کہاجاتاہے کہ سائنس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ زیاہ تر اتفاقات کا نتیجہ ہیں- ریسرچ کے دوران کوئی اتفاقی واقعہ پیش آتاہے، اس سے ایک سائنس داں کا ذہن ایک امکان کی طرف منتقل ہوجاتاہے اور پھر اس پر مزید کام کرکے سائنس داں ایک حقیقت تک پہنچتاہے:
The role of chance in science, or luck in science, describes the ways that unexpected discoveries are made. Somewhere between 30% and 50% of all scientific discoveries are in some sense accidental.
Louis Pasteur said: “Luck favours the prepared mind”.
یہ بات جس طرح سائنس کے لیے درست ہے، اُسی طرح وہ دوسری دریافتوں کے لیے بھی درست ہے- مذہب میں بھی ایسے ہی ہوتاہے کہ ایک آدمی، جب اپنے آپ کو مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ تیار کرتا ہے تو وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ کسی بات کے ظاہری معنی کے ساتھ اُس کے اندر چھپی ہوئی حکمت کو بھی جان لے- اس معاملہ کو قرآن میںتوسم کہاگیاہے- ایسا آدمی اِس قابل ہوتاہے کہ وہ معمولی باتوںسے غیر معمولی نتیجہ اخذ کرسکے-
اصل اہمیت یہ ہے کہ انسان مطالعہ اور مشاہدہ اور غوروفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- وہ اپنے اندر اخذ واستنباط کی صلاحیت پیدا کرے- وہ اپنی تفکیری صلاحیت کو مسلسل ترقی دیتا رہے- جو انسان ایسا کرے، وہ ایک تیار ذہن ہے- ایسے انسان کا دماغ، مقناطیس کی مانند ہوجائے گا- جب بھی کوئی ذرۂ معرفت اُس کے سامنے آئے گا، وہ فوراً اُس کو اخذ کرلے گا- یہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں عارف انسان کہاگیاہے-
اصل یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے ایک تیار ذہن بنا رکھا ہو۔ جب ایسا ہوگا تو وہ معلوم کے درمیان نامعلوم کو جان لے گا، وہ ظاہر کے درمیان مخفی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔