ کر قاری کو اپنے لیے کوئی تعمیری پیغام ملا یا نہیں۔ مثبت انداز دراصل تعمیری انداز ہے، اور منفی انداز وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تخریبی انداز کہا جاسکتا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مثلاً اگر آپ اپنی ایک محبوب شخصیت کے بارے میں لکھیں کہ وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ ان کی تحریروں نے ایک نیا عہد پیدا کیا۔ انھوں نے وقت کے ظالموں کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ وہ اپنے زمانے کے تمام اہل قلم میں ایوریسٹ کی چوٹی پر نظر آتے تھے، وغیرہ ۔ اِس طرح کے الفاظ پڑھ کر کسی قاری کو اپنی زندگی کے لیے کوئی تعمیری پیغام نہیں ملتا۔ اس لیے میںاس کو منفی ادب میں شمار کروں گا۔

اس کے برعکس، اگر ایک شخص تجزیاتی تنقید کا طریقہ اختیار کرے۔ مثلاً وہ اقبال کے اِس شعر کا حوالہ دے

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پے آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

وہ لکھے کہ اِس شعر میں مغربی تہذیب کو خنجر کہاگیا ہے۔ حالاں کہ مغربی تہذیب علومِ فطرت کی تحقیق کا پیغام دیتی ہے۔ یہ بظاہر ایک تنقید ہے لیکن وہ مثبت نتیجے کی حامل ہے۔کیوں کہ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قاری، مغربی تہذیب سے نفرت کو چھوڑے گا اور اس سے مثبت فائدہ اٹھا کر علومِ فطرت کو حاصل کرے گا جو موجودہ زمانے میں ترقی کے لیے ضروری ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تنقید کے معاملے میں رائے قائم کرنے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے۔ جو تنقید قاری کو صرف نفرت اور غصّے کا تحفہ دے وہ تخریبی تنقید ہے، اِس کے برعکس، جو تنقید قاری کو اصلاحِ حال کا سبق دے وہ تعمیری تنقید ہے۔ اور وہ مطلوب تحریر کا درجہ رکھتی ہے۔

دہلی سے ناگپور کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔ ناگپور ایر پورٹ پر مسٹر عبد السلام اکبانی، جسٹس ایم۔ ایم۔ قاضی اور مسٹر زبیر احمد اکبانی موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر مسٹر عبدالسلام اکبانی کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ یہاں رات گذار کر صبح سویرے مجھے بذریعہ کار واردھا جانا تھا۔

رات کو ناگپور میں قیام رہا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی صبح کو فجر کی نماز ناگپور میں پڑھی۔ اس کے بعد بذریعے کار ناگپور سے واردھا کے لیے روانگی ہوئی۔ صبح کے سُہانے وقت میں سفر کرنا گویا فطرت کی دنیا میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا یہ سفر اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ راستے میں سڑک کے دونوں طرف فطرت کی دنیا تھی جو صبح کی روشنی میں چمک اٹھی تھی۔ کُھلا آسمان، کھلی روشنی، درختوں اور کھیتوں کے مناظر، چڑیوں کی آوازیں، اِس طرح کے ماحول میں یہ سفر طے ہوتا رہا۔ سڑک زیادہ اچھی نہ تھی تاہم فطرت کا مشاہدہ اِس کمی کے احساس پر غالب آگیا۔

فطر ت اور انسانی تمدن میں فرق پر غور کرتے ہوئے میںنے کہا کہ فطرت کا خالق کتنا عظیم ہے جس نے ایک عظیم کائنات اس طرح بنائی کہ اس کو دوبارہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کے مقابلے میں انسان ایک متمدن دنیا کی تعمیر کرتا ہے اور اس میں بار بار نظر ثانی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ یہ فرق بلا شبہہ قادرِ مطلق کے وجود کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد واردھا پہنچا۔ یہاں گوپوری کے علاقے میں ایک بڑے رقبے میں ایک ادارہ قائم ہے جس کانام یہ ہے —انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز۔ ادارے کے قیام کے لیے یہ زمین جمنا لال بجاج نے دی تھی جو کہ گاندھی سے بہت متاثر تھے۔ یہاں صبح کی چائے کے ساتھ مقامی منتظمین سے کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد مجھ کو ادارے کے ہال میں لے جایا گیا جہاں سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔

چائے کی اس نشست کے دوران ایک صاحب نے اسلام میں نظرِ ثانی (revision) کی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام ساتویں صدی عیسوی میںآیا تھا۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اور اسلام کو آج کے لحاظ سے ریلیوینٹ (relevant) بنانے کے لیے اسلام میں نظرِ ثانی اور ریفارم کی ضرورت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ یہ مسئلہ موجودہ زمانے میں بار بار اٹھایا گیا ہے۔ اپنے مطالعے اور غور وفکر کے بعد میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ معاملہ اسلام میں ریفارم یا نظرِ ثانی کا نہیں ہے بلکہ بعد کے زمانے میں اسلام پر پڑے ہوئے غبار کو ہٹانے کا مسئلہ ہے۔ ایک ماڈرن رائٹر نے کہا ہے کہ قرآن کو پھر سے نازل ہونا چاہیے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Qur’an has to be re-revealed today.

میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ قرآن آج بھی پوری طرح ریلیوینٹ (relevant) ہے۔ مسئلہ صرف بعد کو پیدا ہونے والے نظریات کا ہے جو اسلام کی صحیح نمائندگی نہیںکر رہے ہیں۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اِن پَردوں کو ہٹائیں اور اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں جان سکیں۔ اس لیے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن کو پھر سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے

Qur’an has to be re-discovered today.

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جو روایت پسند ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کو کرانت کاری (انقلابی) کہاجاتا ہے۔ روایت پسند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جس ماحول میں یا جن حالات میں رہتا ہے اس کے لحاظ سے اس کا ایک مزاج بن جاتا ہے۔ اس مزاج کے تحت، وہ اپنی ایک پُر عافیت زندگی بنا لیتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر اس کو ایک محفوظ طریقہ سمجھتا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں زیادہ غور وفکر نہ کرے بلکہ حالات کے تحت، اس کا جو ذہن بن گیا ہے اس پر مطمئن ہو کر آسودگی کی زندگی گذارتا رہے۔

کرانت کاری انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عقلی طورپر سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ ہر چیز کی معقولیت کو جاننا چاہتا ہے۔ روایت پرست انسان اگر اپنی عقل کو معطّل کرلیتا ہے تو کرانت کاری انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ وہ کسی بات کو اس وقت تک نہیں مانتا جب تک وہ عقلی طور پر اس کے لیے قابلِ فہم نہ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو معرفت کے اعلیٰ درجے حاصل ہوتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز میں ایک خوبصورت ہال ہے۔ یہ ہال چاروں طرف سے کھلا ہوا ہے۔ اس کے چاروں طرف درختوں کا منظر ہے اور چڑیوں کی آوازیں سُنائی دیتی ہیں۔ اس ہال میں سیمینار کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان لوگ تھے۔ کچھ خواتین بھی اس میں شامل تھیں۔ پہلے ادارے کے چیر مین نے ابتدائی خطاب کیا۔ اس میں پروگرام کے بارے میں اور میرے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد میرا خطاب شروع ہوا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کا پورا دن مجھے دیا گیا تھا۔ ایک سشن لنچ سے پہلے ہوا، اور اور دوسرا سشن لنچ کے بعد۔ دونوں سشن میں پہلے میری تقریر ہوئی، اور اس کے بعد سوال اور جواب شروع ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔

میں نے اپنے خطاب میں پہلے اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی مختصر تاریخ بیان کی۔ اِس سلسلے میں میں نے کہا کہ اسلام سُپیریر ریلیجن نہیں ہے بلکہ وہ محفوظ (preserved) ریلیجن ہے۔ تمام پیغمبروں کا مذہب ایک ہی تھا، لیکن اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے۔ اور اسی طرح قرآن کی اصل زبان بھی ایک زندہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیمات امن، اور روحانیت اور انسانیت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہیں۔ اسلام مثبت اندازِ فکر (positive thinking) پیدا کرتا ہے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جنگ کی ایک ہی صورت جائز ہے اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ خارجی حملے کی صورت میں اسلام میں جنگ کو جائز کیاگیا ہے لیکن یہ جنگ بھی صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت ہی کرسکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کا جنگ کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ غیرحکومتی تنظیموں کے لیے صرف پُرامن جدوجہد ہے۔ اور اگر پُرامن جدوجہد کے مواقع نہ ہوں تو ان پر فرض ہے کہ وہ صبر کریں اور خدا سے دعا کرتے رہیں۔

مذہبی اختلافات کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اختلافات کو مٹانا ممکن نہیں۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد کی راہیں تلاش کی جائیں اور وہ یہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گر وہ کا احترام کرے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پُرامن انداز میں ڈائلاگ جاری رہنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں قر آن اور حدیث کے حوالوں اور صحابہ کے واقعات سے اِس بات کو واضح کیاگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تقریر کے بعد حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گیے جن کا جواب دیا گیا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقریر میں نے نہایت غور سے سنی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آج میں نے اسلام کو ری ڈسکور کیا

Today I have re-discovered Islam.

میں اسلام کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں کا شکار تھا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ اسلام نفرت اور تشدّد کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر آج معلوم ہوا کہ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔ اب میں اسلام کا مزید مطالعہ کروں گا۔ ایک اور تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ کی تقریر سے مجھے اسلام کے مطالعے کا ایک اہم اصول ملا۔ وہ یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کو الگ کرکے دیکھا جائے۔ اسلام کے بارے میں جورائے قائم کی جائے وہ اسلام کی اپنی تعلیمات کی روشنی میں ہو نہ کہ مسلمانوں کو یا مسلم سوسائٹی کو دیکھ کر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم نے سُنا ہے کہ اسلام حُبّ الوطنی کے خلاف ہے۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان صرف مکّہ مدینہ سے محبت کرے، اور ملک سے نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کرنے کو اسلام میںبُت پرستی کا درجہ دیاگیا ہے۔ میںنے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے اپنے شعر میں اِس قسم کی بات کہی ہے مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے۔ جس طرح ماں سے محبت ایک فطری چیز ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام دینِ فطرت ہے اس لیے وطن کی فطری محبت بھی اسلام کے عین مطابق ہے۔ البتہ وطن کو معبود سمجھنا اور وطن کو پوجنا، یہ اسلام میں نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ وطن پرستی کا تصور صرف انڈیا میںپایا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں میں حبّ الوطنی کا تصور موجود ہے لیکن وطن پرستی کا تصور انڈیا کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔

ایک اور صاحب نے سوا ل کیا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ اسلام میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان چار شادیاں کرے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے۔ میںنے کہا کہ یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ اسلام میںایک سے زیادہ شادی کی اجازت صرف ہنگامی حالات کے لیے ہے وہ کوئی عمومی حکم نہیں۔ جنگ یا کسی حادثے کے موقع پر ایسا ہوتا ہے کہ مَردوں کی تعداد گھٹ جاتی ہے اور عورتیں سرپلس ہوجاتی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف معاشرتی انتظام کے طورپر ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق، عورتوں کی تعداد اور مَردوں کی تعداد ہمیشہ تقریباً برابر برابر ہوتی ہے۔ اس لیے ایک شوہر اور ایک بیوی کا فارمولا ہی فطری فارمولاہے۔ البتہ جب کسی بحران کے نتیجے میں عورتیں سر پلس ہوجائیں تو اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنا پڑے گا۔ اور ایک سے زیادہ شادی اِسی مسئلے کے حل کی ایک تدبیر ہے۔ میںنے کہا کہ جب عورتیں سرپلس ہوجائیں تو ایسا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں معاشرے میںجنسی انارکی پھیل جائے گی۔

ایک خاتون نے سوال کیا کہ اسلام میں عورتوں کو برابر کے حقوق نہیں دیے گیے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورتوں کو دبا کر رکھو۔ میں نے کہا کہ یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے۔ یہ غلطی فہمی ایک غلط تقابل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب میں نسوانی آزادی کا مطلب بے قید آزادی سمجھا جاتا ہے۔ جو آخر کار صنفی انارکی تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ اِس معیار کو لے کر اسلام کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ معیار بذاتِ خود ردست نہیں اگر آزادی کو لے کر تقابل کیا جائے تو اسلام میں مکمل آزادی ملے گی۔ لیکن اگر بے قیدی کے تصور کو لے کر تقابل کیا جائے تو بلاشبہہ اِس قسم کی بے قید آزادی اسلام میں نہیں ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے۔ اسلام میں عورتوں کا کوئی رول نہیں اس لیے اسلام میں عورتوں کی تعلیم کو بھی پسند نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ آپ ان کی لائف کو پڑھیں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ انھوں نے کتنے بڑے بڑے کام کیے ہیں اور کتنی اعلیٰ سطح پر اسلام کی نمائندگی کی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر میں نے کہا کہ اس کا ایک عملی ثبوت خود یہاں بھی موجود ہے۔ میں ایک مذہبی مسلمان ہوں۔ اسلام میرا مشن ہے۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میری لڑکی فریدہ خانم اور میری پوتی سعدیہ یہاں موجود ہیں۔ دونوں نے یہاں اسلام پر انگریزی میںتقریریں کی ہیں۔ کیا تعلیم کے بغیر یہ دونوں یہاں کے پروگرام میں حصہ لے سکتی تھیں۔ میںنے کہا کہ تعلیم زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اور جو چیز زندگی کا حصہ ہو وہ یقینی طورپر اسلام کا بھی حصہ ہوگا۔

انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز میںمقررہ پروگرام کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ اِن لوگوں سے بربر باتیں ہوتی رہیں۔ ادارے کے ایک رُکن نے میرے ساتھ واردھا اور ناگپور کے درمیان سفر بھی کیا۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔

موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو کھُلا پن(openness) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ لوگ کھُلے طورپر ڈائیلاگ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ قدیم زمانے میں لوگ صرف بند ذہن کے تحت سوچنا جانتے تھے۔ اس مزاج نے جو نیے مواقع پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کو جاننا چاہتے ہیں۔ اِس طرح موجودہ زمانے میں پہلی بار ساری دنیا میں رلیجس انڈر اسٹینڈنگ (religious understanding) کا ماحول بنا ہے۔

مجھے خدا کے فضل سے مسلسل اِس جدید امکان سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا بڑا تجربہ مجھے اب سے ۴۷ سال پہلے پیش آیا۔ آریہ سماج (سیوہارہ، ضلع بجنور) نے اپنے چونسٹھ سالہ جشن جوبلی کے موقع پر آخر نومبر ۱۹۵۹ میں ایک ہفتہ منایا تھا۔ اِس موقع پر ۲۹ نومبر کو ایک بین مذاہب کانفرنس ہوئی۔ جس میں مختلف مذاہب کے علما نے شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے میں نے وہاں ایک مقالہ پیش کیا۔ ۲۴ صفحات کا یہ مقالہ ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

یہ جلسہ اصلاً مذاہب کے درمیان باہمی تعارف کے لیے کیاگیا تھا۔ لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ یہاں مذہبی مناظرہ ہونے والا ہے۔ لوگوں کو مناظرہ (debate) سے خاص دل چسپی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہاں ہندو اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اکھٹا ہوگئی۔ میں نے مقالے کی صورت میں اپنے خیالات پیش کیے۔ اس جلسے کے صدر بریلی کے ایک ہندو وکیل تھے۔آخر میں اپنی صدارتی تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ —جن لوگوں نے یہاں تقریر کی ان میں صرف ایک تقریر ایسی تھی جو پوری طرح واضح اور ہر ایک کے لیے قابلِ فہم تھی، اور یہ اسلام کے نمائندے کی تقریر تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قسم کے جلسے آج کل ساری دنیا میں ہورہے ہیں۔ مجھے بار بار اِن جلسوں میں اسلام کی نمائندگی کے لیے بُلایا جاتا ہے، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ میں ہر جگہ کسی شرط یا تحفظ ذہنی کے بغیر اسلام کی تعلیمات کو پیش کرتا ہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگ جب اسلام کی فطری تعلیمات کو سنتے ہیں تو وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ہم خود بھی اپنے انتظام کے تحت، اِس قسم کے جلسے منعقد کرتے ہیں۔ اس کی ایک باقاعدہ اور منظم صورت یہ ہے کہ الرسالہ مشن یا CPS کی طرف سے نئی دہلی میں ہفتے واراجتماع ہر اتوار کو، اسپریچول کلاس کے نام سے کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے مسلسل طورپر جاری ہے۔ اِس میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز (واردھا) کا موجودہ سفر بھی اسی قسم کا ایک سفر تھا۔ اس سے پہلے بھی میں یہاں دوبار آچکا ہوں۔ اب یہ تیسری بار یہاں کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی وہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں ننّانوے فیصد ہندو حضرات تھے۔ یہ سب گاندھیائی خیالات سے متاثر تھے۔ ان میں کوئی ایسا نہ تھا جو غیر ضروری بحثیں کرے یا معاندانہ قسم کے سوالات پیش کرے۔ یہاں کے سبھی لوگ سنجیدہ اور علمی مزاج رکھنے والے نظر آئے۔

اِس انسٹی ٹیوٹ کے تحت، ایک تعلیمی ادارہ چلایا جارہا ہے۔ یہاں ایک اچھی لائبریری بھی قائم ہے۔ یہاں کا ماحول امن اور رُوحانیت کا ماحول نظر آتا ہے۔ یہاں جن لوگوں سے بھی باتیں ہوئیں انھوں نے بحث و تکرار کا انداز اختیار نہیں کیا بلکہ سنجیدہ انداز میں زیر بحث بات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہاں اِس سلسلے میں چند گفتگو ئیں نقل کی جاتی ہیں

ایک صاحب نے کہا کہ آج کل مسلمان جگہ جگہ خودکُش بمباری (suicide bombing) کررہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اسلام ساری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ آپ خود کش بمباری کے خلاف ایک کتاب لکھیے، جس کا ٹائٹل یہ ہو

opposing viewA view stated in order to be argued against

Why suicide bombing is haram in Islam.

یعنی خود کش بمباری اسلام میں کیوں حرام ہے— میں نے کہا کہ اس سے پہلے ایک اور کتاب لکھنے کی ضرورت ہے جس کا نام یہ ہو کہ —نفرت بم کیوں اسلام میں سُپر حرام ہے

Why hate bombing is super haram in Islam.

میں نے کہا کہ عام طورپر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود کُش بمباری کے ذمّے دار صرف چند مسلم نوجوان ہیں۔ مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خود کش بمباری کے ذمّے دار موجودہ زمانے کے تقریباً سارے ہی مسلمان ہیں۔

اس لیے کہ آج کی دنیا میں ہر جگہ یہ ہورہا ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں کے خلاف ظلم کی داستانیں بیان کرنے میں مشغول ہیں، وہ اِن قوموں کو اسلام اور مسلمان کا دشمن بتارہے ہیں۔ مسلمانوں کے اخبار، ان کے اجتماعات، ان کی مجلسیں، ان کی کتابیں اور رسالے، حتی کہ ان کی مسجد اور مدرسے ہر جگہ یہی بتایا جارہا ہے کہ دوسری قومیں ان کی دشمن ہوگئی ہیں۔ ہر ایک ان کے خلاف زیادتی کرنے میں مشغول ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک ہی کام میں مشغول ہیں، وہ ہے غیر مسلم قوموں کی منفی تصویر پیش کرنا، ان کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طورپر نفرتی مہم چلانا۔عرب سے لے کر عجم تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جگہ یہی نفرتی مہم (hate campaign) جاری ہے۔

مسلم ملّت کی یہی وہ صورتِ حال ہے جس کی وجہ سے مسلم نوجوان دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور غصے میں بھر گیے۔ اسی نفرت اور غصے کا اظہار خود کش بمباری کی صورت میں ہوتا ہے۔

اسی سے اس بات کی توجیہہ ہوجاتی ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ یہ خود کش بمباری اکثر پڑھے لکھے نوجوان کرتے ہیں نہ کہ جاہل اور غریب مسلمان۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ نفرتی مہم پریس اور میڈیا کی سطح پر چلائی جاتی ہے۔ اور پریس اور میڈیا تک انھیں لوگوں کی پہنچ ہوتی ہے جن کو تعلیم یافتہ مسلمان کہا جاتا ہے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے شیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی۔بی۔شیلے (Percy Bysshe Shelley) ایک برٹش شاعر تھا۔ وہ ۱۷۹۲ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۲۲ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ— ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ پُر درد نغمے ہیں

Our sweetest songs are those that tell our saddest thoughts.

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو دردمند زندگی ملتی ہے انھیں کی زبان سے پُر سوز کلام جاری ہوتا ہے۔ پُر راحت اور پُر مسرت زندگی گذرانے والے کبھی پُرسوز کلام کی تخلیق نہیں کرسکتے۔ اِسی حقیقت کو فانی بدایونی نے اِن الفاظ میں نظم کیا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زمانہ بَر سرِ آزار تھا مگر فانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو

جب کسی انسان کو خدا پُردرد زندگی دے تو یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔ یہ اِس بات کی علامت ہے کہ خدا اُس انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگانا چاہتا ہے۔ خدا اس انسان کو انتہائی سنجیدہ انسان بناناچاہتا ہے۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔ ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی ہو اور انسانیت کی تعمیر کی راہ میں اپنا وہ حصہ ادا کرے جو اس سے مطلوب ہے۔ یعنی اپنے سنجیدہ کلام اور پُردرد پیغام کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی ۔

ایسا انسان گویا کہ خدا کی طرف سے ایک چنا ہوا انسان (choosen person) ہوتا ہے۔ اس کو خدا کی خصوصی رحمت کا ایک حصہ ملا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر گذار بندہ بنے۔ وہ اپنے آپ کو احساسِ محرومی کے منفی جذبے سے بچائے۔ وہ مکمل طورپر مثبت نفسیات والا ایک انسان بنے۔ تاکہ وہ خدا کے بندوں کے درمیان وہ اصلاحی رول اداکرسکے جو خدانے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک حدیث میں ہے کہ انسان کا دل خدا کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (القلوب بین اصبعی الرحمن) یہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں۔ انسان کا دل نہایت نرم ہے، اوروہ نہایت آسانی سے بدل سکتا ہے۔ بدلنے کا یہ معاملہ خدا کے قائم کردہ فطری قانون کے تحت ہوتا ہے۔ وہ فطری قانون یہ ہے کہ نزاعی معاملات میں اگر آپ دوسروں کو ذمّے دار ثابت کرنے کی کوشش کریں تو اس سے فریقِ ثانی کے اندر ضد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو برابر بڑھتی چلی جاتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ نزاع کے وقت یک طرفہ طور پر خود اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں تو فریقِ ثانی کا دل نرم پڑ جائے گا اور نہایت آسانی کے ساتھ نزاع کا ماحول ختم ہوجائے گا۔

اِس سفر کے دَوران ایک انوکھا تجربہ ہوا۔ میں رات کو سوکر صبح میں اٹھا تو سورج کی ابتدائی کرنیں فضا کو منور کرتی ہوئی نظر آئیں۔ میری زبان پر یہ الفاظ آئے ہر روز جب رات کے بعد سنہری صبح طلوع ہوتی ہے تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اِسی طرح ایک اور صبح طلوع ہونے والی ہے جو زیادہ روشن اور زیادہ مبارک ہوگی۔ یہ صبح ابدی طورپر ہر قسم کے اندھیروں کو ختم کردے گی، یہ صبح ابدی طورپر انسان کو پُر مسرت زندگی کا تحفہ عطا کرے گی۔ اِس کے بعد انسان ابدی طورپر غیر معیاری دنیا سے نکل کر معیاری دنیا میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسا دَورِ حیات شروع ہوگا جس میں ہر چیز مکمل ہوگی۔

قرآن میںاِس دنیا کے بارے میں کہاگیا ہے کہ وہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حُزن (لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون) حدیث میں میں آیا ہے کہ جنت مں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف (لاصخب فیہا ولانصب) اِن چار الفاظ میں جنت کی پوری تصویر موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ جنت ہر قسم کی محدودیت سے خالی ہوگی۔ وہاں کسی بھی قسم کے ناموافق حالات موجود نہ ہوں گے۔ وہاں خوشی اور راحت اپنی اعلیٰ ترین صورت میں مہیّا ہوگی۔ اِس جنت کی قیمت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی آخرت کی جنت کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی جنت کی قربانی پر راضی ہوجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ اخباروں اور جلسوں میں اگر چہ ہندستان کے مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ مگر یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ ہر میدان میں ترقی کررہے ہیں۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ۱۹۶۷ میں میں دہلی آیا۔ اُس وقت دہلی کے مسلمانوں کے پاس صرف چند کاریں تھیں۔ جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کوئی کار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اب جمع اور عید کے دن مسجدوں کے سامنے کاروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ دہلی میںآپ جدھر جائیے مسلمانوں کے پاس کار اور موبائل ٹیلی فون جیسی چیزیں کثرت سے نظر آئیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کار ہونے کا نام ترقی ہے۔ میںنے کہا کہ موٹر کار اور موبائل ٹیلی فون کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ دراصل کمیونیکیشن اور حرکت (mobility) کا نام ہے۔ وہ کنٹیکٹ اور انٹریکشن کو لامحدود حد تک بڑھاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ساری ترقیاں اسی سے کے جڑی ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں انسانی تعلقات بہت محدودہوتے تھے، اس لیے ترقی کے امکانات بھی محدود ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں مشینی ذرائع نے رفتار کو پہیہ اور الیکٹرانک لہریں عطا کردی ہیں۔ اس کے نتیجے میں حرکت و عمل کے مواقع لامحدود حد تک بڑھ گیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کار اور ٹیلی فون اِسی زمانی تبدیلی کی علامت ہے۔ جب ٹیلی فون پر کسی کال کی گھنٹی بجتی ہے یا جب کار کسی روڈ پر دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ خاموش زبان میں یہ اعلان کررہی ہوتی ہے کہ نیا زمانہ تیز رفتار ترقی کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں نے شعوری طورپر تو نہیں لیکن غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو دریافت کرلیاہے۔ اِس دریافت کی طرف ان کا سفر بھی شروع ہوچکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ ہندستان کے مسلمان پورے بر صغیر ہند میں مثالی ترقی کا نمونہ بن جائیں گے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر آدمی کا سب سے بڑا کنسرن اس کی اولاد بن گئی ہے۔ انسان کو جو محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے وہ محبت اس کو اپنی اولاد سے ہوگئی ہے۔ میرـے تجربے کے مطابق، اِس کا سبب موجودہ زمانے میں مال اور دنیوی ترقی کا غیر معمولی اضافہ ہے۔

قدیم زرعی دَور میں یہ مزاج صرف بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہ وہ شخص ہوتا تھا جس کے پاس سلطنت کی صورت میں ایک بڑی چیز ہوتی تھی۔ چنانچہ ہر بادشاہ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ اس کی سلطنت اس کے بعد اس کے بیٹے کو ملے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مال اور مادّی سازو سامان کی بھر مار ہوگئی۔ اب ہر آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مادّی ترقی کرے۔

اِس چیز نے موجودہ زمانے میں عمومی طورپر اولاد پرستی کا مزاج پیدا کیا۔ اب آدمی محنت کرکے پیسہ کماتا ہے، شان دار گھر بناتا ہے اور شان دار قسم کے مادّی سازوسامان اپنے گرد اکھٹا کرتا ہے، اس کے بعد جب وہ سوچتا ہے کہ جلد ہی میں مرجاؤں گا تو اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ یہ دولت جو میںنے کمائی ہے وہ میرے بعد کون لے گا۔ یہی مزاج آدمی کے اندر اولاد پرستی پیدا کرتا ہے۔

ہمارے یہاں ایک صاحب تھے ان کا نام عظیم الدین تھا۔ انھوںنے بزنس میںکافی پیسہ کمایا۔ لیکن ان کے یہاںاولاد نہ تھی۔ ان کی بوڑھی ماںاکثر یہ کہتی رہتی تھیں کہ ہائے ! عظیم کی دولت کون لے گا۔ پہلے زمانے میں صرف بادشاہ کے اندریہ مزاج ہوگا کہ ہائے! میری سلطنت کون لے گا، کیوں کہ قدیم زرعی زمانے میں کوئی بڑی چیز صرف بادشاہ کے پاس ہوتی تھی۔ اب ہر آدمی کے پاس کوئی بڑی مادی چیز ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ میرے بعد یہ چیز صرف میرے بیٹے کو ملے۔ اِس چیز نے موجودہ زمانے میں اولاد پرستی کو عام بنا دیا ہے۔

ایک صاحب جو سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پوری تاریخ میںتمام مصلحین اور مفکرین ایک غلط تقسیم (dichotomy) میں مبتلا رہے ہیں۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ سماج کو محروم اور غیر محروم (the haves and the have nots) طبقات میں بانٹ کردیکھا۔ ہر ایک یہ کوشش کرتا رہا کہ وہ اِس تقسیم کو ختم کرکے معاشی برابری کا سماج قائم کرے، اور جب ایسا نہیںہوا توانھوں نے اس کو خلافِ عدل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سماجی بُرائی (social evil) ہے۔ اس تصور کو لے کر وہ خدا کے بارے میں شبہات میںمبتلا ہوگیے۔

یہ سارا معاملہ غلط فکری کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بظاہر جو تقسیم ہے وہ محروم اور غیر محروم (the haves and the haves-nots) کی نہیںہے۔ زیادہ درست طورپر وہ تقسیم با لقوّہ غیر محروم اور بالفعل غیر محروم (potential haves and actual haves) کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ آج بظاہر محروم نظر آتے ہیں۔ لیکن کل وہ غیر محروموں کی فہرست میںشامل ہوجاتے ہیں۔

اِس کی مثالیں آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں، یہاںتک کہ خود اپنے خاندان میں بھی۔ ملکی اعتبار سے اس کی ایک مثال ڈاکٹر عبدالکلام ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔بچپن میںوہ ایک محروم شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن آج وہ ہندستان کے صدر ہیں، اور دہلی کے راشٹرپتی بھون (قدیم وائس ریگل لاج) میں رہتے ہیں۔ ان کی حفاظت پر ہزاروں فوجی جوان مقرر ہیں۔ وہ اسپیشل ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، وغیرہ۔

ایک مجلس میں میں نے ایک سبق آموز واقعہ سنایا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میںایک کار پر سفر کررہا تھا۔ اچانک بہت زور کی آوازی آئی اور ہماری گاڑی رک گئی۔ میں نے سمجھا کہ کسی نے بھاری پـتھر ہماری گاڑی پر پھینک دیا ہے۔ اس وقت ہماری گاڑی ریڈ لائٹ پر رُکی ہوئی تھی۔قصہ یہ ہوا کہ ایک ہندو نوجوان اپنی موٹر سائکل تیزی کے ساتھ دوڑاتا ہوا ہماری گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اِس کے بعد موٹر سائکل بھی گر گئی اور وہ نوجوان بھی سڑک پر گر پڑا۔ ہمارا ڈرائیور نہایت غصے میں گاڑی سے اُترا اور ہندو نوجوان کی طرف بڑھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کو مارے گا لیکن معاملہ بالکل مختلف ثابت ہوا۔

ہندو نوجوان اُس وقت سڑک پر گرا ہوا تھا اس نے ڈرائیور کو دیکھتے ہی اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے عاجزی کے انداز میں کہا بھائی صاحب! معاف کردیجئے میں بہت غریب آدمی ہوں۔ نوجوان کے اِس کھلے اعتراف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرائیور کا دل بالکل نرم پڑ گیا۔ اب ڈرائیور کے ذہن میں آیا کہ وہ نوجوان کو مارنے کے بجائے جلد ازجلد اس کو اسپتال پہنچائے۔ اس کے بعد ڈرائیور نے یہ کیا کہ اس نے ایک اور گاڑی روکی، اور اس پر ہم کو بٹھا کر آگے کے لیے روانہ کیا اور خود یہ کیا کہ زخمی نوجوان کو اپنی گاڑی پر بٹھا کر اسپتال لے گیا اور اس کو فر سٹ ایڈ پہنچائی۔

اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ مذکورہ نوجوان اگر ڈرائیور سے لڑجاتا، وہ اپنے کو بے قصور ظاہر کرکے ڈرائیور کو بُرا بھلا کہتا تو معاملہ مزید بڑھتا۔ اب ڈرائیور نوجوان کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کے بجائے اس کو پولیس اسٹیشن لے جاتا۔ اس کے برعکس، جب نوجوان نے عاجزی کا اظہار کیا اور فوراً ہی اپنی غلطی مان لی تو ڈرائیور کے دل میں اس کے لیے ہمدردی آ گئی۔ اب وہ یہ چاہنے لگا کہ نوجوان کو سزا دینے کے بجائے اس کو طبّی مدد پہنچائی جائے۔

یہ واقعہ بظاہر ایک چھوٹا واقعہ ہے لیکن اس کے اندر بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ فریقِ ثانی کا دل آپ کی مٹھی میں ہے۔ آپ چاہے اس کو بھڑکا کر اس کو اپنا دشمن بنا لیجئے یا ٹھنڈا طریقہ اختیار کرکے اس کو اپنا دوست بنا لیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آپ کو بظاہر دشمن نظر آتا ہے وہ بالقوّہ طورپر آپ کا دوست ہے۔

نزاعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ یہ بحث کرنے لگتے ہیں کہ صحیح کون ہے، اور غلط کون۔ نزاعی معاملات میں اِس قسم کی بحث سرتاسر بے معنی ہے۔ نزاعی معاملات کو ہمیشہ عملی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ یعنی نزاع کو ختم کرنے کی عملی تدبیر کیا ہے۔ نزاعی معاملے میں صحیح اور غلط کی بحث چھیڑنا مسئلے کو بڑھاتا ہے، اور نزاعی معاملے میں عملی حل کا طریقہ اختیار کرنا نزاع کو فوراً ختم کردیتا ہے۔

جلد ہی آزادی کے ساٹھ سال پورے ہوجائیں گے۔ مگر ابھی تک ملک میں مطلوب ترقی نہ ہوسکی جب کہ اس سے کم مدت میں سنگاپور اور ساؤتھ کوریا اور جاپان جیسے ملک اعلیٰ ترقی حاصل کرچکے ہیں۔

انسانی ترقی کے اعتبار سے دنیا کے ۱۷۷ ملکوں میں ہندستان کا نمبر ۱۲۷ واں ملک ۔انڈیا میں اگر کہیں کچھ ترقی دکھائی دیتی ہے تو وہ آزادی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ زمانی اسباب کی بنا پر ہے۔ اگرملک میںسیاسی آزادی نہ آتی تب بھی یہ ترقیاں یقینا موجود ہوتیں، ٹھیک اُسی طرح جیسے آزادی کے بغیر ہندستان میں ریلوے، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور اسٹیم انجن وغیرہ آچکے تھے۔

اس کا سبب میرے تجربے کے مطابق، یہ ہے کہ آزادی کے وقت ملک میں تعمیر وترقی کا کام صحیح رُخ پر شروع نہ ہوسکا۔ مہاتما گاندھی کا خیال تھا کہ سیاسی آزادی اپنے آپ میں ہر قسم کی بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یہ اندازہ صحیح نہ تھا۔ نہرو حکومت کا تصور یہ تھا کہ اقتصادیات پر حکومت کا کنٹرول ہر قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ تشخیص بھی درست نہ تھی۔ اسی طرح انتہا پسند ہندو لیڈروں کا ماننا یہ تھا کہ بھگوا کرن (saffronisation)ہندوتو کے فارمولے میں ساری بھلائیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر وہ بھی عملی تجربے کے بعد ناکام ثابت ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرا نظریہ اس معاملے میں مختلف ہے۔ اس موضوع پر ۱۹۴۷ سے لکھتا رہا ہوں۔ میری رائے یہ ہے کہ آزادی ملنے کے بعد فوراً ملک میں دونکاتی پروگرام چلانا چاہیے تھا—تعلیم اور انفراسٹرکچر۔ ہر دوسری چیز کومؤخر کرکے پہلا کام یہ کرنا تھا کہ سارے ملک میں تعلیم کا جال بچھا دیا جائے۔ تعلیم کے مواقع اتنا زیادہ عام کیے جائیں کہ کوئی شخص تعلیم کے بغیر نہ رہے۔ اور دوسری چیز اچھا انفراسٹرکچر یعنی سڑکیں، بجلی ، ٹیلی فون، وغیرہ۔ سنگاپور، ساؤتھ کوریا اور جاپان میں جو ترقی ہوئی ہے وہ اسی دونکاتی فارمولے کا نتیجہ ہے۔

تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ وہ آدمی کو حیوانی سطح سے اُٹھا کر انسانی سطح تک پہنچاتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی قوم کے خواص اپنے عوام کو اعلیٰ افکار اور تجربات سے باخبر کرسکیں۔ جس سماج میں تعلیم نہ ہو وہاں خواص اور عوام کے درمیان ایک قسم کا فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے گا۔ عوام اپنے خواص کے تجربات میں حصے دار نہ بن سکیں گے۔

خواص کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے ذہن ساز گروہ (opinion maker group) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس سماج میں لوگ تعلیم یافتہ ہوں تو وہ اتنے باشعور ہوں گے کہ وہ آسانی کے ساتھ اپنے خواص کی باتوں کو سمجھیں گے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں گے۔ مگر جس سماج میں تعلیم عام نہ ہوئی ہو وہاں گویا تعمیر وترقی کے عمل کا آغاز ہی مشکل ہوجائے گا۔ مثلاً تعمیر وترقی کے آغاز کے لیے ابتدا میں کچھ سخت فیصلے (hard decisions) لینے پڑتے ہیں۔ سماج کو اتنا با شعور ہونا چاہیے کہ وہ ان فیصلوں کو قبول کرسکے۔ مگر جب سماج کے لوگ باشعور نہ ہوں تو ہر ایسے موقع پر وہ بھڑک کر تعمیر و ترقی کے کام کو روک دیں گے۔

انفراسٹرکچر کی اہمیت کسی سماج میںوہی ہے جو کسی گاڑی میںاُس کے پہیے کی ہوتی ہے۔ اگر پہیہ ہوتو گاڑی چلے گی اور اگر پہیہ موجود نہ ہو تو گاڑی اپنا سفر ہی شروع نہ کرسکے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ترقی چاہتا ہے۔ ہر مرد اور عورت کے اندر بے پناہ حدتک یہ جذبہ ہے کہ وہ ترقی کے سفر کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھے۔ ایسی حالت میں ضرورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اچھا انفراسٹرکچر فراہم کردیا جائے۔ اس کے بعد ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔

جیسا کہ معلوم ہے، مغربی ملکوں میں شہر اور گاؤں کے درمیان وہ فرق نہیں ہے جو انڈیا جیسے ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ سہولیات کے اعتبار سے وہاں کے گاؤں کی حالت تقریباً ویسی ہی ہے جیسا کہ وہاں کے شہر کی حالت ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ شہر میں زیادہ پھیلاؤ ہے۔ جب کہ گاؤں کی حیثیت ایک چھوٹی دنیا کی ہے۔

ان ملکوں میں یہ کیاگیا کہ انھوں نے شہر سے لے کر گاؤں تک ہر جگہ اچھی سڑکیں پھیلا دیں۔ ہر جگہ بجلی کا اعلیٰ انتظام کیاگیا۔ ٹیلی فون کا نظام ہر جگہ بہترین طورپر موجود ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جو ترقیاتی عمل میں ذریعے کی حیثیت رکھتی ہیں وہ ہر جگہ اعلیٰ پیمانے پر موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز یہی انتظام ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ترقی طلب حیوان (progress-seeking animal) ہے۔ وہ خود اپنے اندرونی جذبات کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے ترقی کے عمل میں اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے اور اس کے لیے عمدہ انفراسٹرکچر فراہم کردیا جائے۔ اس کے بعد انسان خود ہی ترقی کی طرف دوڑنے لگے گا۔

بدقسمتی سے انڈیا میں اس راز کو سمجھا نہیں گیا۔ ہمارے لیڈر ترقی کے فطری فارمولے سے بے خبر رہے۔ وہ اپنا خود ساختہ فارمولا آزماتے رہے۔ اسی غیر فطری طریقے کا یہ نتیجہ ہے کہ انڈیا میںترقی کا عمل درست طورپر جاری نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر ہند کے تمام لیڈروں، مسلم اور غیر مسلم دونوں پر وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو میں نے ایک بار ماہنامہ الرسالہ کے صفحۂ اول پر شائع کیے تھے خوش فہم آدمی ایک ایسے سفر کے اختتام کا انتظار کرنے لگتا ہے جس کا ابھی اُس نے آغاز بھی نہیں کیا۔

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اقتصادی ترقی کے کئی ماڈلوں کا تجربہ کیاگیا ہے۔ مثلاً روس کا ماڈل جو مکمل اسٹیٹ کنٹرول کے اصول پر مبنی تھا۔ انڈیا کا ماڈل جو مکسڈ اکانومی (mixed economy) کے اصول پر مبنی تھا۔ امر یکا کا ماڈل جو آزاد کمپیٹیشن کے اصول پر مبنی تھا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ روس اور انڈیا کا ماڈل قابل بقا (sustainable) ثابت نہ ہوسکا اور ناکام ہوگیا۔ اس کے برعکس، امریکا کا ماڈل دو سو سال سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ کسی سسٹم کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ قابلِ بقا ثابت ہو۔ جو سسٹم قابلِ بقا ثابت نہ ہو وہ غیر فطری ہے۔ اور کسی سسٹم کا غیر فطری ہونا ہی اس کو قابلِ رد قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں نے مزید کہا کہ کسی سسٹم کو آ ئیڈیل سے جانچا نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ اس دنیا میں آئیڈیل سرے سے قابل حصول ہی نہیں۔ اس دنیا میں کسی سسٹم کو لینے کے لیے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ وہ قابلِ عمل ہے یا نہیں۔ کسی سسٹم کو آئیڈیل سے جانچنا تخیّل پسند آدمی کا کام ہوسکتا ہے، مگر وہ حقیقت پسندانہ آدمی کا کام نہیں۔

۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو پروگرام ختم ہوگیا۔ انسٹی ٹیوٹ والوں کا کہنا تھا کہ رات کو میں واردھا میں ٹھہروں اور اگلی صبح کو یہاں سے روانہ ہو کر ناگپور جاؤں۔ لیکن میں نے یہ طے کیا کہ اس وقت شام کو مجھے ناگپور چلے جانا چاہیے۔ اس طرح واردھا سے روانہ ہو کر ۲۵ جنوری کی شام کو مغرب کے بعد ناگپور پہنچا۔

ناگپور میں میرا قیام مسٹر عبدالسلام اکبانی صاحب کے مکان پر تھا۔ یہاں جسٹس ایم۔ ایم۔ قاضی (ریٹائرڈ) بھی آگیے۔ ان لوگوں کے ساتھ رات کا کھانا مسٹر عبد السلام اکبانی کے گھر پر کھایا۔ اس کے بعد ہم لوگ دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ حسب معمول میں نے جسٹس ایم ۔ ایم۔قاضی سے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوںنے اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے آپ کے بعض خیالات کو ماننے میں تردّد ہوتا تھا۔ مگر اب تجربات کے بعد میں آپ سے متفق ہوگیا ہوں۔

ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کسی قسم کے عملی پروگرام سے نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کی اصلاح کا حقیقی کام صرف اُس فکری جدوجہد سے ہوسکتا ہے جس کو آپ ذہن کی تعمیرِ نَو (re-engineering of mind) کہتے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی کمزوریاں کسی خارجی دشمن کی بنا پر نہیں ہیں وہ صرف مسلمانوں کے اپنے فکری زوال کی بنا پرہیں۔ اور جب تک فکر کی سطح پر انقلاب نہ لایا جائے خارجی سطح پر کوئی انقلاب نہیںآسکتا۔

بہت پہلے جب کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن ٹرین سے سفر کرتے ہوئے کچھ گاؤں کے لوگ ملے۔ یہ لوگ زمین کے ایک مقدمے کے سلسلے میں اعظم گڈھ جارہے تھے تاکہ وہاں عدالت میں پہنچ سکیں۔ ایک بوڑھے آدمی نے اپنے کیس پر بات کرتے ہوئے کہا آپَن کا گد تو پُور ہَو (اپنا کاغذ تو پورا ہے)۔ اس آدمی کا مطلب یہ تھا کہ میں نے کاغذی کارروائی کرکے قانونی شرطوں کو پورا کرلیا ہے۔ اب عدالت میںمیرا معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔

یہی معاملہ آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے دائرے میں ’’کاغذی کارروائی‘‘ کو پورا کررکھا ہے۔ ہر ایک اپنے ذہن کے مطابق، اپنے لیے ایک محفوظ دنیا بنائے ہوئے ہے۔ اِس طرح ہر ایک فرضی یقین (false conviction) میںجی رہا ہے۔

کوئی روایتی مذہب پر قائم ہے۔ کوئی فارم والی بے روح دین داری پر عامل ہے۔ کوئی کسی درگاہ میںحاضری دے رہا ہے۔ کوئی کسی مسجد اور مدرسے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی کسی جماعت کو پکڑے ہوئے ہے۔ کوئی کسی بزرگ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کمیونٹی ورک میں مشغول ہے۔ کوئی تقریر اور تحریر کے میدان میں مصروفِ جہاد ہے، وغیرہ۔

اِن چیزوں نے لوگوں کے اندر اپنے ہدایت یاب ہونے کا فرضی یقین پیدا کردیا ہے۔ یہ فرضی یقین اِس میں رُکاوٹ بن گیا ہے کہ وہ نئی باتوں پر سوچیں، وہ اپنے ذہنی خول کو توڑ کر کوئی نئی رائے بنانے کی کوشش کریں۔

فجر کی نماز کے بعد دوبارہ ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ عبدالسلام اکبانی کے صاحب زادے مسٹر زبیر احمد اکبانی ایک ذہین اور سنجیدہ نوجوان ہیں، اُن سے بھی کافی باتیں ہوئی۔

مدرسے سے تعلق رکھنے والے دو صاحبان ملے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میںنے کہا کہ اکثر لوگ اپنے ذہن میں ایک معیار قائم کرتے ہیں اور اس کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کو معیار بنایا جائے اور اس کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔ امام احمد بن حنبل نے اس نقطۂ نظر کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ایتونی بشیٔ من کتاب اللہ حتی أقول۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گفتگو کے دوران میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ آپ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کیجئے۔ اس سلسلے میں میں نے ان لوگوں سے کہا کہ حدیث میں مؤمن کے بارے میں آیا ہے کہ أن یکون بصیراً بزمانہ۔ میںنے کہا کہ الرسالہ لوگوں کو ’’بصیرِ زمانہ‘‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہر بات قرآن اور حدیث سے اخذ کرنا چاہیے پھر قرآن اور حدیث میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ پڑھو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے کہا کہ ہمارے علماء یہ مانتے ہیں کہ علوم دو قسم کے ہیں—علوم عالیہ اور علومِ آلیہ۔ میں نے کہا کہ اس تقسیم کے مطابق، ماہ نامہ الرسالہ کا تعلق علومِ آلیہ سے ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، علومِ آلیہ کی اہمیت علمی طورپر اتنی زیادہ ہے کہ ان کی تحصیل کے بغیر آپ لوگوں کو مدراس میں عالم اور فاضل کی سند نہیں ملتی۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگیے۔

ایک صاحب سے میں نے کہا کہ حدیث میںآیا ہے قل ربی اللہ ثم استقم (کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور پھر اس پر جم جاؤ) اِس سے معلوم ہوا کہ معرفتِ خدا وندی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی تاحیات اس پر قائم رہے۔ تاحیات قائم رہنا کوئی سادہ بات نہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت کوئی نہ کوئی بات ایسی پیش آتی ہے جو آدمی کو سچائی کے راستے سے ہٹا دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی وقت کوئی خواہش جاگتی ہے۔ کبھی کسی بات پر دل کو ٹھیس لگ جاتی ہے۔ کبھی کوئی ایسی خلافِ مزاج بات پیش آتی ہے جو آدمی کی انانیت کو جگا دیتی ہے۔ کبھی کوئی انٹریسٹ (مفاد) آدمی کو اصولی روش سے ہٹا دیتا ہے۔ کبھی کسی بڑے فائدے کی امید آدمی کے اوپر غالب آجاتی ہے۔ اِس طرح کی مختلف چیزیں بار بار سامنے آتی ہیں۔ یہ باتیں آدمی کے ایمان اور استقامت کو ڈگمگادیتی ہیں۔ وہ اللہ کی ربوبیت پر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آدمی روزہ اور نماز جیسے اعمال کے ذریعے جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ رہے گناہ تو وہ استغفار کے ذریعے معاف ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اگر جمعہ کی نمازِ عصر کے بعد ۸۰ مرتبہ یہ درود پڑھے تو اس کے ۸۰ سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہم صلّ علی محمد بن النبی الأمّی وعلیٰ اٰلہ وسلّم تسلیماً

میں نے کہا کہ یہ بلاشبہہ دینِ خداوندی کا غلط تصوّر ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں اَمانی (البقرہ ۱۱۱) کہاگیا ہے۔ یعنی اپنی خوش خیالیوں کو خدا کا دین سمجھ لینا۔ جس چیز کو آپ اعمال کہہ رہے ہیں وہ دراصل ظواہر اعمال یا اعمال کے فارم ہیں۔ جنت کا استحقاق کسی بھی قسم کی ظاہری اعمال کی ادائیگی یا کسی بھی قسم کے الفاظ کی لسانی تکرار پر نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق، وہ سرتاسر جنتّی شخصیت کی تعمیر پر منحصر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں جنت کے بارے میں ہے کہ ذلک جزاء من تزکیّ(طٰہٰ ۷۶)۔ یعنی جنت اُس شخص کے لیے جو اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ سے مراد داخلی شخصیت کی تطہیر ہے۔ جنت میں صرف مطہّر روح(purified soul) کو جگہ ملے گی۔ مطہّر روح وہ ہے جس نے افکار کے جنگل میںخدا کی معرفت حاصل کی۔ جس نے فراموشی کی دنیا میں خدا کی گہری یاد کا تجربہ کیا۔ جس کو اجتماعی زندگی میں منفی تجربات ہوئے مگر اس نے ان منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت روحانی غذا میں ڈھال لیا۔ جس نے غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا۔ جس نے اپنی خواہشات کو خدا اور رسول کے تابع بنادیا۔ جو اس طرح جنت کا طالب بنا کہ دوسری تمام محبوب چیزیں اس کے لیے غیر اہم بن گئیں۔ یہی تزکیۂ نفس ہے، اور اِس تزکیہ نفس کے بغیر کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف الفاظ کا علم کافی نہیں ہے۔ قرآن کی طرح، حدیث کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے اور دوسرا اس کا باطن ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کی داخلی معنویت کو سمجھے بغیر حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھانہیں جاسکتا۔

مثلاً ایک روایت کے مطابق، جنتی انسان کی ایک پہچان یہ ہے کہ  قلبہ معلّق بالمساجد۔ یعنی اس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو۔ عام طورپر اس حدیث کو مسجد کی عمارت سے وابستہ کرکے لیا جاتا ہے۔ یعنی مسجد میں آنا، جانا اور مسجد کی خدمت کرنا وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر حقیقت یہ ے کہ اِس حدیث کا مطلب ہے قلبہ معلّق باللہ۔ یعنی وہ انسان جس کا دل اللہ میں لگا ہوا ہو۔ وہ اللہ کو یاد کرتا رہے۔ زندگی کے ہر تجربے میںاس کو ربّانی غذا ملتی رہے۔ اس کے جذبات اللہ سے وابستہ ہو گیے ہوں۔ وہ جہاں بھی ہو اور جس ماحول میں بھی ہو اس کا دل خدا کی یاد میں سرشار ہو۔ اس حدیث کا مطلب حقیقتاً خدا سے انسان کے تعلق کو بتانا ہے نہ کہ کسی عمارتی ڈھانچے سے اس کے تعلق کو بیان کرنا۔ مسجد کی اہمیت یہی ہے کہ وہ خداکی یاد کی علامت ہے۔ مسجد معروف معنوں میں کوئی مقدس عمارتی ڈھانچہ نہیں۔ وہ اللہ میں جینے کی تربیت حاصل کرنے کا مرکز ہے۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ترقیاں کیں۔ وہ علوم اور فنون میں ساری دنیا کے امام بن گیے۔ پھر انھوں نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی علمی پستی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسلم دشمنوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچیں۔ اس لیے وہ ہر پہلو سے ہم کو نیچے دھکیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

میںنے کہا کہ دشمنی اور رقابت ایک عمومی حالت ہے۔ وہ ہر دور میں باقی رہتی ہے۔ قدیم زمانے میں جب مسلمانوں نے ترقی کی، تب بھی ان کے دشمن موجود تھے اور دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں کے باوجود انھوں نے ترقیاتی کام کیا۔ اسی طرح آج بھی مسلمانوں کو منفی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کرنا چاہیے۔ انھوںنے اِس نقطۂ نظر کو نہیں مانا اور دیر تک بحث کرتے رہے۔ آخر میں یہ کہہ کر بات کو ختم کردیا کہ یہ بھی ایک ڈائمنشن ہے، یعنی یہ بھی سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔

میرا تجربہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ غلطی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے۔ وہ خوب صورت الفاظ بول کر اپنی غلطی پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ بظاہر ہوشیاری کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ زبردست نادانی ہے۔ کیوں کہ اِس بے اعترافی کی انھیں بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کا علمی اور فکری ارتقا رُک جاتا ہے۔

حیدرآباد سے ایک مجلّہ ’’اقبال ریویو‘‘ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ نومبر ۲۰۰۵ میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ اس کا عنوان یہ تھا— سیّد جمال الدین الہ آبادی۔ لکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے

’’مشہور ہے کہ جب پیرس میں روسی سفیر نے سید جمال الدین افغانی سے ملنا چاہا تو انھوں نے ملاقات کی تاریخ ایسی مقرر کی جو دو ہفتے بعد آنے والی تھی۔ اس کے بعد وہ ایک کتب فروش کے یہاں گیے اور اس سے کہا—مجھے فرانسیسی میڈیم میں، روسی زبان سکھانے والی کتاب چاہیے۔ میں اس کو خرید لوں گا۔ بشرطیکہ تم اس کا بھی انتظام کردو کہ آج سے ایک ہفتے بعد کوئی روسی زبان بولنے والا آدمی مجھ سے ملاقات کرسکے۔

کتب فروش نے کتاب بھی دی، اور ایک ایسے شخص کا انتظام بھی کردیا جو اس کے یہاں ملازم تھا۔ جمال الدین افغانی نے ایک ہفتے تک بطور خود کتاب دیکھی۔ پھر آٹھویں دن سے چودھویں دن تک رو ز ایک گھنٹہ اس سے روسی زبان میں باتیں کرتے رہے۔ اور پھر پندرہویں دن وہ تیار ہوگیے تھے کہ روسی سفیر سے بغیر کسی مترجم کی وساطت کے ملاقات کریں‘‘ ۔(صفحہ  ۱۷)

میری معلومات کے مطابق، سید جمال الدین افغانی کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ وہ انتہائی غیر معمولی حافظہ رکھتے تھے۔ اِسی بنا پر انھوں نے بہت سی زبانیں سیکھ لیں۔ وہ جو کتاب بھی پڑھتے وہ انھیںیاد ہوجاتی۔ اپنی اس خصوصیت کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ مختلف زبانوں میں بات کرسکتے ـتھے۔ مزید یہ کہ جب وہ بات کرتے تو ان کی بات میںمعلومات کا انبار ہوتا تھا۔ اِس بنا پر لوگ ان کو بہت زیادہ قابل سمجھنے لگے۔ مگر یہ غیر معمولی قابلیت کی بات نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی حافظے کی بات تھی۔

میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر غیر معمولی حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ تجزیہ (analysis) کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات ہوتی ہے مگر وہ معلومات کا تجزیہ کرکے اس سے کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ان کی گفتگو میںمعلومات کا سیلاب ہوتا ہے۔ اِس کو دیکھ کر لوگ غلطی فہمی میں پڑ جاتے ہیں اور ان کو قابل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت کمپیوٹر جیسی ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہیں مگر کمپیوٹر ایک قابل انسان کا بدل نہیں ہوتا۔

اس مجلّے میں ایک جگہ سید جمال افغانی کی تعریف کرتے ہوئے اقبال کے یہ الفاظ چھپے ہیں ’’ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی، اور اس نے ایران، مصر اور تُرکی کے ممتاز ترین افراد کو ومتاثر کیا ‘‘۔ (صفحہ  ۶)

other sourceWords of another person or source

یہ واقعہ ان کی شخصیت کی اصل کمی کو بتاتا ہے۔ ایسا در اصل اس لیے ہوا کہ سید جمال الدین افغانی صاحب معلومات تو تھے مگر وہ صاحب معرفت نہ تھے۔ ان کو سحر بیانی تو آتی تھی مگر وہ معاملہ فہمی کی صلاحیت سے خالی تھی۔

اصل یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی جن مسلم ملکوں میں گیے، ان کی خطابت اور سحر بیانی کی بنا پر انھیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کی رسائی ہر جگہ حکومت کے قریبی حلقوں تک ہوگئی۔ لیکن ہر جگہ یہ ہوا کہ وہ حکومت مخالف کارروائیوں میں مشغول ہوگیے۔ ہر مسلم حکومت انھیں معیار سے کم نظر آئی۔ وہ اس کو معیاری بنانے کے لیے اس کی توڑ پھوڑ کے درپے ہوگیے۔ ایسا صرف ان کی بے دانشی کی بنا پر ہوا۔ وہ اِس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ کمی خود ان کی سوچ میں ہے نہ کہ حکومتی نظام میں۔

سید جمال الدین افغانی مختلف زبانوں میں اپنی مہارت کے باوجود اُس حکمت کو سمجھ نہ سکے جو ایک انگریزی مقولے میں اِس طرح بیان کی گئی ہے—معیار قابلِ حصول نہیں

Ideal can not be achieved.

سید جمال الدین افغانی کو مسلم حکمرانوں میں جو کمی نظر آئی وہ قانونِ فطرت کا نتیجہ تھی، وہ مسلم حکمرانوں کی نالائقی کا نتیجہ نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی نظام، حتی کہ خود اسلامی نظام بھی، عملاً ہمیشہ اعلیٰ معیار سے کم (less than ideal) ہوتا ہے۔ کسی موجود سیاسی نظام کو غلط بتا کر اس کو توڑنے کی تحریک چلانا ہمیشہ اِس نتیجے پر ختم ہوتی ہے کہ اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام قائم ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پُر شعور سیاسی انقلابات کا نتیجہ صرف ایک ہوا ہے—ایک غیر معیاری نظام کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا غیر معیاری نظام لانا۔

ایسی حالت میں کسی مُصلح یاریفارمر کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ سیاسی نظام میں حالتِ موجودہ (statusquo) سے عدم تعرّض کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تعمیری میدانوں میں پُر امن جدوجہد کرنا، موجودہ دنیا میں یہی واحد طریقہ ہے جو کسی مثبت نتیجے تک پہنچانے والا ہے۔

ایک مسلم خاتون انڈیا میں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ کناڈا چلی گئیں۔ اب وہ کناڈا کے ایک شہر میں مسلم بچوں کا ایک اسکول چلاتی ہیں۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارے اسکول کا مقصد مسلم بچوں کی اسلامی شناخت (Islamic Identity) کو بَرقرار رکھنا ہے۔ انھوںنے کہا کہ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں مسلمان کافی آباد ہیں۔ ان کی کمائی بھی اچھی ہے، لیکن ان کی نسلوں کو ایک سخت خطرے کا سامنا ہے۔ وہاں مغربی تہذیب کا دَباؤ (pressure) اتنا زیادہ ہے کہ مسلم نوجوان بڑی تعداد میں عیسائی ہورہے ہیں۔ ان میں سے کوئی تہذیب اور کلچر کے اعتبار سے عیسائی طریقہ اختیار کرلیتا ہے اور کوئی اپنے دین کو بدل کر باقاعدہ عیسائی بن جاتاہے۔

میںنے کہا کہ یہ دباؤ (pressure) کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل اسلام کی ناقص نمائندگی کا نتیجہ ہے۔ آپ جیسے مصلحین، اسلام کو جس طرح پیش کرتے ہیں وہ مسلم نوجوانوں کو صرف ایک کلچرل شناخت کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ کلچرل شناخت ان کو کوئی بڑی چیز دکھائی نہیں دیتی۔

ایک طرف ان کے سامنے مغربی تہذیب کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اسلام صرف ایک رسمی شناخت یا بے روح فارم کا معاملہ نظر آتا ہے۔ اس تقابل کی بنا پر اُنھیں اسلام کی لکیر چھوٹی نظر آتی ہے اور مغربی تہذیب کی لکیر زیادہ بڑی ۔ اس وجہ سے وہ اسلام کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ لوگ شناخت کی حفاظت کے مقصد کے تحت، اسکول قائم کریں۔ اس قسم کی کوشش گویا سیلاب کے آگے تنکوں کا بند بنانا ہے۔ اِس مسئلے کا حل صرف ایک ہے وہ یہ کہ آپ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے اسلوب اور اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ تاکہ مسلم نوجوانوں کو اسلام زیادہ عظیم، اور زیادہ بامعنیٰ چیز نظر آنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم اِسی نہج پر کوشش کررہے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہماری کوشش کامیاب ثابت ہوئی۔

مزید میں نے کہا کہ بیسویں صدی کے نصف اوّل میں کچھ مصلحین اُٹھے۔ مثلاً سید قطب، محمد اقبال اور سید ابوالاعلیٰ مودودی وغیرہ۔ ان لوگوں کو وقتی طورپر کچھ جزئی کامیابی ہوئی۔ مگر اب ان کا پیدا کردہ لٹریچر بالکل غیر متعلق (irrelevant)ہو کر رہ گیا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں، مسلم دنیا میں مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہوگیا تھا۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو مغربی قوموں سے سخت قومی نفرت پیدا ہوگئی۔ اُس دَور کے مسلم مصلحین نے اِسی نفرت کو استعمال کیا۔ اُس وقت اُن کو مسلم نوجوانوں میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اسی منفی نفسیات کے ماحول میں ردّ عمل کی بنا پر ہوئی۔ اُن کی مقبولیت منفی بنیاد پر قائم تھی نہ کہ مثبت بنیاد پر۔ اور منفی بنیاد پر قائم ہونے والی تحریک کبھی دیر پا ثبت نہیں ہوتی۔

ایک عربی مثل ہے کہ لا لحبّ علي بل لبغض مُعاویۃ (حُبّ علی کی وجہ سے نہیں بلکہ بُغض معاویہ کی وجہ سے)۔ اس مثال کا تعلق صرف علی اور معاویہ کے معاملے سے نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے عمومی مزاج کو بتاتی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول کے سیاسی حالات میں مسلمان بغضِ مغرب کی نفسیات میں مبتلا تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسے ماحول میں جب اکبر الٰہ آبادی اور اقبال نے مغرب کے خلاف اشعار لکھے اور سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مغرب کے خلاف ادبی انداز میں تنقیدیں کیں۔ سیّد جمال الدین افغانی اور ابوالکلام آزاد نے جب مغرب کے خلاف پُر شور خطابت کا مظاہرہ کیا تو اُس وقت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی طرف مائل ہوگئی۔ یہ مصلحین چوں کہ اپنے منفی کلام کے حق میں قرآن اور حدیث کے حوالے دیتے تھے، اِس لیے لوگوں نے سمجھا کہ لوگوں کا یہ رجوع اسلام کی طرف رجوع ہے۔ حالاں کہ یہ سارا معاملہ ’’بُغض معاویہ‘‘ کی نفسیات کے تحت تھا نہ کہ ’’حُبّ علی‘‘ کی نفسیات کے تحت۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی منفی تحریکیں کبھی کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کرسکتیں۔ مثبت نفسیات سے منفی کردار کا اُبھرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ ببول کے بیج سے انگور کا پھل پیدا ہونا۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، مسٹر اور مولوی، دونوںایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر اسلامی بیداری آئی ہے۔ حتی کہ یہ لوگ موجودہ زمانے کے عہد کو اسلامی بیداری کا عہد کہتے ہیں۔ یہ نظریہ صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی پر قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے اسلام سے دوری کا زمانہ ہے نہ کہ اسلام سے قربت کا زمانہ۔

اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد جب بہت زیادہ ہوجائے تو ان کے درمیان ہر کام اسلام کے نام پر ہونے لگتا ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارا کام اسلامی کام ہے۔ حالاں کہ یہ سب کام قومی کام ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً اسلامی کام۔

موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ اپنی قومی روایات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو اس کو اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔ مثلاً اسلامی اسکول، اسلامی کالج، اسلامی یونیورسٹی ، اسلامی یتیم خانہ، اسلامی وقف، اسلامی ریڈیو، اسلامی ٹی وی، اسلامی صحافت، اسلامی بینکنگ، اسلامی سیاست، اسلامی اجتماع، اسلامی نقل وحرکت، اسلامی مشن، اسلامی تحریک، اسلامی ملک، اسلامی لٹریچر ، اسلامی ادارہ اور اسلامی مدرسہ، وغیرہ۔

گہرائی سے دیکھیے تو یہ سارے کام قومی کام ہوتے ہیں۔ وہ قومی جذبے کے تحت کیے جاتے ہیں، وہ کسی قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اسلام (بمعنی دینِ خداوندی) سے ان کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر اسلام کا لیبل ہونے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیںکہ یہ سارے اسلامی کام ہیں، وہ سب کام ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس معاملے میں غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے غلط کرائٹیرین (معیار) بنا رکھے ہیں اسلام میں اصل کرائٹیرین رسول اور اصحاب رسول کا ہے۔ کوئی کام اسلامی ہے یا غیر اسلامی، اس کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ اس کو رسول اور اصحاب رسول کے نمونے کی روشنی میں جانچا جائے۔ اگر وہ اس نمونے کے مطابق ہے تو وہ اسلامی ہے اور اگر وہ اس نمونے کے خلاف ہے تو وہ غیر اسلامی ہے۔

ایک صاحب نے ایک معروف اسلامی مقرر کی بہت تعریف کی۔ انھوں نے ان کی تقریروں کو بڑا اسلامی کام قرار دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان اسلامی مقرر کے جلسے میں خوب تالیاں بجتی ہیں کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ خوب تالیاں بجتی ہیں۔

پھر میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ اور مدینہ میں خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں تالیاں بجتی تھیں۔ پھر میںنے پوچھا کہ ابوبکر صدیق اور عمرفاروق جیسے اصحابِ رسول جب خطاب کرتے تھے تو کیا وہاں حاضرین کی طرف سے تالیاں بجتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میںنے کہا کہ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ لوگوں نے اگرچہ ان کا نام اسلامی مقرر رکھا ہے مگر وہ اسلامی مقرر نہیں ہیں بلکہ وہ قومی مقرر ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے پوچھا کہ اسلامی مقرر اور قومی مقرر کے درمیان کیا فرق ہے۔ میںنے کہا کہ اسلامی مقرر کی باتوں سے دلوں میں خدا کا خوف جاگتا ہے۔ لوگوں کے اندر تقویٰ اورخشیت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لوگ خدا کی یاد میںتڑپ اٹھتے ہیں۔ جو تقریر اِس قسم کی کیفیات پیدا کرے، اس کو سُن کر تالیاں نہیں بجیں گی بلکہ آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں گے۔

اس کے برعکس، قومی مقرر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قومی جذبات کو غذا دیتا ہے۔ اس کو سن کر فخر کی نفسیات جاگتی ہے۔ اس میں اپنا قومی جھنڈااونچا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے ایسے اسلامی مقرر کو قومی شیر کا خطاب دیا جاتا ہے۔ مگر اس قسم کی تقریروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک قومی کاروبار ہے نہ کہ اسلام کی کوئی حقیقی خدمت۔

پھر میںنے کہا کہ حدیث کی روشنی میں دیکھیے تو اسلامی کام کے لیے ہمیں ایک واضح معیار ملتا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ جو کام کیا جائے اس سے لوگوںکے اندر دو چیزیں پیدا ہوں تقوی اللہ وحُسن الخُلق(الترمذی) یعنی اللہ کا خوف، اور انسانوں کے ساتھ حُسنِ اخلاق۔ یہی کسی کام کی جانچ کا صحیح اسلامی معیار ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی کام کی حقیقت کو جاننا ہو تو یہ دیکھے کہ اس سے وابستہ لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج پیدا ہورہا ہے۔ اگر ان کے اندر خدا سے خوف اور انسانیتِ عامہ کے ساتھ خیر خواہی کا مزاج بن رہا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ صحیح اسلامی کام ہے۔ اور اگر اس کے ذریعے فخر، نمائش، کبر، اظہار برتری، خود غرضی اور غیر سنجیدگی جیسا مزاج بنتا ہو تو سمجھ لیجیے کہ یہ قومی کام ہے نہ کہ اسلامی کام۔

یہاں ایک سبق آموز واقعہ قابلِ ذکر ہے جو ایک قاری الرسالہ کے ساتھ پیش آیا۔ اس قاری الرسالہ کی شادی ایک دینی گھرانے میں ہوئی۔ مگر یہاںایک بہت بڑا مسئلہ موجود تھا۔ خاتون کے بڑے بھائی نے اپنی پسند کے مطابق، ایک ماڈرن لڑکی سے شادی کرلی۔

یہ لڑکی جب گھر میں بہو کی حیثیت سے آئی تو گھر میں سنگین مسائل پیدا ہوگئے ۔ کیوں کہ گھر کا رہن سہن روایتی انداز کا تھا، اور یہ لڑکی ماڈرن انداز میں رہنا چاہتی تھی۔ اِس اختلاف کے نتیجے میں بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ گھر میں بول چال بند ہوگئی اور مذکورہ بھائی اپنی بیوی کو لے کر الگ رہنے لگے۔

بھائی کو کسی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ یہ سارا جھگڑا میری بہن نے پیدا کیاہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بہن سے بولنا چھوڑ دیا۔ اس معاملے میں وہ اتنا زیادہ سخت ہوگیے کہ جب بہن کا نکاح ہوا اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر گئیںتو بھائی رخصتی کے وقت بھی ان سے ملنے کے لیے نہیں آئے۔ تعلقات میںبگاڑ کا یہ ماحول پورے سات سال تک جاری رہا۔

اس اثناء میں بہت سے علماء نے یہ کوشش کی کہ دونوں کے درمیان صلح ہوجائے، اور جھگڑا ختم ہوجائے۔ مگر صلح نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ علماء دو طرفہ بنیاد پر صلح کی کوشش کررہے تھے۔ وہ فریقین سے کہتے تھے کہ ماضی کو بھلا دیجئے اور اچھے رشتے دار کی طرح باہمی تعلق قائم کرکے زندگی گذاریے۔ لیکن اس قسم کا وعظ فریقین کے لیے کسی طرح نتیجہ خیر ثابت نہیں ہوتا تھا۔

آخرکار الرسالہ کے مذکورہ قاری نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اِس مضمون میں قرآن کی روشنی میں، بتایاگیا تھا کہ نزاعی معاملات کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتے۔ ان کو حل کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ایک فریق اپنی غلطی کا اعتراف کرکے دوسرے فریق سے معافی مانگ لے۔ یہی یک طرفہ اعتراف اِس طرح کے معاملے میں واحد مؤثر حل ہے۔

اِس کے بعد مذکورہ قاری الرسالہ نے معاملے پَر از سرِ نو غور کیا۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اِس طریقے کا تجربہ کرو۔ چناں چہ بیوی نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا۔ اِس خط میںانھوں نے یک طرفہ طورپر کھُلے انداز میں خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اور بھا ئی سے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ساری صرف غلطی صرف میری تھی۔ اب میں آپ سے معافی مانگتی ہوں ، آپ مجھے معاف فرمادیں۔ اِس سلسلے میں سارا قصور میرا ہے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ میری ہی بد قسمتی تھی کہ میں رخصتی کے وقت بھی آپ سے مل کر آپ کی دعا نہ لے سکی۔

بہن کا یہ خط جب بھائی کے پاس پہنچا تو اس کو پڑھنے کے بعد اچانک ساری بر ف پگھل گئی۔ بھائی اور ان کی بیوی دونوں نے اس خط کو پڑھا اور دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ خط میں اگر چہ بہن نے اپنے آپ کو غلط بتایا تھا لیکن جب دل بدلے تو بھائی اور ان کی بیوی دونوں کو محسوس ہوا کہ غلطی در اصل انھیں کی تھیں۔

اس کے بعد بھائی نے نہایت محبت کے انداز میں اپنی بہن کو خط لکھا اور کہا کہ تمہارے خط کے بعد ہمارے دل کا تمام غبار دھل گیا ہے۔ اب میرے دل میں تمھارے لیے وہی محبت ہے جو ایک بھائی کے دل میں اپنی بہن کے لیے ہونا چاہیے۔ اِسی کے ساتھ بھائی نے اپنی بہن کے لیے تحفے تحائف بھی بھیجے۔ انھوں نے اپنی بہن سے فون پر تفصیلی بات چیت کی، اور رو رو کر گہرے جذبات کے ساتھ معافی اور ندامت کا اظہار کیا۔ اب دونوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہوگیے ہیں۔

ناگپور میں ایک قابلِ ذکر نام مسٹر عبد السلام چاؤس کا ہے۔ انھوں نے طویل محنت کے بعد ایک بڑا کام کیا ہے۔ وہ یہ ہے—مرہٹی جاننے والوں کے لئے انگریزی زبان میں کتابیں تیار کرنا۔ ان کی کتابیں طلبہ نیز عوام میں کافی مقبول ہیں۔ ان کی کوششوں سے اب ان کا یہ کام انسٹی ٹیوشن کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنی محنت سے بڑے بڑے کام کرسکتا ہے۔ حال میں انھوں نے مراٹھی–انگریزی ڈکشنری تیار کی ہے۔ ۷۵۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب کا نام یہ ہے چاؤس مراٹھی–انگریزی ڈکشنری pkإl ejkBh&baxzsth fMD'ujh

ناگپور، بمبئی کے بعد مہاراشٹر کا دوسرا اہم شہر ہے۔ اِس علاقے کو ۱۹۴۷ سے پہلے سنٹرل پراونس (مرکزی صوبہ ) کہا جاتا تھا۔ پچھلے دس برسوں میں یہاں ڈیولپمینٹ کاکام بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس سفر کے دوران مجھے ناگپور میں تقریباً بیس گھنٹے کا وقت گذارنے کا موقع ملا۔

ناگپور میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ا ن میں سے ایک مسٹر عبد السلام چاؤس (پیدائش ۱۹۷۰) تھے۔ اُن کی زندگی میں مجھے ایک بڑا سبق نظر آیا۔

وہ مہاراشٹر کے ایک گاؤں میں ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی بظاہر کسی غیر معمولی واقعے سے خالی تھی۔ انھوں نے ناندیڑ کے ایک کالج سے بی۔ایس۔ سی ۔ کیا۔ اس کے بعد کچھ ایسے ناخوشگوار اسباب پیش آئے کہ انھیں اپنے گھر سے الگ ہوجانا پڑا۔

تقریباً آٹھ سال وہ اپنے گھر سے پوری طرح بے تعلق رہے۔ بے تعلقی کی یہ مدت ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی۔ ان کے مشکل حالات نے ان کے اندر عمل کا جذبہ جگایا۔ بظاہرایک زیرو انسان اپنی کوشش سے ایک ہیرو انسان بن گیا۔

مسٹر عبد السلام چاؤس نے مراٹھی اور انگلش زبان میں درسی کتابوں کو اپنا خصوصی میدان بنایا۔ انھوں نے اِس سلسلے میں کئی بڑی بڑی کتابیں لکھیں، جو پورے مہاراشٹر میں بے حد مقبول ہوئیں۔ ان کی تازہ کتاب مراٹھی –انگلش ڈکشنری ہے۔ اس کا نام چاؤ س ڈکشنری ہے۔

بمبئی کے ایک بڑے گجراتی بک سیلر نے کہا کہ ’’چاؤس‘‘ کا نام اب بک ٹریڈ میں ایک برانڈ بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی تازہ کتاب(چاؤس ڈکشنری) مارکیٹ میں آئی تو لوگوں نے صرف ٹائٹل دیکھ کر اس کو خرید لیا۔ ان کو یقین تھا کہ جس کتاب کا آتھر چاؤس ہے وہ یقینا اچھی کتاب ہوگی۔

other sourceWords of another person or source

مسٹر عبدالسلام چاؤس کے بھائی عبدالرحمن چاؤس (پیدائش ۱۹۷۵) انٹرنیشنل بک فئر کے تحت دہلی آئے۔ وہ اِس بک بزنس میں اپنے بھائی کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ اب ’’چاؤس برادرس‘‘ کے نام سے ہر جگہ مشہور ہوگیے ہیں۔ چاؤس کا نام اب عزّت کا ایک نام بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ آپ کے بتائے ہوئے اصول ’’دینے والے بنو‘‘ کا کرشمہ ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں اس کا عملی تجربہ کیا ہے۔ مراٹھی بولنے والوں کو ہم نے ایسی کتابیں دیں جو اُن کی ضرورت تھیں لیکن وہ مارکیٹ میں موجود نہ تھیں۔ چنانچہ اِن کتابوں کی عمومی مقبولیت کی راہ میں کوئی فرقہ وارانہ تعصّب حائل نہیں ہوا۔ ’’چاؤس بردس‘‘ کو برابر اعتراف کے خطوط ملتے رہتے ہیں۔ حال میں ایک ہندو نے ان کی ایک کتاب کے بارے میں اپنے خط میںلکھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

This is the thing we wanted most.

یہ لوگ اپنی کتابوں کے اشتہارانگریزی اور مراٹھی اخبارات میں دیتے ہیں۔ یہ تمام اخبارات ہندو لوگوں کے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا معاملہ حد درجہ کو آپریٹیو ہوتا ہے۔ مثلاً مسٹر بال ٹھاکرے کا مراٹھی اخبار ’’سامنا‘‘ ایک ڈیلی اخبار ہے۔ ا س میں ان کی کتابوں کے اشتہار چھپے ہیں۔ سامنا والوں نے ان کی اتنی زیادہ قدر دانی کی کہ بہت زیادہ رعایتی ریٹ پَر اُن کے اشتہارات چھاپنے لگے۔ عام مسلمان بال ٹھاکرے کو بطور خود مسلم دشمن سمجھتے ہیش۔ مگر چاؤس بردرس کے لیے وہ ایک بہترین دوست بن گیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیامیں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ ہماری اپنی جھوٹی سوچ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لیتی ہے۔ یہ لوگ مہاراشٹر کے انگریزی، مراٹھی اور ہندی اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دیتے ہیں۔ ان کی بزنس کا بہت بڑا انحصار ان اخبارات پر ہے۔ اِن تمام اخبارات کے مالک ہندو ہیں۔ مگر وہ ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ رعایت کا معاملہ کرتے ہیں۔

ناگپور میں میری ملاقات مسٹر عبدالسلام چاؤس سے ہوئی تو میں سب سے زیادہ متاثر ان کی سادگی سے ہوا۔ میںان کے گھر پر بھی گیا۔ لیکن میں نے پایا کہ ان کی پوری زندگی حد درجہ سادی کی زندگی ہے۔ مثلاً وہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے بڑی گاڑی رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ابھی تک ماروتی کی چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اِسی طرح ان کی پوری زندگی سادگی پر مبنی ہے۔ آمدنی کی نسبت سے ان کی سادہ زندگی ایک انوکھا نمونہ ہے۔

سادگی کااصول انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سادگی، آدمی کو اِس قابل بناتی ہے کہ اس کی نظر اصل نشانے سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کا وقت اور اس کا پیسہ اور اس کی توجہ سب کا سب صرف ایک چیز پر خرچ ہو، اوروہ اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ مسٹر عبد الرحمن چاؤس نے اِس سلسلے میں کہا— بامقصد انسان ہمیشہ ایک قناعت پسند انسان ہوتا ہے۔ جس آدمی کے سامنے ایک مقصد ہو وہ دنیوی چیزوں کے معاملے میں ضرورت پر قناعت کرلیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں سمجھتا ہوں کہ سادگی کسی بھی انسان کی ترقی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک مقولہ ہے کہ—سادہ زندگی اور اونچی سوچ(Simple living, high thinking) ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کو زیادہ با معنی طور پر اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ —سادہ زندگی اور بڑی ترقی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Simple living, high success.

قدیم زمانے میں سادہ زندگی ایک عام چیز تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں سادہ زندگی کے لیے سخت قسم کی شعوری جدوجہد درکار ہے۔ اِس اعتبار سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا فتنہ کنزیومرازم (cunsumerism) ہے۔ قدیم ڈکشنری میں یہ لفظ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ آج کنزیومرازم نے ایک عمومی فتنے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ہر عورت اور مرد اس کا شکار ہورہے ہیں۔ لوگوں کی آمدنی کا بڑا حصہ کنزیومرگُڈس(consumer-goods) کو حاصل کرنے میں ضائع ہوجاتا ہے۔ جو شخص کنزیومرازم کے اس فتنے سے اپنے کو بچالے اس پر فانی بدایونی کا یہ شعر صادق آئے گا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فریبِ جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذ اللہ! بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھا پایا

اِس شعر میں آخری مصرعے کو اگر اس طرح پڑھا جائے تو وہ صورت حال کے عین مطابق ہوگا

بڑی مشکل سے دل کو بزمِ شاپنگ سے اٹھا پایا

مسٹر عبدالسلام چاؤس کی ایک مراٹھی کتاب انگلش اسپیکنگ کے موضوع پر ہے۔ اس کتاب کا مراٹھی نام یہ ہے انگریزی مدھیہ بولا پٹکن، یعنی انگریزی بولو فوراً۔ اِس کتاب کے ڈیڈیکشن میں انھوں نے اپنی بیوی کے بارے یہ الفاظ لکھے ہیں

An uncommon woman, her full support which includes countless sacrifices, has made this book possible.

یہ جملہ ایک چشم کُشا جملہ ہے۔ اس میں ہر آدمی کے لیے سبق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کا رول کسی انسان کی زندگی میں فیصلہ کُن رول کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی انسان کو آپ تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں تو یقین کر لیجئے کہ اس کی تباہی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ اسی طرح آپ کسی انسان کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھیں تو سمجھ لیجئے کہ اس کی کامیابی میں سب سے بڑا عامل اس کی بیوی ہے۔ یہ ایک ایسا عمومی اصول ہے جس میں شاید ہی کوئی استثناء ملے گا۔ میرے تجربے کے مطابق، اِس اعتبار سے کسی عورت کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ صبر کی حد تک سادہ زندگی کو اختیار کرنے والی ہو۔

اِس معاملے میں ایک رہنما مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میںآتا ہے کہ جب آپ مدینے میں تھے تو آپ کی ازواج نے آپ سے مزید نفقے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں بہت سے واقعات کتابوں میں بیان کیے گیے ہیں، قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں اِس کا ذکر آیا ہے۔ اِس سلسلے میں متعلقہ آیت کا ترجمہ یہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تم کو کچھ مال ومتاع دے کر خوبی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کرداروں کے لیے بڑا اجر مہیاکر رکھا ہے(الاحزاب ۲۸۔۲۹)

Qur'anQuotes the Qur'an

قرآن کی اِس آیت میں ایک وقتی واقعے کے حوالے سے ایک عمومی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ— ایک با مقصد انسان (man of mission) پُر تکلف زندگی کا تحمّل نہیں کرسکتا۔ ایک بامقصد انسان کے لیے سادگی کسی مجبورانہ روش کا معاملہ نہیں، سادگی اس کے لیے ایک عظیم اصولِ حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ بامقصد انسان کا سوچا سمجھا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنا سب کچھ مشن کی راہ میں لگانا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ یہی کرے گا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ہر پہلو سے سادگی کو اختیار کرے گا، اور اپنے مال کو صرف اپنے مشن کے فروغ میں لگائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں پیغمبر اسلام کی ازواج کو یہی حقیقت یاد لائی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تم جس انسان کی زوجیت میں ہو وہ ایک صاحبِ مشن انسان ہے۔ وہ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے جینے والا انسان ہے نہ کہ صرف اپنی ذات کے لیے جینے والا انسان۔ ایسی حالت میں تم کو جان لینا چاہیے کہ تم اگر رسول کی رفاقت چاہتی ہو تو تم کو سادہ زندگی پَر راضی ہونا پڑے گا۔ پُر راحت زندگی اور صاحبِ مشن انسان کی رفاقت، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ کے ذریعے ناگپور سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ سفر سہارا ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جیسا کہ اخباروں میںآچکا ہے، سہارا ائر لائنز اب جیٹ ایرلائنز میں شامل ہوجائے گی۔ اعلان کے مطابق، یہ شیئر ایکویزیشن سمجھوتہ ہے۔ ۵۰۰ ملین ڈالر میں حصے داری خرید کا یہ سمجھوتہ ہواہے۔

انڈیا میںآج کل پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں بہت بڑھ رہی ہیں۔ مگر انڈیا میں ہوائی سفر اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کو حکومت کے قبضے سے نکال کر مکمل طور پر پرائیویٹ کمپنیوں کو نہ دے دیا جائے۔ بظاہر یہ ایک مشکل کام معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہندستان میںتین بڑے ہوائی اڈّوں کے متعلق، یہ بات عرصے سے چل رہی ہے مگر آج تک اس کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

جیسا کہ معلوم ہے چین ایک کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود بہت زیادہ ترقی کررہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اقتصادی معاملات کو پوری طرح پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا ہے۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ انڈیا میں تین بڑے ہوائی اڈوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کی تجویز ابھی تک واقعہ نہ بن سکی۔ جب کہ چین میں ۸۰ ہوائی اڈوں کو پوری طرح پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا گیا ہے۔ اِس بنا پر وہاں بین اقوامی تجارت کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہو ا ہے۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۶ کی شام کو ساڑھے آٹھ بجے دہلی ایر پورٹ پہنچا۔ ایئر پورٹ سے باہر آکر جب میں گاڑی میں بیٹھا تو سعدیہ نے ایک انوکھی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی ہوم ِسک (homesick)ہے۔ مگرزیادہ صحیح بات یہ ہے کہ تمام لوگ پیراڈائز ِسک (paradise-sick) ہیں۔

ہر عورت اور مرد اپنے دل میں پَیراڈائز کی یاد لیے ہوئے ہیں۔ وطن سے دوری کا احساس جس کو لوگ عام طورپر ہوم ِسک سمجھ لیتے ہیں وہ در اصل زیادہ بڑے پیمانے پر پیراڈائز ِسک ہونے کا معاملہ ہے۔ جنت کے شعور سے بے خبر ہونے کی بنا پر یہ لوگ اپنے احساس کو اپنے گھر سے جوڑ دیتے ہیں۔ اگر انھیں جنت کا شعور حاصل ہو تو وہ جان لیں گے کہ وہ دراصل پیراڈائز ِسک تھے، اگر چہ انھو ں نے غلطی سے اپنے آپ کو ہوم سک سمجھ لیا۔یہ بات سعدیہ نے انگریزی میں کہی تھی میں نے اس کو یہاں اردو میں منتقل کرکے لکھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
unverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it