رتن سنگھ (پیدائش 1927) اردو کے ایک مشہور ادیب ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران ان کے انٹرویور ڈاکٹرریحانہ سلطانہ نے ان سے پوچھا، آپ اپنی نمائندہ کہانی کس کہانی کو مانتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا، نمائندہ کہانی تو ابھی مجھے لکھنی ہے۔ کب سرسوتی مہربان ہوجائے، کہہ نہیں سکتا۔ (ماہنامہ اردو دنیا، دہلی، اکتوبر2015، صفحہ 9) نوبیل انعام یافتہ رابندر ٹیگور نے اپنی کتاب گیتانجلی میںاپنے بارے میں لکھا ہے : ساری عمر بینا کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گاسکا۔
یہ احساس تقریبا ہر ادیب اور صاحبِ قلم کے یہاں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر آئڈلسٹ (idealist) ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے آئڈیل کو لفظوں میں ڈھال سکے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب ایک فطری تضاد ہے جس سے ہر انسان زندگی میں دوچار رہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فطرت سے وہ خود تومعیار پسند مزاج لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن اپنے خیال کےاظہار کے لیے اس کے پاس جو الفاظ ہوتے ہیں، وہ معیار سے کمتر ہوتے ہیں۔ اس تضاد کی بنا پر ہر باذوق انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ عملاً ایک تشنگی میں جیتا ہے، اور آخرکار اسی تشنگی میں مرجاتا ہے ۔
انسان کی اس تشنگی کے پورا ہونے کا مقام صرف جنت ہے۔ یہ تشنگی اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ انسان اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچے، جو آدمی حقیقی معنوں میں متلاشی (seeker) بن کر اس پر غور کرے گا، وہ ضرور اس کا جواب پالے گا۔ اور پھر اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس چیز کو اپنی تلاش کی منزل بنائے— انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے۔ انسان طالب ہے، اور جنت اس کا مطلوب۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو جانے، اور اس کو اپنا منزل مقصود بنائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔