خدا نے موجودہ دنیا کے نظام کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کسی کو بھی تمام چیزیں نہیں مل سکتیں، خواہ وہ بڑا آدمی ہو یا چھوٹا آدمی۔ ولکم فیہا ما تشتہی انفسکم (فصلت ۳۱) کی دنیا کسی کو صرف اگلی زندگی میں جنت میں مل سکتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیںکہ وہ اپنی ہر مطلوب چیز کو پالے، اس کی ہر خواہش پوری ہوجائے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی مایوسی (frustration) کا شکار نظر آتا ہے، ہر آدمی ذہنی تنائو میں مبتلا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے۔ آدمی کو سو میں سے ننانوے چیز مل جائے اور صرف ایک چیز نہ ملے تب بھی وہ پریشان رہتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے سو چیزوں سے کم پر راضی نہیں ہوتا اور فطرت کے قانون کے مطابق سو چیز اس کو کبھی نہیں ملتی۔ خواہش اور واقعہ کے درمیان اسی تضاد نے تمام لوگوں کو ذہنی سکون سے محروم کررکھا ہے۔
اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ الہٰکم التکاثر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں۔ یہ نفسیات آپ کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن جائے گی۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ قناعت ہے۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کو ملے اس کو آپ فطرت کی تقسیم کا نتیجہ سمجھ کر اس پر راضی ہوجائیں۔ حرص کا مطلب فطرت کی تقسیم پر راضی نہ ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں قناعت کامطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی تقسیم پر راضی ہوجائے۔ ذ ہنی سکون اور ذہنی بے سکونی کا سبب تمام تر یہی ہے۔ آدمی اگر جان لے کہ جو کچھ ہوا وہ فطرت کے قانون کے تحت تھا، وہ انسانی ظلم کی بنا پر نہ تھا، تو وہ غیرضروری پریشانیوں سے بچ جائے۔
یہی بات ایک حدیثِ رسول میں اس طرح کہی گئی ہے: قد افلح من أسلم و رزق کفافاً و قنعہ اللہ بما آتاہ (مسند احمد، جلد ۲، صفحہ ۱۶۸) یعنی وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اسلام کو اپنایا اور اُس کو بقدرِ کفاف رزق ملا۔ اور اللہ نے اس کو اُس پر قانع بنا دیا جو اُس نے اُس کو دیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔