امریکا کی قیادت میں صدام حسین کے خلاف عرا ق کی جنگ ہوئی۔ یہ جنگ 2003 سے 2009 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں بظاہر امریکا کو جیت ہوئی۔ لیکن اس کے بعد اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (ISIS) کی صورت میں ایک شدید تر مسئلہ پیدا ہوگیا۔ سابق برطانی وزیر اعظم ٹونی بلیر جو اس جنگ میں بطور حلیف شریک تھے، انھوں نے اس جنگ کو ایک غلطی قرار دیا ہے :
Iraq war contributed to rise of IS: Britain’s former PM Tony Blair has apologised for mistake made over the Iraq war and said there were '“elements of truth” to claims that the 2003 US-led invasion was the principle cause of the rise of IS. (The Times of India, New Delhi, October 26, 2015, p.22)
اس معاملے میںزیادہ صحیح بات یہ ہے کہ عراق وار انتخاب کی غلطی کا ایک کیس تھا۔ اس جنگ میں امریکا اور برطانیہ کے چار ہزار سے زیادہ فوجی مارے گیے۔ اس جنگ کا خرچ تقریبا تین ٹریلین ڈالر تھا۔ لیکن نتیجہ برعکس صورت میں نکلا، خلیج کا مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ شدید ہوگیا۔
اصل یہ ہے کہ جنگ کی نفسیات کے مطابق ، جنگ کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ہرادے۔ عملا یہ ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ منفی ردعمل کا یہ جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اگر اس کے اندر جوابی جنگ کی طاقت نہ ہو تو وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہلاک کر کے فریقِ ثانی کو نقصان پہنچانا۔ جنگ کوئی انتخاب (choice) نہیں۔ صحیح انتخاب یہ ہے کہ جنگی صورتِ حال کو پر امن طور پر مینج کرنے کی کوشش کی جائے۔اپنے آپ کو مثبت بنیادوں پر اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ خود مثبت تعمیر فتح کے لیے کافی ہوجائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔