منافقت (hypocrisy) ایک عام انسانی کردار ہے۔ منافقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر دہرا معیار (duplicity) کا انداز پایا جاتا ہو۔ ایسا آدمی دو چہرے والا (double-faced) آدمی ہوتا ہے۔ و ہ گفتگو میں اپنے آپ کو جیسا ظاہر کرتا ہے، اندر سے وہ ویسا نہیں ہوتا ۔ ایسے لوگوں کو حضرت مسیح نے ’’سفیدی پھری ہوئی قبروں‘‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ یعنی اندر سے تو وہ تاریک کردار کا آدمی ہے مگر باہر سے وہ اپنے آپ کو صاف ستھرا بنائے ہوئے ہے۔
عربی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ’نافق الیربوع ‘ یعنی جنگلی چوہا سوراخ میں داخل ہوگیا۔ یہ ایک چھوٹا چوہا ہے جو اپنے آپ کو بل میں چھپائے رہتا ہے۔ یہی حال منافق انسان کا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو مصنوعی الفاظ بول کر چھپائے رہتا ہے۔ حالاں کہ اس کی اصل شخصیت اس کے بول سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
منافق انسان دنیوی پہلو سے بھی ناقابل اعتبار ہوتا ہے، اور دینی پہلو سے بھی ناقابل اعتبار۔ ایسا آدمی اگر چہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح چھپائے رکھے لیکن دوسرے انسان کہیں نہ کہیں اس کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔
منافق انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قابل پیشین گوئی کردار (predictable character)کا حامل نہیں ہوتا۔ایسے انسان کے اوپر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ وہ زبان سے کچھ اور بولتا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں بظاہر اچھا نظر آتا ہے لیکن اپنے حقیقی کردار کے اعتبار سے وہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ منافق آدمی حیوان سے بھی کم تر درجے کا آدمی ہے۔ اس لیے کہ حیوان اپنے کردار کو چھپاتا نہیں، جب کہ منافق ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کا اصل کردار لوگوں کی نظروں سے چھپارہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔