رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن شر الناس ذوالوجہین الذی یأتی ہؤلاء بوجہٍ، وہؤلاء بوجہٍ (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 7179) یعنی لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جو دو چہرے والا ہو، وہ کچھ لوگوں سے ایک چہرہ کے ساتھ ملے اور کچھ سے دوسرے چہرے کے ساتھ-
یہ وہی کردارہے، جس کو دوہرا معیار (double standard) کہاجاتا ہے- کوئی انسان ایسا رویہ کیوں اختیار کرتاہے- اِس کا سبب مفاد پرستی ہے-ایسے شخص کا اصل کنسرن (concern) یہ ہوتاہے کہ اس کا مادی مفاد مجروح نہ ہونے پائے- وہ ہر ایک سے فائدہ حاصل کرسکے- اس مقصد کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار کرتاہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کرے کہ ہر ایک اُس کو اچھا سمجھے- کسی سے اُس کا بگاڑ نہ ہونے پائے- یہی مزاج اُس آدمی کو دوہرا معیار والا شخص بنادیتاہے-
اِس قسم کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد اُس کو یہ وقتی فائدہ تو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نظر میںاچھا انسان بن جاتا ہے، لیکن اِس طریقہ کا شدید تر نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی اصول نہیں ہوتا- اُس کے اندر وہ برائی پیدا ہوجاتی ہے، جس کو بے اصولی کی روش (unprincipled behaviour)کہا جاتاہے- یہی وہ کردار ہے، جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہاگیاہے-
منافقانہ روش کادوسرا نقصان یہ ہوتاہے کہ ایسے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل رک جاتا ہے- خالق نے اس کی فطرت میں جو ارتقائی امکانات رکھے ہیں، وہ سب کے سب بند پڑے رہتے ہیں، وہ اپنا ظہور نہیں پاتے- یہاں تک کہ ایسا انسان دھیرے دھیرے حیوان بشکل انسان بن کر رہ جاتا ہے- وہ بظاہر خوبصورت الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ اعلی کیریکٹر سے یکسر محروم ہوتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔