Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2020
Al-Risala July 2020

غیر ضروری کلام سے بچئے

Urdu · 2 min read

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ دیر تک میرے پاس رہے۔ جب وہ جانے لگے تو انھوںنے مجھ سے کہا کہ مجھ کو کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے اُن سے ان کی ڈائری مانگی۔ انھوںنے کہا کہ میرے پاس ڈائری نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک کاغذ پر یہ نصیحت لکھ کر انھیں دے دی— اپنے آپ کو غیر ضرور ی کلام سے بچائیے:

Save yourself from unnecessary talk.

اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیر ضروری باتیں کرتے ہیں۔ غیر ضروری باتیں کرنے والوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ جب وہ بولنا شروع کریں گے تووہ بولتے ہی رہیں گے، وہ خود سے چپ نہیں ہوں گے، جب تک آپ مداخلت کرکے اُنھیں چپ ہونے پرمجبور نہ کردیں۔

ایسا کیوںہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دماغ میں بے شمار باتیں بھری ہوئی ہیں۔ جب آدمی بولتا ہے تو یہ تمام باتیں اس کے حافظے میں آنے لگتی ہیں۔

ایسی حالت میں منضبط کلام صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو باتوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرنا جانتا ہو۔ وہ کسی بات کے غیر متعلق (irrelevant)پہلوؤں کو الگ کردے اور صرف متعلق (relevant) پہلو کو گفتگو کے وقت اپنے سامنے رکھے۔ وہ خود سوچ کر یہ جان لے کہ سننے والا اصلاً کس بات کو سننا چاہتا ہے۔

بیش تر لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ گفتگو اور تقریر دونوں میں لمبی لمبی باتیں کرتے ہیں اور سننے والا کچھ سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیںاور اُن کا نقطہ نظر کیا ہے۔

بولنے سے پہلے سوچئے، پیشگی طورپر یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ موقع کی نسبت سے آپ کو کیا بات کہنا ہے اور کیا بات نہیں کہنا ہے، بولئے کم اور سنئے زیادہ — یہی وہ صفت ہے جو آپ کو غیر ضروری کلام (unnecessary talk) سے محفوظ رکھے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.