انسان کا دماغ ایک بے حد پیچیدہ مشین ہے- اس کے مختلف پہلو ہیں- اس کا ایک نازک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں داخل ہوجائے تو وہ انسان کے شعور (کانشش مائنڈ) پر غالب آجاتی ہے- ایسی چیز کو انسان بلا ارادہ دہراتا رہتا ہے- اگر وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اس کو روکنا چاہے تو صرف وقتی طورپر شعور اس کے اوپر موثر ہوگا- جیسے ہی شعور میں کوئی دوسری بات آئی فوراً لاشعور اپنا کام کرنے لگے گا-
انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اپنا سخت محاسبہ کرتا رہے- وہ کوشش کرے کہ وہ کسی چیز کا اتنا عادی نہ بنے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیوں کہ ایسا ہوتے ہی وہ انسان کے شعور کی پکڑ سے باہر ہوجائے گا- انسان غلطی کرے گا اور وہ یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلطی کررہا ہے-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ تم ایسے اعمال سے بچو جن کے کرنے سے تمھارے اعمال حبط ہوجائیں، حالانکہ تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو (49:2) -اس کا تقاضا ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہے- وہ اس بات کی بہت زیادہ کوشش کرے کہ کوئی غلط عادت اس پر اتنی زیادہ نہ چھا جائے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیونکہ ایساہونے کے بعد وہ غلط کام کرے گا جب کہ وہ شعوری طورپر یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلط کام کررہا ہے- لیکن آیت کے مطابق لاشعور کے تحت غلط کام کرنا بھی قابل مواخذہ ہے- اس لئے آدمی کو اس معاملہ میں بہت زیادہ چوکنا ہونا چاہئے-
لاشعور کے تحت کیا ہوا عمل بھی کیوں قابل مواخذہ ہے، یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے کہی گئی ہے- آپ اپنے لاشعور کے تحت غلطی کریں، تب بھی اس کا نتیجہ غلط ہی نکلے گا- ایسا نہیں ہوسکتا کہ لاشعور کے تحت کی ہوئی غلطی اپنا نتیجہ ظاہر نہ کرے- ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے، اور اس کے بعد عمل کرے-ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان اپنے عمل کے بارے میں آخری حد تک حساس بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔