← Al-Risala June 2004Al-Risala June 2004
جہادِ اکبر کیا ہے
Urdu · 4 min read
روزنامہ نوائے وقت (۷ مئی ۲۰۰۴) میں ایک مضمون ’’جہاد کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے نظر سے گذرا ۔ اس مضمون میں جہاد کے حوالہ سے کئی باتیں بتائی گئی تھیں۔ اس مضمون میں جہاد کو مسلّح قتال کے ہم معنیٰ بتایا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں کہا گیا تھا کہ:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’جہاد کا مقصد دنیا میں امن، راحت اور سکون قائم کرنا ہے۔ جہاد حق اور سچائی کے لیے جنگ کرنے کو کہتے ہیں۔‘‘
مضمون سے بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جہاد یہ ہے کہ لوگوں سے جنگ کرکے انسانی دنیا میں مذکورہ حالت قائم کی جائے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ مذکورہ مقاصد کا کوئی تعلق جنگ سے نہیں۔ یہ مقاصد صرف پُر امن تبلیغ کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے۔ لوگوں کو ایک خدا کا پرستار بنایا جائے۔ لوگوں کے اندر محاسبۂ آخرت کا ذہن پیدا کیا جائے۔ فکری جدوجہد کے ذریعہ لوگوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ بااُصول زندگی گذارنے کو اپنی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھنے لگیں۔ یہ مقصد ذہن کی اصلاح کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قتل و خون کا میدان گرم کرنے سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جہاد کے موضوع پر آج کل کثرت سے مضامین شائع کیے جارہے ہیں۔ ان مضامین یا کتابوں میں سب سے زیادہ جامع ان کو سمجھاجاتا ہے جن میں جہاد کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں— نفس سے جہاد اور شیطان سے جہاد اور دشمن سے جہاد۔ مگر اس مقبول تعریف میں وہ چیز چھوٹ گئی ہے جس کو قرآن میں جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔ اور یہ دعوت الی اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاہدہم بہٖ جھادا کبیرا (الفرقان ۵۲)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان کے اوپر قرآن کے ذریعہ بڑا جہاد کرو۔ اس بڑے جہاد یا جہاد اکبر سے مراد یہ ہے کہ غیر مسلموں تک اسلام کا ربّانی پیغام پہنچانا۔ اسی کا نام دعوت و تبلیغ ہے اور یہی قرآن کے مطابق، سب سے بڑا جہاد ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جہاد کے موضوع پر لکھنے اوربولنے والے لوگ اس سب سے بڑے جہاد سے اتنا زیادہ بے خبر ہیں کہ وہ جہاد کی فہرست میں اس کو اب تک شامل نہ کرسکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوا کہ دعوت و اصلاح کی پُرامن کوشش بڑا جہاد ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہتھیار کے ذریعہ مسلّح کوشش چھوٹا جہاد۔ دونوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ یہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے جس کو نفسیات اور تاریخ کے مطالعہ سے آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔
مسلّح جدوجہد یا مسلّح جہاد ایک دفاعی عمل ہے۔ کسی نے آپ کے اوپر حملہ کیا اورآپ نے بھی اُس کے اوپر جوابی حملہ کردیا۔ اس قسم کا عمل محدود دائرہ میں ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ ہر پہلو سے ایک چھوٹا عمل ہے۔ مثلاً رسول اللہ کے مکی دور میں دعوتی جہادکیا گیا اور وہ مسلسل تیرہ سال تک جاری رہا۔ جب کہ غزوۂ احد کے موقع پر مسلّح جہاد کیا گیا اور وہ صرف آدھے دن میں ختم ہوگیا۔
دعوتی جہاد کامل طورپر ایک پُر امن عمل ہے۔ دعوتی جہاد کا نشانہ یہ ہے کہ انسان کو بدلا جائے۔ انسان کو اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ایک نیا انسان بنایا جائے۔ انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کی جائے جس کو خدا کی معرفت کہا جاتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ میں ایسی تبدیلی لائی جائے کہ وہ مادی دنیا سے اپنے آپ کو اوپر اُٹھائے اورآخرت کی جنت کو اپنا مرکزِ توجہ بنائے۔
یہ انسان کے اندر فکری انقلاب (intellectual revolution) لانے کا عمل ہے۔ اور انسان کے اندر فکری انقلاب لانا بلا شبہہ پہاڑوں کو توڑنے اور سمندروں کو خشک کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو بڑا جہاد کہاگیا ہے۔
جنگ یا مسلّح عمل کے ذریعہ ملک کو فتح کیا جاسکتا ہے۔ مگر دلوں اور دماغوں کو فتح کرنا صرف پُرامن کوشش کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ پُر امن کوشش یا دعوتی عمل بلاشبہہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ خدا کے یہاں دعوتی عمل کے اوپر جو انعام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ کسی بھی دوسرے عمل کے اوپر مقرر نہیں کیا گیا۔