Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2016
Al-Risala July 2016

سماجی تعلقات

Urdu · 2 min read

قرآن میں انسانی زندگی کے ایک پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا (25:54)اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔ اور تمھارا رب بڑی قدرت والا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کو سماجی حیوان (social animal) کہا جاتا ہے۔ حیوانوں کے اندر سماجی تعلقات نہیں ہوتے۔ جب کہ انسانوں کے درمیان سماجی تعلقات ہوتے ہیں۔ یہ سماجی تعلقات دو طریقہ سے قائم ہوتے ہیں۔ ایک ، خونی رشتہ (blood relationship)کے ذریعے، اور دوسرے، ازدواجی تعلقات (wedlock) کے ذریعے۔ یہ دونوں چیزیں فطری طور پر انسان کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ انسان کی اسی فطرت کی بنا پر سماج (society) بنتا ہے، اور اسی کی ترقی سے تہذیب وجود میں آتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اگر سماج نہ ہو تو تہذیب کا وجود بھی نہ ہوگا۔

انسان کو اللہ تعالی نے جن امتیازی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا ہے، ان میں سے ایک اہم صفت وہ ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیا ن کی گئی ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر رشتے کے مذکورہ اسباب موجود نہ ہوں تو انسانوں کے درمیان سماج نہیں بنے گا۔ اور اگر سماج نہ بنے تو انسانوں کے اندر اجتماعیت وجود میں نہ آئے گی۔ انسان بھی اسی طرح جنگلوں میں رہے گا، جس طرح حیوانات جنگلوں میں رہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنگل میں حیوانات رہتے ہیں لیکن ان کے درمیان سماجی نوعیت کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ سماجی تعلقات صرف انسان کی صفت ہے۔ سماجی تعلقات کی بے حد اہمیت ہے۔ اسی سماجی تعلقات کی وجہ سے انسانی زندگی کی تمام ترقیاں ہوتی ہیں۔ حتی کہ تہذیب اسی سماجی زندگی کا ایک اعلی اظہار ہے۔ سماجی تعلقات نہ ہوں تو انسانی زندگی بھی حیوانی زندگی بن کر رہ جائے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content