Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2020
Al-Risala July 2020

زندگی کی تعمیر

Urdu · 2 min read

ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ بظاہر وہ مایوسی کا شکار تھے۔انھوں نے کہا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے اور اپنی تعمیر کا منصوبہ ایک انسان کو کس طرح بنانا چاہیے۔

میںنے کہا کہ اِس معاملے میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ خود اپنی ذات کا مطالعہ کرکے اپنے فطری امکانات (potentials) کو دریافت کریں، اور اس کے بعد حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو استعمال کریں۔

میں نے اپنے تجربے میں پایا ہے کہ بیش تر لوگ مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ وہ مایوسی کے احساس میں جیتے ہیں اور مایوسی میں مرجاتے ہیں۔ اِس المیہ کا بنیادی سبب کیا ہے۔ وہ سبب یہی ہے کہ بیش تر لوگ اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز نہیں پاتے، اور جب آپ صحیح نقطۂ آغاز کو نہ پائیں تو آپ کی تمام سرگرمیاں آپ کے مطلوب کے اعتبار سے بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔

احساسِ ناکامی کیا ہے، یہ دراصل اپنے کم تر استعمال (under-utilization) کا نتیجہ ہے، جو شعوری یا غیر شعوری طورپر ہر انسان کو لاحق رہتا ہے۔ جب آپ اپنی امکانیات کو استعمال نہ کرسکیں تو آپ کو برابر یہ احساس ستاتا رہے گا کہ آپ جس چیز کو پانا چاہتے تھے، اس کو آپ نہ پاسکے۔ اِسی کا نام احساسِ مایوسی ہے۔ اِس احساس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جانے بغیر زندگی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جو لوگ اِس غلطی کا شکار ہوں، اُن کودوبارہ درست نقطۂ آغاز صرف اُس وقت ملے گا جب کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ میں غلطی پر تھا۔

زندگی کی تعمیر کا پہلا مرحلہ دریافت سے شروع ہوتا ہے۔ اور اگر آدمی دریافت میں ناکام ہوجائے تو اس کے بعد زندگی کا اگلا منصوبہ اپنی غلطی کے اعتراف سے شروع ہوگا۔ جوآدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ کبھی اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی نہ کرسکے گا، اس کا ماضی بھی ناکام رہے گا اور اس کا مستقبل بھی ناکام۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.